پھر کسی آئنہ چہرے سے شناسائی ہے

ظہیراحمدظہیر نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 21, 2016

  1. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,787
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    غزل

    پھر کسی آئنہ چہرے سے شناسائی ہے
    عاشقی اپنے تماشے کی تمنائی ہے

    مہربانی بھی مجھے اب تو ستم لگتی ہے
    اک بغاوت سی رَگ و پے میں اُتر آئی ہے

    سنگِ برباد سے اٹھتا ہے عمارت کا خمیر
    خاکِ تخریب میں پوشیدہ توانائی ہے

    عصرِ حاضر کے مسائل ہوئے بالائے حدود
    اب نہ آفاقی رہا کچھ ، نہ علاقائی ہے

    مسئلے دھرتی کے ہمزادِ بنی آدم ہیں
    زندگی ساتھ میں اسبابِ سفر لائی ہے

    شاعری صورتِ اظہارِ غمِ ذات نہیں
    اپنی دنیا پہ مری تبصرہ آرائی ہے

    ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۳​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,624
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    واہ واہ ظہیر بھائی. آپ کا کلام پڑھا اور دن بھر کی تکان اتر گئی.
    مثبت سوچ اور فکر عیاں ہے.

    حقیقت
    کیا کہنے
     
  3. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,787
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یعنی کلام نہ ہوا مساج ہوگیا ! :D
    تفنن برطرف ، یہ آپ کی خوش ذوقی ہے ۔ اللہ آپ کو تروتازہ رکھے!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,428
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت خوب!

    خوبصورت!
     

اس صفحے کی تشہیر