اردو غزل

  1. کاشفی

    وہ حرف حرف مکمل کتاب کردے گا - اجیت سنگھ حسرت

    غزل (اجیت سنگھ حسرت) وہ حرف حرف مکمل کتاب کردے گا ورق ورق کو محبت کا باب کر دے گا اُجالے کے لئے اس کو صدا لگاؤ اب یہ کام چٹکیوں میں آفتاب کر دے گا وہ جب بھی دیکھے گا مستی بھری نظر سے مجھے مرے وجود کو یکسر شراب کر دے گا مجھے یقین ہے اعجاز لمس سے اک دن وہ خار کو بھی شگفتہ گلاب کر دے گا ہزار...
  2. کاشفی

    جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں - اجے پانڈے سحاب

    غزل (اجے پانڈے سحاب) جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں جانے کس بات کی وہ ہم کو سزا دیتے ہیں حادثے جان تو لیتے ہیں مگر سچ یہ ہے حادثے ہی ہمیں جینا بھی سکھا دیتے ہیں رات آئی تو تڑپتے ہیں چراغوں کے لئے صبح ہوتے ہی جنہیں لوگ بجھا دیتے ہیں ہوش میں ہو کے بھی ساقی کا بھرم رکھنے کو لڑکھڑانے کی...
  3. کاشفی

    سلسلہ ختم کر چلے آئے - سبھاش پاٹھک ضیا

    غزل (سبھاش پاٹھک ضیا) سلسلہ ختم کر چلے آئے وہ اُدھر ہم اِدھر چلے آئے میں نے تو آئینہ دکھایا تھا آپ کیوں روٹھ کر چلے آئے دل نے پھر عشق کی تمنا کی راہ پھر پُر خطر چلے آئے دور تک کچھ نظر نہیں آتا کیا بتائیں کدھر چلے آئے میں جھکا تھا اُسے اُٹھانے کو سب مجھے روند کر چلے آئے اے ضیا دل ہے بھر نہ...
  4. کاشفی

    تو آگ رکھنا کہ آب رکھنا - سبھاش پاٹھک ضیا

    غزل (سبھاش پاٹھک ضیا) تو آگ رکھنا کہ آب رکھنا ہے شرط اتنی حساب رکھنا زبان کا کچھ خیال رکھ کر بیان کو کامیاب رکھنا قریب آؤ کہ چاہتا ہوں ہتھیلی پر ماہتاب رکھنا اگر تمازت کو سہ سکو تم تو حسرتِ آفتاب رکھنا جو کہنی ہو بات خار جیسی تو لہجہ اپنا گلاب رکھنا ضیا کسی سے سوال پوچھو تو ذہن میں تم جواب...
  5. کاشفی

    گاؤں گاؤں خاموشی سرد سب الاؤ ہیں - سبطِ علی صبا

    غزل (سبطِ علی صبا - 1935-1980) گاؤں گاؤں خاموشی سرد سب الاؤ ہیں رہرو رہ ہستی کتنے اب پڑاؤ ہیں رات کی عدالت میں جانے فیصلہ کیا ہو پھول پھول چہروں پہ ناخنوں کے گھاؤ ہیں اپنے لاڈلوں سے بھی جھوٹ بولتے رہنا زندگی کی راہوں میں ہر قدم پہ داؤ ہیں روشنی کے سوداگر ہر گلی میں آپہنچے زندگی کی کرنوں کے...
  6. غدیر زھرا

    جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوں (جوشش عظیم آبادی)

    جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوں برنگِ شمع سراپا وبال اپنا ہوں اس اشکِ سرخ و رُخِ زرد سے سمجھ لے تو بیان کیا کروں خود عرضِ حال اپنا ہوں قرار پکڑے مرے دل میں کب کسی کی شکل برنگِ آئینہ محوِ جمال اپنا ہوں نہ ماہتاب ہوں نے آفتاب ہوں یا رب یہ کیا سبب ہے کہ آپھی زوال اپنا ہوں جہان خواب تماشا، جہان...
  7. کاشفی

    ہاتھ انصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹوں؟ - مظفر وارثی

    غزل (مظفر وارثی) ہاتھ انصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹوں؟
  8. کاشفی

