اردو غزل

  1. فرقان احمد

    مجھے کسی کا بُھلایا ہوا ہنرجانو ::: حسن عزیز

    مجھے کسی کا بُھلایا ہوا ہنرجانو۔۔۔! نواحِ خاک سے نکلوں تو معتبر جانو! غبار میں جو چمکتی سی ایک شے ہے اُسے شرارِ وہم کہو ۔۔۔۔۔۔ یا گلِ نظر جانو! شعاعِ خوں اُبھر آئی ہے میری آنکھوں میں میں قیدِ شب میں ہوں مجھ کو نہ بے خطر جانو جُھلس چکے ہیں کڑی دھوپ میں سبھی اشجار صدائے سبز کو اُمید کی خبر جانو...
  2. فرقان احمد

    دل تھا پہلو میں تو کہتے تھے تمنا کیا ہے ::: توصیف تبسم

    دل تھا پہلو میں تو کہتے تھے تمنا کیا ہے ۔۔۔! اب وہ آنکھوں میں تلاطم ہے کہ دریا کیا ہے! شوق کہتا ہے کہ ہر جسم کو سجدہ کیجے ۔۔۔! آنکھ کہتی ہے کہ تو نے ابھی دیکھا کیا ہے! ٹوٹ کر شاخ سے اک برگِ خزاں آمادہ! سوچتا ہے کہ گزرتا ہوا جھونکا کیا ہے ۔۔۔! کیا یہ سچ ہے کہ خزاں میں بھی چمن کھِلتے ہیں میرے...
  3. کاشفی

    اے جنوں کچھ تو کُھلے آخر میں کس منزل میں ہوں - سُرُور بارہ بنکوی

    غزل (سُرُور بارہ بنکوی) اے جنوں کچھ تو کُھلے آخر میں کس منزل میں ہوں ہوں جوارِ یار میں یا کوچۂ قاتل میں ہوں پا بہ جولاں اپنے شانوں پر لیے اپنی صلیب میں سفیرِ حق ہوں لیکن نرغۂ باطل میں ہوں جشنِ فردا کے تصور سے لہو گردش میں ہے حال میں ہوں اور زندہ اپنے مستقبل میں ہوں دم بخود ہوں اب سرِ...
  4. کاشفی

    دست و پا ہیں سب کے شل اک دست قاتل کے سوا - سُرُور بارہ بنکوی

    غزل (سُرُور بارہ بنکوی) دست و پا ہیں سب کے شل اک دست قاتل کے سوا رقص کوئی بھی نہ ہوگا رقص بسمل کے سوا متفق اس پر سبھی ہیں کیا خدا کیا ناخدا یہ سفینہ اب کہیں بھی جائے ساحل کے سوا میں جہاں پر تھا وہاں سے لوٹنا ممکن نہ تھا اور تم بھی آ گئے تھے پاس کچھ دل کے سوا زندگی کے رنگ سارے ایک تیرے...
  5. کاشفی

    فصلِ گُل کیا کر گئی آشفتہ سامانوں کے ساتھ - سُرُور بارہ بنکوی

    غزل (سُرُور بارہ بنکوی) فصلِ گُل کیا کر گئی آشفتہ سامانوں کے ساتھ ہاتھ ہیں الجھے ہوئے اب تک گریبانوں کے ساتھ تیرے مے خانوں کی اک لغزش کا حاصل کچھ نہ پوچھ زندگی ہے آج تک گردش میں پیمانوں کے ساتھ دیکھنا ہے تا بہ منزل ہم سفر رہتا ہے کون یوں تو عالم چل پڑا ہے آج دیوانوں کے ساتھ ان حسیں...
  6. کاشفی

    جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں - محبوب خزاں

    غزل (محبوب خزاں) جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں یہاں تو اہل سخن آدمی سے کھیلتے ہیں نگار مے کدہ سب سے زیادہ قابل رحم وہ تشنہ کام ہیں جو تشنگی سے کھیلتے ہیں تمام عمر یہ افسردگان محفل گل کلی کو چھیڑتے ہیں بے کلی سے کھیلتے ہیں فراز عشق نشیب جہاں سے پہلے تھا کسی سے کھیل چکے ہیں کسی...
  7. فرقان احمد

