اردو غزل

  1. عاطف ملک

    کسی کی ذات سے کچھ واسطہ نہ ہوتے ہوئے

    ایک طرحی غزل احباب کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ کسی کی ذات سے کچھ واسطہ نہ ہوتے ہوئے "میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے" کسی کے ساتھ گزارے تھے جو خوشی کے پل بہت رلاتے ہیں اب رابطہ نہ ہوتے ہوئے ہزار مصلحتوں کا حجاب حائل تھا ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہ ہوتے ہوئے عجیب شے ہے محبت...
  2. طارق شاہ

    شفیق خلش ::::::لالا کے چشمِ نم میں مِرے خواب تھک گئے:::::: Shafiq-Khalish

    غزل لالا کے چشمِ نم میں مِرے خواب تھک گئے جُھوٹے دِلاسے دے کےسب احباب تھک گئے یادیں تھیں سَیلِ غم سے وہ پُرآب تھک گئے رَو رَو کے اُن کے ہجر میں اعصاب تھک گئے خوش فہمیوں کےڈھوکے ہم اسباب تھک گئے آنکھوں میں بُن کے روز نئے خواب تھک گئے جی جاں سے یُوں تھے وصل کو بیتاب تھک گئے رکھ کر خیالِ خاطر و...
  3. عاطف ملک

    ملیں گے رہنما ایسا نہیں ہے

    ایک طرحی غزل استادِ محترم الف عین اور محفلین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ ملیں گے رہنما ایسا نہیں ہے کہ الفت راستہ ایسا نہیں ہے جو خود جل کر کرے دنیا کو روشن یہاں کوئی دیا ایسا نہیں ہے کبھی ان پھول سے ہونٹوں پہ ٹھہرے ہمارا تذکرہ ایسا نہیں ہے چلو مانا اسے تھی فکر میری مگر وہ پیار تھا ایسا نہیں...
  4. عاطف ملک

    یہ اہتمام ہے کس موجِ بے کراں کے لیے

    یہ اہتمام ہے کس موجِ بے کراں کے لیے جہاز راں جو لپکتے ہیں بادباں کے لیے گلوں نے باغ کو مہکایا باغباں کے لیے کہ اجرِ مہر ہی سجتا ہے مہرباں کے لیے یہ دل پلا ہے تمہارے ستم کے شعلوں پر غمِ حیات تو امرت ہے اس جواں کے لیے ہے ادعائے محبت تو رنج و غم سے نہ ڈر کہ وار دیتے ہیں لوگ اپنی جاں زباں کے لیے...
  5. عاطف ملک

    ٹوٹا مندر دیکھے کوئی

    ٹوٹا مندر دیکھے کوئی میرے دل میں جھانکے کوئی ایک اک کر کے بکھر چکے ہیں میرے خواب سمیٹے کوئی تیری آنکھیں غیر کی طالب آئینہ کیوں دیکھے کوئی دل کے باغ میں ہے ویرانی خوشبو آن بکھیرے کوئی کب سوچوں میں گم ہو جائے جانے بیٹھے بیٹھے کوئی چُھو کر عشق کی بادِ صبا کو پھولوں جیسا نکھرے کوئی غم کے...
  6. عاطف ملک

    ٹھوکر لگی جو آیا کسی کی نگاہ میں

    ٹھوکر لگی جو آیا کسی کی نگاہ میں کنکر پڑا ہو تھا کہیں کوئی راہ میں قتلِ انا کے راستے دشوار تھے مگر ان سے بھی ہم گزر ہی گئے تیری چاہ میں وہ اور ہی کسی کے ستم کی تھی داستاں تم ہم سے ہوگئے ہو خفا خوامخواہ میں سر تم نے اس کے در پہ جھکایا تھا کس لیے ہے فرق قتل گاہ میں اور سجدہ گاہ میں اس نے بھی...
  7. عاطف ملک

