اردو غزل

  1. ظہیراحمدظہیر

    جانے کتنے راز چھپے ہیں ٹھہرے ٹھہرے پانی میں

    غزل جانے کتنے راز چھپے ہیں ٹھہرے ٹھہرے پانی میں کون اُتر کردیکھےاب اس یاد کے گہرے پانی میں جل پریوں کی خاموشی تو منظر کا ا یک دھوکا ہے فریادوں کا شور مچا ہے اندھے بہرے پانی میں کوئی سیپی موتی اُگلتی ہے ، نہ موجیں کوئی راز حرص و ہوا کے ایسے لگے ہیں چار سُو پہرے پانی میں جھیل کے نیلے...
  2. ظہیراحمدظہیر

    پھر کسی آئنہ چہرے سے شناسائی ہے

    غزل پھر کسی آئنہ چہرے سے شناسائی ہے عاشقی اپنے تماشے کی تمنائی ہے مہربانی بھی مجھے اب تو ستم لگتی ہے اک بغاوت سی رَگ و پے میں اُتر آئی ہے سنگِ برباد سے اٹھتا ہے عمارت کا خمیر خاکِ تخریب میں پوشیدہ توانائی ہے عصرِ حاضر کے مسائل ہوئے بالائے حدود اب نہ آفاقی رہا کچھ ،...
  3. ظہیراحمدظہیر

    پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا

    غزل پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا نظر آکر بھی میں اوجھل رہوں گا بچھڑ جاؤں گا اک دن اشک بن کر تمہاری آنکھ میں دوپَل رہوں گا ہزاروں شکلیں مجھ میں دیکھنا تم سروں پر بن کے میں بادل رہوں گا میں مٹی ہوں ،کوئی سونا نہیں ہوں جہاں کل تھا ، وہیں میں کل رہوں گا بدن صحرا ہے لیکن آنکھ نم ہے اِسی...
  4. غدیر زھرا

    میر دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

    دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی واشُد کُچھ آگے آہ سی ہوتی تھی دِل کے تئیں اقلیمِ عاشقی کی ہوا، اب بگڑ گئی گرمی نے دل کی ہجر میں اس کے جلا دیا شاید کہ احتیاط سے یہ تب بگڑ گئی خط نے نکل کے نقش دلوں کے اٹھا دیئے صورت بتوں کی اچھی جو تھی سب بگڑ گئی باہم...
  5. ظہیراحمدظہیر

    یہ کہہ رہے ہیں وہ کالک اُچھالنے والے

    غزل یہ کہہ رہے ہیں وہ کالک اُچھالنے والے ہمی ہیں شہر کی رونق اُجا لنے وا لے ۔ ق ۔ منافقت کی عفونت بھی ساتھ لائے ہیں گلے میں ہار گلابوں کا ڈالنے والے دہن میں لقمۂ شیریں بھی رکھتے جاتے ہیں مرے وجود میں لاوا اُبا لنے وا لے ۔ ہجوم چنتا ہے ساحل پہ سیپیوں سے گہر نظر سے گم...
  6. ظہیراحمدظہیر

    بنا کےپھر مجھے تازہ خبر نہ جاؤ تم

    غزل بنا کےپھر مجھے تازہ خبر نہ جاؤ تم اب آگئے ہو تو پھر چھوڑ کر نہ جاؤ تم میں ڈرتے ڈرتے سناتا ہوں اپنے اندیشے میں کُھل کے یوں نہیں کہتا کہ ڈر نہ جاؤ تم کہاں کہاں مجھے ڈھونڈو گے پرزہ پرزہ ہوں مجھے سمیٹنے والے! بکھر نہ جاؤ تم بڑھے ہو تم مری جانب تو ڈر یہ لگتا ہے مرے قریب سے آکر گزر نہ جاؤ تم...
  7. ظہیراحمدظہیر

    منظر سے ہٹ گیا ہوں میں ، ایسا نہیں ابھی

    غزل منظر سے ہٹ گیا ہوں میں ، ایسا نہیں ابھی ٹوٹا تو ہوں ضرور ، پہ بکھرا نہیں ابھی وہ بھی اسیرِ ِ فتنہء جلوہ نمائی ہے میں بھی حصارِ ذات سے نکلا نہیں ابھی آسودہء خمار نہیں مضمحل ہے آنکھ جو خواب دیکھنا تھا وہ دیکھا نہیں ابھی داغ ِ فراقِ یار کے پہلو میں یاس کا اک زخم اور بھی ہے جو مہکا...
  8. غدیر زھرا