    ہر طرف زخمِ ضرورت کے فروزاں ہیں چراغ ::: جاوید زیدی

    ہر طرف زخمِ ضرورت کے فروزاں ہیں چراغ اک مگر طاقِ محبت کے پریشاں ہیں چراغ ! خوف و نفرت کی فضا ہے کہ تصور ہے مرا ۔۔۔! خانہء دل میں جو جھانکو تو ہراساں ہیں چراغ! جن کو سودا تھا چراغاں کا، بجھے وہ سرِشام ۔۔۔! ظلمتوں کے جو پیمبر ہیں، رگِ جاں ہیں چراغ دشتِ ہجرت کی ہواؤں میں بھی جل اُٹھتے ہیں صاحبو...
  8. کاشفی

    جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا - شہریار

    غزل (شہریار) جہاں میں ہونے کو اے دوست یوں تو سب ہوگا ترے لبوں پہ مرے لب ہوں ایسا کب ہوگا اسی امید پہ کب سے دھڑک رہا ہے دل ترے حضور کسی روز یہ طلب ہوگا مکاں تو ہوں گے مکینوں سے سب مگر خالی یہاں بھی دیکھوں تماشا یہ ایک شب ہوگا کوئی نہیں ہے جو بتلائے میرے لوگوں کو ہوا کے رخ کے بدلنے سے...
  9. کاشفی

    یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعد - کفیل آزر امروہوی

    غزل (کفیل آزر امروہوی) یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعد غزل کسی کو کہا ہی نہیں ہے تیرے بعد ہے پر سکون سمندر کچھ اس طرح دل کا کہ جیسے چاند کھلا ہی نہیں ہے تیرے بعد مہکتی رات سے دل سے قلم سے کاغذ سے کسی سے ربط رکھا ہی نہیں ہے تیرے بعد خیال خواب فسانے کہانیاں تھیں مگر وہ خط تجھے بھی...
  10. کاشفی

    اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے - کفیل آزر امروہوی

    غزل (کفیل آزر امروہوی) اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے کسی کم ظرف کو با ظرف اگر کہنا پڑے ایسے جینے سے تو مر جانے کو جی چاہتا ہے ایک اک بات میں سچائی ہے اس کی لیکن اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے قرض ٹوٹے ہوئے خوابوں کا ادا ہو جائے...
  11. فرقان احمد

    تمام عمر عجب کاروبار ہم نے کیا ::: نور بجنوری

    تمام عمر عجب کاروبار ہم نے کیا ۔۔۔! کھلے جو پھول تو سینہ فگار ہم نے کیا شبِ وصال کو بخشی درازیء ہجراں وہ آ گئے تو بہت انتظار ہم نے کیا نچوڑ کر تری یادوں سے پیار کی خوشبو نفس نفس کو سراپا بہار ہم نے کیا ۔۔۔! قدم قدم پہ چھڑک کر مسرتوں کا لہو زمینِ شعر تجھے لالہ زار ہم نے کیا بڑھا دیے غمِ جاناں...
  12. فرقان احمد

    وہ آ نہ سکے، وہ مل نہ سکے، یہ شکوہء بے جا کیا معنی ::: احمد ریاض

    وہ آ نہ سکے، وہ مل نہ سکے، یہ شکوہء بے جا کیا معنی یہ عشق نہیں، اک غم ہی سہی، پر ذوقِ مداوا کیا معنی! بیدرد جہاں نے جب دل کی ساری خوشیوں کو چھین لیا پھر عزتِ دنیا کیا معنی ،آدابِ زمانہ کیا معنی ۔۔۔۔۔! کلیوں کو مسلا جاتا ہے، کانٹوں سے کھیلا جاتا ہے !!! حالات ہی ایسے ہوتے ہیں، قسمت سے الجھنا کیا...
  13. فرقان احمد

    تنہائی کے سب دن ہیں، تنہائی کی سب راتیں ::: محمد علی جوہر

    تنہائی کے سب دن ہیں، تنہائی کی سب راتیں اب ہونے لگیں ان سے خلوت میں ملاقاتیں! ہر آن تسلی ہے، ہر لحظہ تشفی ہے ۔۔۔! ہر وقت ہے دل جوئی، ہر دم ہیں مداراتیں کوثر کے تقاضے ہیں، تسنیم کے وعدے ہیں ہر روز یہی چرچے، ہر رات یہی باتیں !!! معراج کی سی حاصل سجدوں میں ہے کیفیت اک فاسق و فاجر میں ۔۔۔ اور...
  14. فرقان احمد