    فریاد کرے کس سے گنہ گار تمہارا - مادھو رام جوہر

    غزل (مادھو رام جوہر - 1810-1888 ) فریاد کرے کس سے گنہ گار تمہارا اللہ بھی حاکم بھی طرف دار تمہارا کعبہ کی تو کیا اصل ہے اس کوچے سے آگے جنت ہو تو جائے نہ گنہ گار تمہارا دردِ دل عاشق کی دوا کون کرے گا سنتے ہیں مسیحا بھی ہے بیمار تمہارا جوہر تمہیں نفرت ہے بہت بادہ کشی سے برسات میں دیکھیں گے ہم...
  9. کاشفی

    غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہم - راسخ عظیم آبادی

    غزل (راسخ عظیم آبادی - 1757-1823 پٹنہ بہار ہندوستان) غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہم سوتے ہی رہے آہ نہ بیدار ہوئے ہم یہ بےخبری دیکھ کہ جب ہم سفر اپنے کوسوں گئے تب آہ خبردار ہوئے ہم صیاد ہی سے پوچھو کہ ہم کو نہیں معلوم کیا جانئے کس طرح گرفتار ہوئے ہم تھی چشم کہ تو رحم کرے گا کبھو سو ہائے غصہ...
  10. کاشفی

    احمد مشتاق اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں - احمد مشتاق

    غزل (احمد مشتاق) اب وہ گلیاں وہ مکاں یاد نہیں کون رہتا تھا کہاں یاد نہیں جلوہء حسن ازل تھے وہ دیار جن کے اب نام و نشاں یاد نہیں کوئی اجلا سا بھلا سے گھر تھا کس کو دیکھا تھا وہاں یاد نہیں یاد ہے زینہء پیچاں اس کا در و دیوار مکاں یاد نہیں یاد ہے زمزمہء ساز بہار شور آواز خزاں یاد نہیں
  11. کاشفی

    اب عشق رہا نہ وہ جنوں ہے - بسمل سعیدی

    غزل (بسمل سعیدی - 1901-1977 دہلی ہندوستان) اب عشق رہا نہ وہ جنوں ہے طوفان کے بعد کا سکوں ہے احساس کو ضد ہے دردِ دل سے کم ہو تو یہ جانیے فزوں ہے راس آئی ہے عشق کو زبونی جس حال میں دیکھیے زبوں ہے باقی نہ جگر رہا نہ اب دل اشکوں میں ہنوز رنگِ خوں ہے اظہار ہے دردِ دل کا بسمل الہام نہ شاعری فسوں ہے
  12. راحیل فاروق

    پہلے شرما کے مار ڈالا — بیدمؔ شاہ وارثی

    پہلے شرما کے مار ڈالا پھر سامنے آ کے مار ڈالا ساقی نہ پلائی تو نےآخر ترسا ترسا کے مار ڈالا عیسیٰ تھے تو مرنے ہی نہ دیتے تم نے تو جِلا کے مار ڈالا بیمارِ الم کو تو نے ناصح سمجھا سمجھا کے مار ڈالا خنجر کیسا؟ فقط ادا سے تڑپا تڑپا کے مار ڈالا یادِ گیسو نے ہجر کی شب الجھا الجھا کے مار ڈالا فرقت...
  13. راحیل فاروق

    وصل کی فکر اب کون کرے؟ دعوائے محبت کس کو ہے؟

    وصل کی فکر اب کون کرے؟ دعوائے محبت کس کو ہے؟ ناصح جان کے لاگو ہو تو عشق کی فرصت کس کو ہے؟ پاس رکھو یا آگ لگا دو، میری بلا سے لے جاؤ جو کم بخت کے تیور ہیں اس دل کی ضرورت کس کو ہے؟ قبلہ و کعبہ، واعظِ دوراں، حسنِ بیاں کی ہو گئی حد حوروں کے تو قصے پڑھے ہیں، دیکھا حضرت! کس کو ہے؟ میری حالت غور سے...
  14. راحیل فاروق

