اردو غزل

  1. ظہیراحمدظہیر

    میں پلٹ کر وار کرتا ، حوصلہ میرا بھی تھا

    میں پلٹ کر وار کرتا ، حوصلہ میرا بھی تھا کیا کہوں میں ، دشمنوں میں آشنا میرا بھی تھا اجنبی بیگانہ تیری آشنائی کر گئی اک زمانہ تھا ، زمانہ آشنا میرا بھی تھا ہاں یہی کوئے خرابی ، ہاں یہی دہلیزِ عشق لاپتہ ہونے سے پہلے یہ پتہ میرا بھی تھا ریزہ ہائے خوابِ الفت چننے والے دیکھنا! اِن شکستہ آئنوں...
  2. ظہیراحمدظہیر

    موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن

    موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن اک عالمِ نشاط میں بولے ہوئے سخن جیسے اتر رہے ہوں دلِ تشنہ کام پر تسنیم و زنجبیل میں گھولے ہوئے سخن جیسے پروئیں تارِ شنیدن میں درِّ ناب لب ہائے لعل گوں سے وہ رولے ہوئے سخن آؤ سناؤں محفلِ شیریں سخن کی بات برہم ہوئے مزاج تو شعلے ہوئے سخن ہوتے نہیں ظہیرؔ کبھی...
  3. ظہیراحمدظہیر

    اک جہانِ رنگ و بو اعزاز میں رکھا گیا

    اک جہانِ رنگ و بو اعزاز میں رکھا گیا خاک تھا میں ، پھول کے انداز میں رکھا گیا حیثیت اُس خاک کی مت پوچھئے جس کے لئے خاکدانِ سیم و زر آغاز میں رکھا گیا -ق- اک صلائے عام تھی دنیا مگر میرے لئے کیا تکلف دعوتِ شیراز میں رکھا گیا ایک خوابِ آسماں دے کر میانِ آب و گِل بال و پر بستہ مجھے پرواز...
  4. کاشفی

    اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا - ندا فاضلی

    غزل (ندا فاضلی) اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھے روشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا پیاس جس نہر سے ٹکرائی وہ بنجر نکلی جس کو پیچھے کہیں چھوڑ آئے وہ دریا ہوگا مرے بارے میں کوئی رائے تو ہوگی اس کی اس نے مجھ کو بھی...
  5. کاشفی

    سخت نازک مزاج دلبر تھا - جلیل مانک پوری

    غزل (جلیلؔ مانک پوری) سخت نازک مزاج دلبر تھا خیر گزری کہ دل بھی پتھر تھا مختصر حال زندگی یہ ہے لاکھ سودا تھا اور اک سر تھا ان کی رخصت کا دن تو یاد نہیں یہ سمجھئے کہ روز محشر تھا خاک نبھتی مری ترے دل میں ایک شیشہ تھا ایک پتھر تھا تم مرے گھر جو آنے والے تھے کھولے آغوش صبح تک در تھا...
  6. سید ذیشان حیدر

    13- غزل برائے اصلاح

    نئی غزل پیشِ خدمت ہے۔ اصلاح کی درخواست ہے۔ ابھی زیرِ گرداب آئے ہوئے ہیں کہ طوفانوں نے سر اُٹھائے ہوئے ہیں یہ اُمید، یہ چارہ جوئی، یہ قسمت میاں میرے کس کام آئے ہوئے ہیں علاجِ غمِ جان و دل ہم سے مت پوچھ اِسی غم کے ہم بھی ستائے ہوئے ہیں مرے زخم کی دوستوں کو خبر ہے؟ قبا میں نمکداں چھپائے ہوئے...
  7. سید ذیشان حیدر

    12-غزل برائے اصلاح

    ایک نئی غزل برائے اصلاح پیشِ خدمت ہے۔ تمام اساتذہ کرام اور احباب سے تنقید و تبصرے کی درخواست ہے۔ ہواؤں کے انداز بدلے ہوئے ہیں خدا ہی بچائے مرے آشیاں کو کٹے ہوئے پیڑوں نے یہ بددُعا دی ترستے رہو اب میاں سائباں کو تو کیا شہر سارے کو ہے جان کا خوف پڑے ہوئے ہیں قفل سچ کی زباں کو سراغ ایسے بھی مل...
  8. کاشفی

