پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا

ظہیراحمدظہیر نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 21, 2016

  1. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,787
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    غزل

    پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا
    نظر آکر بھی میں اوجھل رہوں گا

    بچھڑ جاؤں گا اک دن اشک بن کر
    تمہاری آنکھ میں دوپَل رہوں گا

    ہزاروں شکلیں مجھ میں دیکھنا تم
    سروں پر بن کے میں بادل رہوں گا

    میں مٹی ہوں ،کوئی سونا نہیں ہوں
    جہاں کل تھا ، وہیں میں کل رہوں گا

    بدن صحرا ہے لیکن آنکھ نم ہے
    اِسی شبنم سے میں جل تھل رہوں گا

    جہاں چاہو مجھے رکھ دو اٹھا کر
    چراغِ نیم شب ہوں جل رہوں گا

    گرا کر خود کو ہلکا ہو تو جاؤں
    پر اندر سے بہت بوجھل رہوں گا

    ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مارچ ۲۰۱۲ ​
     
    • زبردست زبردست × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,952
    واہ!! بہت عمدہ کلام ہے۔ بہت سی داد آپ کے لیے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,624
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت عمدہ ظہیر بھائی.
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,787
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت شکریہ! نوازش!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,787
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    محبت ہے آپ کی تابش بھا ئی ! بہت ممنون ہوں !
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,428
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    عمدہ غزل ظہیر بھائی!

    بہت سی داد!
     

اس صفحے کی تشہیر