    اکثر جو بصد حلقۂ گرداب ملا ہے (تخت سنگھ)

    اکثر جو بصد حلقۂ گرداب ملا ہے اُس فکر کا دریا مجھے پایاب ملا ہے احساس پہ پتھر وہ پڑے تلخئ غم کے صدپارہ مجھے شیشۂ ہرخواب ملا ہے بدلی ہے اِس انداز سے حالات نے کروٹ دھرتی سے نکلتا ہوا مہتاب ملا ہے جس نے بھی تری بزم میں کی حد سے زیادہ پابندئِ آداب، وہ سرتاب ملا ہے ہنسنے دو مرے خواب کی تعبیر کو...
  9. راحیل فاروق

    حسن پر عشق کا اثر کر دوں

    حسن پر عشق کا اثر کر دوں آ، تجھے چوم کر امر کر دوں رات کیا شے ہے طُور کے آگے؟ ایک جلوہ دکھا، سحر کر دوں سب سمجھتا ہوں، چاہتا ہوں مگر غلطی جان بوجھ کر کر دوں نہ کروں مر کے داستاں انجام زندگی عشق میں بسر کر دوں دل میں امید کی جگہ کم ہے تیرے غم کو ادھر ادھر کر دوں؟ سرخ پھولوں کا ذوق، اُف اللہ...
  10. راحیل فاروق

    میری محبت اس کے حوالے جس نے محبت پیدا کی

    زندگی کی سب سے بڑی جذباتی ناکامی کے بعد کہی گئی ایک غزل۔ موت نہ آئے تو صبر ہی آتا ہے۔ جان نہ نکلے تو بھڑاس ہی نکلتی ہے! :):):) ملاحظہ فرمائیے: میری محبت اس کے حوالے جس نے محبت پیدا کی گلیاں کوچے چھان چکا ہوں، تاب نہیں ہے صحرا کی یاد نہیں ہے؟ تیرے بدلنے، میرے بدلنے کی باتیں ایک زمانے میں لگتی...
  11. محمد فائق

    جگر منتخب اشعار جگر مراد آبادی

    منتخب اشعار جگر مراد آبادی ....... دل کہ تھا جانِ زیست آہ جگرؔ اسی خانہ خراب نے مارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے اور جگرؔ کو شراب نے مارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکوہء موت کیا کریں کہ جگرؔ آرزوئے حیات نے مارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں ہی جفا جو ہیں جگرؔ عشق ہو یا حسن اک یار نے لوٹا...
  12. راحیل فاروق

    پھر آ گئے ہیں نہ آنے کی ٹھاننے والے

    ایک پرانی غزل ہے۔ تقریباً ۲۰۰۷ء کی۔ ضرورت سے زیادہ حسبِ حال ہے۔ سو پیش کی جاتی ہے: :) یہ بات بات پہ بندوق تاننے والے نبیؐ کو جانتے بھی ہیں یہ ماننے والے؟ تمھارے شہر میں کیوں خوش لباس ہو گئے لوگ؟ نظر سے گر گئے کیا خاک چھاننے والے؟ سمندروں کو پلٹ کر نہ دیکھتے، اے کاش ہم ایک بوند سے دامن کو...
  13. محمد فائق

    محسن نقوی مغرور ہی سہی، مجھے اچھا بہت لگا

    مغرور ہی سہی، مجھے اچھا بہت لگا وہ اجنبی تو تھا مگر اپنا بہت لگا روٹھا ہوا تھا ہنس تو پڑا مجھ کو دیکھ کر مجھ کو تو اس قدر بھی دلاسا بہت لگا صحرا میں جی رہا تھا جو دریا دلی کے ساتھ دیکھا جو غور سے تو وہ پیاسا بہت لگا وہ جس کے دم قدم سے تھیں بستی کی رونقیں بستی اجڑ گئی تو اکیلا بہت لگا لپٹا...
  14. طارق شاہ

    جوش ملیح آبادی :::::یہ دُنیاذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے ::::: Josh Maleehabadi