    داغ سبب کھلا یہ ہمیں اُن کے منہ چھپانے کا

    سبب کھلا یہ ہمیں اُن کے منہ چھپانے کا اڑا نہ لے کوئی انداز مسکرانے کا طریق خوب ہے یہ عمر کے بڑھانے کا کہ منتظر رہوں‌ تا حشر اُن کے آنے کا چڑھاؤ پھول میری قبر پر جو آئے ہو کہ اب زمانہ گیا تیوری چڑھانے کا وہ عذرِ جرم کو بدتر گناہ سے سمجھے کوئی محل نہ رہا اب قسم کے کھانے کا بہ تنگ آکے جو کی میں...
  8. عاطف ملک

    جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں

    جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں وہ گھر ہے جو مکین کے لائق بنا نہیں ایسا مرض نہیں کوئی جس کی شفا نہیں درماں ہی وجہِ درد اگر ہو دوا نہیں کہنے کو آدمی سے بڑے آدمی بہت سوچو تو آدمی سے کوئی بھی بڑا نہیں کس نے کہا کہ عشق ہے ہر درد کی دوا آبِ بقا یہ ہو تو ہو آبِ شفا نہیں مانا کہ مجھ میں بھی...
  9. کاشفی

    پتھر کے خدا، پتھر کے صنم، پتھر کے ہی انساں پائے ہیں - سدرشن فاخر

    غزل (سدرشن فاخر) پتھر کے خدا، پتھر کے صنم، پتھر کے ہی انساں پائے ہیں تم شہرِ محبت کہتے ہو ہم جان بچا کر آئے ہیں بت خانہ سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے ہم لوگ وہیں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں ہم سوچ رہے ہیں مدت سے اب عمر گزاریں بھی تو کہاں صحرا میں خوشی کے پھول نہیں شہروں...
  10. کاشفی

    اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں - سدرشن فاخر

    غزل (سدرشن فاخر) اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں ہم ان کے لیے زندگانی لٹا دیں ہر اک موڑ پر ہم غموں کو سزا دیں چلو زندگی کو محبت بنا دیں اگر خود کو بھولے تو کچھ بھی نہ بھولے کہ چاہت میں ان کی خدا کو بھلا دیں کبھی غم کی آندھی جنہیں چھو نہ پائے وفاؤں کے ہم وہ نشیمن بنا دیں قیامت کے دیوانے...
  11. کاشفی

    محفل میں اِدھر اور اُدھر دیکھ رہے ہیں - میلہ رام وفاؔ

    غزل (میلہ رام وفا) محفل میں اِدھر اور اُدھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں عالم ہے ترے پَرتو رُخ سے یہ ہمارا حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں بھاگے چلے جاتے ہیں اِدھر کو تو عجب کیا رُخ لوگ ہواؤں کا جدھر دیکھ رہے ہیں ہوگی نہ شبِ غم تو قیامت سے ادھر ختم ہم شام ہی سے...
  12. کاشفی

    جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا - کفیل آزر امروہوی

    غزل (کفیل آزر امروہوی) جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا وہ مری آنکھوں میں پانی دے گیا جاگتے لمحوں کی چادر اوڑھ کر کوئی خوابوں کو جوانی دے گیا میرے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر مجھ کو زخموں کی کہانی دے گیا حل نہ تھا مشکل کا کوئی اس کے پاس صرف وعدے آسمانی دے گیا خود سے شرمندہ مجھے ہونا پڑا...
  13. کاشفی

    ظلم کو تیرے یہ طاقت نہیں ملنے والی - طفیل چترویدی

    غزل (طفیل چترویدی) ظلم کو تیرے یہ طاقت نہیں ملنے والی دیکھ تجھ کو مری بیعت نہیں ملنے والی لوگ کردار کی جانب بھی نظر رکھتے ہیں صرف دستار سے عزت نہیں ملنے والی شہر تلوار سے تم جیت گئے ہو لیکن یوں دلوں کی تو حکومت نہیں ملنے والی راستے میں اسے دیکھا ہے کئی روز کے بعد آج تو رونے کو فرصت...
  14. کاشف اختر

    اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے......... از شمیم حنفی

    اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے دل آٹھ پہر اپنی حدیں ڈھونڈ رہا ہے احساس کی وادی میں کوئی صوت نہ صورت یہ منزل عرفان تک آنے کا صلہ ہے زخموں کے بیاباں میں کوئی پھول نہ پتھر یادوں کے جزیرے میں نہ بت ہیں نہ خدا ہے اک خاک کے پیکر کا تماشہ ہے سڑک پر ہر شخص یہاں قہر کی تصویر بنا ہے مٹی کے...
  15. فرقان احمد