    فنا نظامی کانپوری تو پھول کی مانند نہ شبنم کی طرح آ - فنا نظامی کانپوری

    غزل (فنا نظامی کانپوری) تو پھول کی مانند نہ شبنم کی طرح آ اب کے کسی بے نام سے موسم کی طرح آ ہر مرتبہ آتا ہے مہِ نو کی طرح تو اس بار ذرا میری شبِ غم کی طرح آ حل کرنے ہیں مجھ کو کئی پیچیدہ مسائل اے جانِ وفا گیسوئے پُر خم کی طرح آ زخموں کو گوارا نہیں یک رنگیِ حالات نِشتر کی طرح آ کبھی...
  9. غدیر زھرا

    فضائے صحنِ گلستاں ہے سوگوار ابھی (شریف کنجاہی)

    فضائے صحنِ گلستاں ہے سوگوار ابھی خزاں کی قید میں ہے یوسفِ بہار ابھی ابھی چمن پہ چمن کا گماں نہیں ہوتا قبائے غنچہ کو ہونا ہے تار تار ابھی ابھی ہے خندۂ گُل بھی اگر تو زیر لبی رکا رکا سا ہے کچھ نغمۂ ہزار ابھی چمن تو خیر چمن ہے نواگروں کو نہیں خود اپنی شاخِ نشیمن پہ اختیار ابھی ابھی امید کی...
  10. عاطف ملک

    برائے اصلاح: خوشی کی آرزو میں زندگی بھر غم کمائے ہیں

    غزل خوشی کی آرزو میں زندگی بھر غم کمائے ہیں تِرا دل جیتنے نکلے تھے خود کو ہار آئے ہیں چرانا چاہتا تھا زندگی سے جس کی سارے غم اسی نے زندگی بھر خون کے آنسو رلائے ہیں اسی کا ذکر ہے پنہاں،ہر اک تحریر میں میری ردیفیں قافیے سارے، اسی خاطر سجائے ہیں کوئی سمجھائے بُلبُل کو, چمن سے فاصلہ رکھے گُلُوں...
  11. عاطف ملک

    دید کی راحت سے لے کر ہجر کے آزار تک

    غزل دید کی راحت سے لے کر ہجر کے آزار تک کیا تھا میں؟ اور کیا ہوا؟ مدہوش سے بیدار تک گلشنِ دیدار، دشتِ شوق، دریائے فراق نارسائی کا سفر ہے سود کی منجدھار تک بس مری تسخیر ہی درکار تھی، الفت نہ تھی داستاں چلتی رہی میرے لبِ اظہار تک جاں نثارانِ تو خستہ حال و رسوائے جہاں اور کرم محدود تیرا کوچہِ...
  12. عاطف ملک

    برائے اصلاح: دید کی راحت سے لے کر ہجر کے آزار تک

    اپنے روایتی اندازسے ہٹ کر کچھ تراکیب کے استعمال کی کوشش کی ہے ان اشعار میں۔ اساتذہ کرام بالخصوص محترم الف عین اور تمام محفلین سے تنقیدی اور اصلاحی آراء درکار ہیں۔ غزل دید کی راحت سے لے کر ہجر کے آزار تک کیا تھا میں؟ اور کیا ہوا؟ مدہوش سے بیدار تک گلشنِ دیدار، دشتِ شوق، دریائے فراق عشقِ جولاں...
  13. راحیل فاروق

    مار ڈالا تری محبت نے

    مار ڈالا تری محبت نے جان لے لی وفورِ نعمت نے کتنے جذبوں کے سر خرید لیے دل کی دنیا میں غم کی دولت نے خون کا رنگ آنکھ میں پکڑا عشق کی بےنشان عظمت نے جب نہ سمجھا تو سب غلط سمجھا دل کو کافر کیا ہدایت نے کیوں عزازیلِ وقت کیا گزری کیا دیا آپ کو عبادت نے عشق افسانوی ہی اچھا تھا دلکشی چھین لی حقیقت...
  14. فہد اشرف