    جوؔش ملیح آبادی یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہو تی ہے یہاں ،جس شے کو جو سمجھو ، وہی معلُوم ہوتی ہے نکلتے ہیں کبھی تو چاندنی سے دُھوپ کے لشکر! کبھی خود دُھوپ، نکھری چاندنی معلُوم ہوتی ہے کبھی کانٹوں کی نوکوں پرلبِ گُل رنگ کی نرمی کبھی، پُھولوں کی خوشبُو میں انی معلُوم ہوتی ہے وہ آہِ صُبح...
  15. محمد فائق

    چراغِ دل بجھانا چاہتا تھا @منور رانا

    चिराग़-ए-दिल बुझाना चाहता था, वो मुझको भूल जाना चाहता था ! چراغِ دل بجھانا چاہتا تھا وہ مجھ کو بھول جانا چاہتا تھا मुझे वो छोड़ जाना चाहता था, मगर कोई बहाना चाहता था ! مجھے وہ چھوڑ جانا چاہتا تھا مگر کوئی بہانہ چاہتا تھا सफ़ेदी आ गई बालों पे उसके, वो बाइज़्ज़त घराना चाहता था ! سفیدی آ گئی...
  16. کاشفی

    اگر ہم کہیں اور وہ مُسکرا دیں - سدرشن فاکر

    غزل (سدرشن فاکر) اگر ہم کہیں اور وہ مُسکرا دیں ہم ان کے لیے زندگانی لُٹا دیں ہر اک موڑ پر ہم غموں کو سزا دیں چلو زندگی کو محبت بنا دیں اگر خود کو بھولے تو کچھ بھی نہ بھولے کہ چاہت میں ان کی خدا کو بھلا دیں کبھی غم کی آندھی جنہیں چھو نہ پائے وفاؤں کے ہم وہ نشیمن بنا دیں قیامت کے دیوانے کہتے...
  17. کاشفی

    سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے - بسمل سعیدی

    غزل (بسمل سعیدی) سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے کیا اہلِ جہاں تجھ کو ستم گر نہیں کہتے کہتے تو ہیں لیکن ترے منہ پر نہیں کہتے کعبے میں مسلمان کو کہہ دیتے ہیں کافر بت خانے میں کافر کو بھی کافر نہیں کہتے رندوں کو ڈرا سکتے ہیں کیا حضرتِ واعظ جو کہتے ہیں...
  18. کاشفی

    سلسلہ ختم ہوا جلنے جلانے والا - اقبال اشہر

    غزل (اقبال اشہر) سلسلہ ختم ہوا جلنے جلانے والا اب کوئی خواب نہیں نیند اُڑانے والا یہ وہ صحرا ہے سمجھائے نہ اگر تو رستہ خاک ہوجائے یہاں خاک اُڑانے والا کیا کرے آنکھ جو پتھرانے کی خواہش نہ کرے خواب ہو جائے اگر خواب دکھانے والا یاد آتا ہے کہ میں خود سے یہیں بچھڑا تھا یہی رستہ ہے ترے شہر کو جانے...
  19. کاشفی

    کوئی نہیں پچھتانے والا - نوح ناروی

    غزل (نوح ناروی - 1879-1962، داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے شاگرد) کوئی نہیں پچھتانے والا مر جائے مر جانے والا محفل میں آئے گا کیوں کر خلوت میں شرمانے والا میں روکوں لیکن کیا روکوں جائے گا گھر جانے والا شکر خدا کا ہم کرتے ہیں کام آیا کام آنے والا صبر مرا بےکار نہ جائے تڑپے وہ تڑپانے والا اپنا...
  20. کاشفی

    وہ جب اپنے لب کھولیں - انجم لدھیانوی

    غزل (انجم لدھیانوی) وہ جب اپنے لب کھولیں شہد فضاؤں میں گھولیں آپ کے بھی ہو جائیں گے ہم پہلے اپنے تو ہو لیں دنیا سے کٹ جائیں ہم اتنا سچ ہی کیوں بولیں جب جب خود کو قتل کریں خنجر گنگا میں دھو لیں اُڑنا ہم سکھلا دیں گے آپ ذرا سے پر کھولیں کچھ دن ہلکے گزریں گے آج کی شب کھل کر رو لیں دن بھر سورج...
Top