غزل

پھر کسی آئنہ چہرے سے شناسائی ہے
عاشقی اپنے تماشے کی تمنائی ہے

مہربانی بھی مجھے اب تو ستم لگتی ہے
اک بغاوت سی رَگ و پے میں اُتر آئی ہے

سنگِ برباد سے اٹھتا ہے عمارت کا خمیر
خاکِ تخریب میں پوشیدہ توانائی ہے

عصرِ حاضر کے مسائل ہوئے بالائے حدود
اب نہ آفاقی رہا کچھ ، نہ علاقائی ہے

مسئلے دھرتی کے ہمزادِ بنی آدم ہیں
زندگی ساتھ میں اسبابِ سفر لائی ہے

شاعری صورتِ اظہارِ غمِ ذات نہیں
اپنی دنیا پہ مری تبصرہ آرائی ہے

ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۳​
 
واہ واہ ظہیر بھائی. آپ کا کلام پڑھا اور دن بھر کی تکان اتر گئی.
سنگِ برباد سے اٹھتا ہے عمارت کا خمیر
خاکِ تخریب میں پوشیدہ توانائی ہے
مثبت سوچ اور فکر عیاں ہے.

عصرِ حاضر کے مسائل ہوئے بالائے حدود
اب نہ آفاقی رہا کچھ ، نہ علاقائی ہے
حقیقت
کیا کہنے
 

محمداحمد

لائبریرین
Top