    یہ مشغلہ ہے کسی کا، نجانے کیا چاہے ::: زاہد آفاق

    ﯾﮧ ﻣﺸﻐﻠﮧ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﮐا نجانے ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﻧﮧ ﻓﺎﺻﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﭩﺎئے، ﻧﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﭼﺎﮨﮯ! ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺴﺎﻁ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺑﺮﮒِ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﺍﮌﺍ ﮐﮯ ﻟﮯ ﭼﻠﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ، ﺟﺪﮬﺮ ﮨﻮﺍ ﭼﺎﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺻﻞ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺮﺟﻤﺎﮞ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﯿﺎﺩ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮨﮯ ﺟﻼ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﻧﺸﯿﻤﻦ، ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﮈﻭﺑﻨﮯ...
  16. فرقان احمد

    غُبارِ راہ تا حدِ نظر ہے ::: سید عارف

    غُبارِ راہ تا حدِ نظر ہے ۔۔۔! خدا جانے ابھی کتنا سفر ہے! ابھی سے ہی سحر کا تذکرہ کیا ابھی تو رات کا پہلا پہر ہے ہمیں حالات سے غافل نہ جانو ہمیں اک ایک لمحے کی خبر ہے ابھی تخلیق کی منزل میں ہے جو وہ لمحہ بھی مرے پیشِ نظر ہے تجھے افسانہء غم کیا سناؤں ترا ذوقِ سماعت مختصر ہے مزاجِ یار کیا بدلا...
  17. فرقان احمد

    گھر میں بھی وحشت ہے اور ویسی ہے بزم آرائی بھی ::: صفدر صدیق رضی

    گھر میں بھی وحشت ہے اور ویسی ہے بزم آرائی بھی پہلے ہمیں وہ چھوڑ گیا، پھر چھوڑ گئی تنہائی بھی ۔۔۔! ہم نے اُصولوں کی حُرمت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا گویائی کو روتے روتے جاتی رہی بینائی بھی ۔۔۔! اندر کے دُکھ سیپ میں جیسے موتی پلتے رہتے ہیں ساحل کا رستہ تکتی ہے ساگر کی گہرائی بھی ۔۔۔! تنگ مکانوں میں...
  18. فرقان احمد

    مثالِ ریگ مٹھی سے پھسلتا جا رہا ہوں ::: ظفر خان نیازی

    مثالِ ریگ مٹھی سے پھسلتا جا رہا ہوں ۔۔۔! ظفر لوگوں کے جیون سے نکلتا جا رہا ہوں بہت آساں بہت جلدی سفر ڈھلوان کا ہے سو پتھر کی طرح پگ پگ اچھلتا جا رہا ہوں کھنچا جاتا ہوں یوں اگلے پڑاؤ کی کشش میں ۔۔۔! تھکن سے چور ہوں میں پھر بھی چلتا جا رہا ہوں ہنر اس کھوکھلی دنیا میں جینے کا یہی ہے برنگ آب ہر...
  19. فرقان احمد

    افتخار عارف امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں

    امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں ذرا سی دیر کو دُنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں بکھر چکے ہیں بہت باغ و دشت و دریا میں اب اپنے حجرہ جاں میں سمٹ کے دیکھتے ہیں تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں پھر اس کے بعد جو ہونا ہے ہو رہے سر ِدست بساطِ عافیت ِجاں...
  20. فرقان احمد

    چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا ::: شبنم شکیل

    چلتے رہے تو کون سا اپنا کمال تھا یہ وہ سفر تھا جس میں ٹھہرنا محال تھا اک دوسرے کا قرب ہوا خوف میں نصیب اب شہر میں ہر اک کو ہر اک کا خیال تھا رہتی تھی اس میں آٹھ پہر اک چہل پہل رونق میں دل کا شہر کبھی بے مثال تھا ! میں خود میں گم تھی اور مجھے اپنی خبر نہ تھی دیکھا جو آئینہ تو عجب میرا حال تھا...
Top