    اپنے شہر میں بے در، بےدیوار ہوئے ::: ظفر گورکھ پوری

    اپنے شہر میں بے در، بےدیوار ہوئے میرؔ ،تمہاری طرح ہم بھی خوار ہوئے! اُس کی یاد آئی، خوشبو کے پنکھ کھلے اس کا ذکر چلا، منظر گلنار ہوئے! دیکھیں تو دہشت سی طاری ہوتی ہے اچھے خاصے چہرے تھے، اخبار ہوئے درد کے گھاؤ ہزاروں، خوشیاں چٹکی بھر اپنے موسم مفلس کا تہوار ہوئے ۔۔۔! ظفرؔ !تمہیں کچھ اپنے گھر...
  15. فرقان احمد

    انتہائے عشق میں یہ بھی کمال اُس نے کیا ::: نسیم سحر

    انتہائے عشق میں ۔۔۔ یہ بھی کمال اُس نے کیا ہجر میں میرے ہی جیسا اپنا حال اُس نے کیا شوق سے پہلے تو مجھ کو ۔۔۔ پائمال اُس نے کیا اور پھر میرے لیے ۔۔۔۔ اتنا ملال اُس نے کیا ! ہو گیا میں روبرو اُس شخص کے کیوں لاجواب! کیا بتاؤں میں کہ مجھ سے کیا سوال اُس نے کیا مٹ گئے خود اُس کے اپنے چہرے کے بھی...
  16. فرقان احمد

    دریچے قصرِ تمنا کے پھر کھلے تو سہی ::: حسن نعیم

    دریچے قصرِ تمنا کے پھر کھُلے تو سہی ملے وہ آخرِ شب میں، مگر ملے تو سہی اُدھر عدم کا یہ اصرار ۔۔۔ بس چلے آؤ! اِدھر وجود کو ضد، خاک میں ملے تو سہی جلیں گے رشک سے وہ بھی جو روشنی میں نہیں چراغِ لالہ مرے دشت میں جلے تو سہی ۔۔۔! گئی کہاں ہے ابھی چشم و دل کی ویرانی! ترے قدم سے پسِ خواب، گُل کھلے تو...
  17. فرقان احمد

    میں کس کی کھوج میں اس کرب سے گزرتا رہا (نثار ناسک)

    میں کس کی کھوج میں اس کرب سے گزرتا رہا کہ شاخ شاخ پہ کھلتا رہا ۔۔۔ ۔۔ بکھرتا رہا ! مجھے تو اتنی خبر ہے کہ مشت خاک تھا میں جو چاک مہلت گریہ پہ ۔۔۔ رقص کرتا رہا ! یہ سانس بھر مرے حصے کا خواب کیسا تھا کہ جس میں اپنے لہو سے میں رنگ بھرتا رہا عجیب جنگ رہی میری میرے عہد کے ساتھ میں اس کے جال کو ،...
  18. فاتح

    کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیا ۔ عرش ملیسانی

    کبھی اِس مکاں سے گزر گیا، کبھی اُس مکاں سے گزر گیا ترے آستاں کی تلاش میں، میں ہر آستاں سے گزر گیا ابھی آدمی ہے فضاؤں میں، ابھی آدمی ہے خلاؤں میں یہ نجانے پہنچے گا کس جگہ اگر آسماں سے گزر گیا کبھی تیرا در، کبھی دربدر، کبھی عرش پر، کبھی فرش پر غمِ عاشقی ترا شکریہ، میں کہاں کہاں سے گزر گیا یہ...
  19. کاشف اختر

    فانی امیدِ کرم کی ہے ادا، میری خطا میں

    غزل (شوکت علی خاں فانی بدایونی) امیدِ کرم کی ہے ادا، میری خطا میں یہ بات نکلتی ہے مری لغزشِ پا میں سمجھو تو غنیمت ہے، مرا گریۂ خونیں یہ رنگ ہے پھولوں میں، نہ یہ بات حنا میں جھک جاتے ہیں سجدے میں سر اور پھر نہیں اٹھتے کیا سحر ہے کافر! ترے نقشِ کفِ پا میں وہ جانِ محبت ہیں، وہ ایمانِ...
  20. کاشفی

    ایک کہانی ختم ہوئی ہے ایک کہانی باقی ہے - کمار پاشی

    غزل (کمار پاشی) ایک کہانی ختم ہوئی ہے ایک کہانی باقی ہے میں بے شک مسمار ہوں لیکن میرا ثانی باقی ہے دشت جنوں کی خاک اڑانے والوں کی ہمت دیکھو ٹوٹ چکے ہیں اندر سے لیکن من مانی باقی ہے ہاتھ مرے پتوار بنے ہیں اور لہریں کشتی میری زور ہوا کا قائم ہے دریا کی روانی باقی ہے گاہے گاہے اب بھی چلے...
Top