    بشیر بدر منزل پہ حیات آ کے ذرا تھک سی گئی ہے

    منزل پہ حیات آ کے ذرا تھک سی گئی ہے معلوم یہ ہوتا ہے بہت تیز چلی ہے شاید شب ہجراں سے ترا ذکر ہوا تھا اے موت بھلی آئی۔ تری عمر بڑی ہے اب انجمن ناز سے وحشت کا سبب کیا شاید مجھے تنہائی شب ڈھونڈ رہی ہے بیمار کے چہرے پہ سویرے کی سپیدی خاکم بدہن! اب یہ چراغ سحری ہے یہ بات کہ صورت کے بھلے دل کے برے...
  15. راحیل فاروق

    منزلِ عشق تک نہ چاہ نہ راہ

    منزلِ عشق تک نہ چاہ نہ راہ چل مگر کار ساز ہے اللہ وہ پڑے ہیں لغت دھرے کے دھرے کر گئی کام بے زبانئِ آہ ! اہلِ دل زلزلوں کی زد میں جیے تمھیں لرزا گئی فقط افواہ ٭ نہ ہوا چین لمحہ بھر کو نصیب دل ہے دنیا میں...
  16. راحیل فاروق

    عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟

    تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟ عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟ خواب ہی خواب ہیں، تعبیر کہاں سے لائیں؟ لائیں، پر خوبئِ تقدیر کہاں سے لائیں؟ مرہمِ خاک غنیمت ہے کہ موجود تو ہے دشت میں بیٹھ کے اکسیر کہاں سے لائیں؟ کوئی زاہد ہے تو اللہ کی مرضی سے ہے ایسی تقصیر پہ تعزیر کہاں سے لائیں؟...
  17. راحیل فاروق

    دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

    میں اپنی پہلی کاوش پر محفلین کے ردِ عمل کے لیے نہایت شکرگزار ہوں۔ مختلف احباب کی آرا و تجاویز کو ذہن میں رکھتے ہوئے دوسری کوشش کے لیے مرزا غالبؔ کی ایک غزل منتخب کی ہے۔ اگر تابش بھائی میں دوبارہ فرمائش کی تاب رہی تو ہمارا بھی اللہ مالک ہے!
  18. عاطف ملک

    برائے اصلاح

    ان اشعار پر اساتذہ اور محفلین کی تنقیدی و اصلاحی رائے درکار ہے۔ وہ جب کاشانہِ دل میں خیال آورد ہوتا ہے تڑپتی ہیں ردیفیں قافیوں میں درد ہوتا ہے سبھی سے مسکرا کر بات کرنا جن کی عادت ہے اگر ہم سے مخاطب ہوں تو لہجہ سرد ہوتا ہے نہ ماتھے پر شکن لائے، جو حق پر ہو کے جھک جائے جسے ہو پاس رشتوں کا، وہ...
  19. راحیل فاروق

    ہمہ تن گوش ہوں، ہمہ تن گوش

    ہمہ تن گوش ہوں ہمہ تن گوش دوست خاموش ہے بہت خاموش کوئے جانانہ تھا کہ ویرانہ تھا مجھے ہوش؟ کیوں نہ تھا مجھے ہوش؟ ہاں ظلوم و جہول ہوں یا رب دوش کس کا ہے؟ بول کس کا ہے دوش؟ کون ہے؟ جی فقیر! ہائے نہیں کیا خور و نوش؟ کیا فقط خور و نوش؟ سینہ میدانِ جنگ ہے کس کا دم زرہ پوش ہے نہ غم زرہ پوش پھر...
  20. غدیر زھرا

    تیرے آنے کا احتمال رہا (میر اثر)

    تیرے آنے کا احتمال رہا مرتے مرتے یہی خیال رہا غم ترا دل سے کوئی نکلے ہے آہ ہر چند میں نکال رہا ہجر کے ہاتھ سے ہیں سب روتے یاں ہمیشہ کسے وصال رہا شمع ساں جلتے بلتے کاٹی عمر جب تلک سر رہا وبال رہا مل گئے خاک میں ہی طفلِ سرشک میں تو آنکھوں میں گرچہ پال رہا سمجھیے اس قدر نہ کیجے غرور کوئی بھی...
Top