اردو غزل

  1. فرحت کیانی

    مظفر وارثی نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُوا

    نیندوں کا احتساب ہُوا یا نہیں ہُوا سچا کسی کا خواب ہُوا یا نہیں ہُوا بے داغ کوئی شکل نظر آئی یا نہیں آئینہ بے نقاب ہُوا یا نہیں ہُوا لائی گئیں کٹہرے میں کتنی عدالتیں قانون لاجواب ہُوا یا نہیں ہُوا جو آج تک کیا گیا احسان کی طرح اس ظلم کا حساب ہُوا یا نہیں ہُوا اُس کے بھی دل میں آگ لگی یا...
  2. ارسلان احمد عاکف

    غزل

    رہ گئے بھوت ختم شد سب راج موری نگری میں گدھن پایو تاج گیت جھوٹا یہ لکھت ہے نسّاج کہ بہت پیارا ہمارا دھیراج موری اچّھا ہے کہ دیکھوں میں آج کیسے چغلی ہے لگاوے درّاج ہوک اٹھاؤں میں لیے تن یکتا مورے ہر سمت ہیں گھومے پوّاج نہ دکھا موہے تو مکھ کے جلوے دلربا ہاتھ نہ آؤں میں آج ارسلان احمد عاکف
  3. ارسلان احمد عاکف

    غزل

    چلے جو مخالف کوئی میرے ہمراہ تو احباب میرے کہیں مجھ کو شتّاہ سنو میرے احباب اک بات میری مناسب ہے مل کر چلیں جب ہو یکراہ یہ طعنہ زنی تم جو کرتے ہو مجھ پر تمہارے لیے کب بنا ہوں میں سرواہ بہت غم سہے شب کی تاریکیوں میں اُمید سحر میں ہے جینے کی اُتساہ بہت ہیں زمانے کے غم میرے در پے وہ چنچل بھی اب...
  4. ظہیراحمدظہیر

    اب تری یاد میں غم بھی ہوئے شامل میرے

    بہت عرصے کے بعد کچھ تازہ اشعار احبابِ محفل کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔ خاکدان کا مجموعہ ترتیب دینے کے بعد بھی کئی ساری پرانی غزلیں اور نکل آئی ہیں ۔ چند ایک کی نوک پلک درست کرکے مکمل بھی کرلیا ہے اور وقتاً فوقتاً آپ کے ذوق کی نذر کرنے کا ارادہ ہے ۔ فی الحال یہ تازہ اشعار دیکھئے گا ۔ امید ہے کہ...
  5. عاطف ملک

    اخیرِ شب جو میں دستِ دعا اٹھاؤں گا

    اخیرِ شب جو میں دستِ دعا اٹھاؤں گا لبوں پہ صرف تری آرزو ہی لاؤں گا خدا کی وسعتِ رحمت کو آزماؤں گا میں پھر سے بابِ اجابت کو کھٹکھٹاؤں گا ہو جس میں میرے مقابل وہ دشمنِ ایماں میں جان بوجھ کے وہ جنگ ہار جاؤں گا بلاجواز وہ پھر ہو گیا خفا مجھ سے کہ جانتا ہے وہ، میں ہی اسے مناؤں گا اسی کے نام سے...
  6. عاطف ملک

    جس پل سے ترا عشق ہمیں دان ہوا ہے

    چند تک بندیاں: جس پل سے ترا عشق ہمیں دان ہوا ہے پہلے جو کٹھن تھا وہی آسان ہوا ہے الفت کا بھی کیا خوب ہی احسان ہوا ہے اب نام تمہارا مری پہچان ہوا ہے یہ بھول گیا فرطِ مسرت میں دھڑکنا اس دل میں ترا درد جو مہمان ہوا ہے جاتی ہے تو جاں جائے، نہ جائے گا یہ دل سے یہ عشق ہمیں صورتِ ایمان ہوا ہے...
  7. عاطف ملک

    ایک کاوش: شیون و فغاں لکھا اہلیت کے خانے میں

    محترم عامر امیر کی مشہور زمین میں ایک کوشش قابلِ قدر اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔شاید کوئی شعر آپ کو پسند آ جائے۔رائے ضرور دیجیے گا۔ شیون و فغاں لکھا اہلیت کے خانے میں اور داد خواہی کا شوق، لَت کے خانے میں دل کا گوشوارہ جب ہم نے کھول کر دیکھا تیرا غم لکھا پایا منفعت کے خانے میں...
  8. عاطف ملک