    یہ میرے خواب ہیں، یہ میں ہوں، یہ رہا مرا دل - محمد احمدؔ

    مجھی سے کرتا نہ تھا کوئی مشورہ مرا دل سراب و خواب کے صحرا میں جل بجھا مرا دل نہ دیکھے طور طریقے، نہ عادتیں دیکھیں کسی کی شکل پہ اک روز مر مٹا مرا دل وفا تو خیر ہوئی اس جہان میں عنقا جو وہ ملے تو یہ پوچھوں کہ کیا ہوا مرا دل؟ مآلِ دیدہ وری پوچھتے ہو، دیکھ لو خود بجھی ہوئی مری آنکھیں، بجھا ہوا...
  15. کاشفی

    متاعِ درد سے دل مالامال ہے میرا - ساقی امروہوی

    متاعِ درد سے دل مالامال ہے میرا زمانہ کیوں یہ سمجھتا ہے تنگدست ہوں میں (ساقی امروہوی)
  16. عاطف ملک

    غزل برائے اصلاح: میرے گھر میں ہیں بہت آگ لگانے والے

    اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں تنقید اور اصلاح کی گزارش کے ساتھ پیشِ نظر ہے. مجھ کو لوٹا دو وہی دور پرانے والے کچی مٹی کے محلات بنانے والے میرا پتوں پہ خزاں کی وہ مثالیں دینا وہ تِرے وعدے کبھی دور نہ جانے والے روک رکھے ہیں کئی شعر اسی الجھن میں جان جائیں نہ تِرا نام زمانے والے مدتوں بعد...
  17. غدیر زھرا

    کون صیاد ادھر بہرِ شکار آتا ہے (میاں داد خاں سیاح)

    کون صیاد اِدھر بہرِ شکار آتا ہے طائرِ دل قفسِ تن میں جو گھبراتا ہے زلفِ مشکیں کا جو اس شوخ کے دھیان آتا ہے زخم سے سینۂ مجروح کا چر جاتا ہے ہجر میں موت بھی آئی نہ مجھے سچ ہے مثل وقت پر کون کسی کے کوئی کام آتا ہے اب تو اللہ ہے یارانِ وطن کا حافظ دشت میں جوشِ جنوں ہم کو لیے جاتا ہے ڈوب کر چاہِ...
  18. غدیر زھرا

    پیری میں شوق حوصلہ فرسا نہیں رہا (عبدالغفور نساخ)

    پیری میں شوق حوصلہ فرسا نہیں رہا وہ دل نہیں رہا وہ زمانہ نہیں رہا کیا ذکرِ مہر اس کی نظر میں ہے دل وہ خوار شایانِ جور و ظلم دل آرا نہیں رہا جھگڑا مٹا دیا بُتِ کافر نے دین کا اب کچھ خلافِ مومن و ترسا نہیں رہا عشاق و بوالہوس میں نہیں کرتے وہ تمیز واں امتیازِ نیک و بد اصلا نہیں رہا کیوں بہرِ...
  19. غدیر زھرا

    محفل سے اٹھانے کے سزاوار ہمیں تھے (تعشق لکھنوی)

    محفل سے اٹھانے کے سزاوار ہمیں تھے سب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھے ہم کس کو دکھاتے شبِ فرقت کی اداسی سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے سودا تری زلفوں کا گیا ساتھ ہمارے مر کر بھی نہ چُھوٹے وہ گرفتار ہمیں تھے کل رات کو دیکھا تھا جسے خواب میں تم نے رخسار پہ رکھے ہوئے رخسار، ہمیں تھے دل...
  20. غدیر زھرا

    اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے (نظم طباطبائی)

    اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے شرابی جمع ہیں مے خانہ میں ٹوپی اچھلتی ہے بہارِ مے کشی آئی چمن کی رت بدلتی ہے گھٹا مستانہ اٹھتی ہے ہوا مستانہ چلتی ہے زخود رفتہ طبیعت کب سنبھالے سے سنبھلتی ہے نہ بن آتی ہے ناصح سے نہ کچھ واعظ کی چلتی ہے یہ کس کی ہے تمنا، چٹکیاں لیتی ہے جو دل میں یہ کس کی...
Top