    غزل: خوب سمجھا ہوں میں دنیا کی حقیقت لوگو

    ایک پرانی غزل محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔ خوب سمجھا ہوں میں دنیا کی حقیقت لوگو! تب تلک چاہ ہے، جب تک ہے ضرورت، لوگو! خود پرستی کے فسوں ساز سمندر میں کہیں مر گیا ڈوب کے احساسِ مروت لوگو! نہ رہا دور کہ انمول تھے اخلاص و وفا اب تو لگتی ہے ہر اک چیز کی قیمت، لوگو! "جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے...
  9. Qamar Shahzad

    غزل: اور اس کے بعد ہمیشہ مجھے عدو سمجھے

    اور اس کے بعد ہمیشہ مُجھے عدو سمجھے مری مراد نہیں دوست ہو بہو سمجھے اگرچہ مادری میری زباں ہے پنجابی پہ شعر اردو میں کہتا ہوں تاکہ تُو سمجھے نہ سنگِ لفظ گرائے سکوت دریا میں کوئی نہیں جو خموشی کی آبرو سمجھے زبانِ حال سے کہتے رہے حذر لیکن تھرکتے جسم نہ اعضاء کی گفتگو سمجھے مجھ ایسے مست...
  10. Qamar Shahzad

    غزل: آج یہ کون مرے شہر کا رستہ بھولا

    آج یہ کون مرے شہر کا رستہ بھُولا دیکھ کر جس کو مرا قلب دھڑکنا بھُولا میں ہی مبہوت نہیں حسنِ فسوں گر کی قسم جس نے دیکھا اسے پلکوں کو جھپکنا بھُولا بھولتا کیسے مرا دل مری جاں کا مالک کون حاکم ہے کہ جو اپنی رعایا بھُولا بھولپن میں کیا اظہارِ محبت اس نے کتنا بھولا ہے، مرا بزم میں ہونا بھُولا...
  11. Qamar Shahzad

    غزل:عکس اس کا کہ مرا حرفِ دعا ہے

    عکس اس کا کہ مرا حرفِ دعا ہے، کیا ہے؟ گرد میرے جو معطر سی فضا ہے، کیا ہے؟ کیوں ہے یہ رزقِ سخن اس کے رہینِ منت وہ مرا رب ہے نہ رازق نہ خدا ہے، کیا ہے؟ اس کی آنکھوں سے ہویدا ہیں فسانے کیسے وہ جو ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا ہے، کیا ہے چاند چہرے پہ تغافل کے یہ بادل کیوں ہیں؟ کوئی رنجش ہے؟...
  12. Qamar Shahzad

    غزل:قریہ ءِ جاں پہ کیوں لشکرِ ہجر کا خوف

    قریہ ءِ جاں پہ کیوں لشکرِ ہجر کا خوف طاری کروں وقفِ تعبیرِ خوابِ وصالِ صنم زیست ساری کروں کوئی دعویٰ نہیں اس ہنر میں مجھے، ہاں اگر تُو ملے دستِ لب سے ترے جسم کی لوح پر دستکاری کروں دیکھنا عکسِ جاناں زِ چشمِ تخیل برائے حیات نعمتِ خاص ہے، آبشارِ تشکر کو جاری کروں رشکِ مہتاب اپنی جبینِ...
  13. عاطف ملک

    مضطر و بے کس و لاچار رہا کرتے ہیں

    ایک اور کاوش محترم اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔ مضطر و بے کس و لاچار رہا کرتے ہیں تیری چوکھٹ سے جو بے زار رہا کرتے ہیں اک نظر لطف کی، اے میرے مسیحا اس سمت اس طرف آپ کے بیمار رہا کرتے ہیں وہ تو معصوم ہی رہتے ہیں ستم کر کے بھی ہم گلہ کر کے گنہ گار...
  14. Qamar Shahzad

    اک عکسِ لاوجود سے لپٹا ہوا ہوں میں

    اک عکسِ لا وجود سے لپٹا ہوا ہوں میں جیسا مجھے نہ ہونا تھا ویسا ہوا ہوں میں میرے درختِ جسم کو خوفِ خزاں نہیں اُس معجزاتی ہونٹ کا چوما ہوا ہوں میں پورے کیے ہیں پیار کے سارے لوازمات اب کُن کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہوں میں خود کو تمہارے بعد سمیٹا کچھ اس طرح لگتا نہیں کہیں سے بھی ٹوٹا ہوا ہوں...
  15. Qamar Shahzad

    ایک کے بعد نئی ایک کہانی کھلتی

    ایک کے بعد نئی ایک کہانی کھلتی شکر یہ ہے نہ کھلی گر وہ جوانی کھلتی سب کو ہوتی نہیں محسوس مہکتی مسکان ہر کسی پر تو نہیں رات کی رانی کھلتی ثبت انعام سب اس کے ہیں جگر پر میرے غیر پر کیسے بھلا اس کی نشانی کھلتی تُو مری نرم مزاجی کی بلائیں لیتا دوست تجھ پر جو مری شعلہ فشانی کھلتی وہ سزا مجھ کو...
  16. Qamar Shahzad

    وہ اتنا حسیں،اتنا حسیں، اتنا حسیں ہے

    اس جیسا زمانے میں کوئی اور نہیں ہے وہ اتنا حسیں، اتنا حسیں، اتنا حسیں ہے اس چاند سے آنکھیں نہ مری ہونگی منور درکار انہیں یار فقط تیری جبیں ہے چھایا ہے تخیل پہ مرے تیرا سراپا محسوس یہ ہوتا ہے کوئی پھول قریں ہے وہ حدِ تناظر سے بہت دور ہے، مانو بینائی کہیں اور مری آنکھ کہیں ہے رستوں نے...
  17. عاطف ملک

    غزل: پلٹ کر کی خبر گیری، نہ رکھا رابطہ کوئی

    ایک اور کاوش محترم اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔ پلٹ کر کی خبر گیری، نہ رکھا رابطہ کوئی کبھی اپنوں کو بھی یوں چھوڑ کر جاتا ہے کیا کوئی خدا شاہد ہے، تھا، ہے، اور نہ ہو گا دوسرا کوئی مرے دل میں سمائے بھی تو کیوں تیرے سوا کوئی ہمارے واسطے تو بس وہی اک رہنما ٹھہرا دکھائے تجھ کو پانے...
  18. عاطف ملک

    ایک کاوش: دل مرا اس سے اٹھ گیا ہوتا

    ویسے تو آج کل مصروفیت کے باعث شعر کہنا کارِ دشوار ہے لیکن بقول مظفرؔ وارثی "کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن"،سو تقریباً زبردستی کی ایک کاوش پیش ہے۔احباب کی رائے کا منتظر۔ دل مرا اس سے اٹھ گیا ہوتا کاش وہ شخص بے وفا ہوتا لمحہ لمحہ خیال آتا ہے یوں نہ ہوتا اگر تو کیا ہوتا اس کے غم سے...
  19. عاطف ملک

    یہ ادائے قاتلانہ چھوڑ دے

    استادِ محترم اور محفلین کی خدمت میں چند اشعار۔اس امید پر کہ شاید کوئی شعر پسند آجائے۔ یہ ادائے قاتلانہ چھوڑ دے چھپ کے پردے میں ستانا چھوڑ دے مسکرا کر چوٹ کھانا چھوڑ دے اُس گلی میں آنا جانا چھوڑ دے رِیت اگر دنیا کی ہے کذب و دغا چھوڑ دے رسمِ زمانہ چھوڑ دے رکھ سکا ہے کون خوش ہر ایک کو بے سبب...
  20. عاطف ملک

    دو جہاں میں اس کی وقعت ہو گئی

    خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ کی زمین میں ایک کاوش اساتذہ کرام اور محفلین کی خدمت میں پیش ہے۔امید ہے رائے سے آگاہ کریں گے۔ دو جہاں میں اس کی وقعت ہو گئی ایک تجھ سے جس کو نسبت ہو گئی بے خودی میں ایسی حالت ہو گئی جو کہا تیری ہی مدحت ہو گئی منکشف ہم پر حقیقت ہو گئی جس کا تُو اس کی یہ خلقت ہو گئی ہر...
Top