ترس ہم پر اگر وہ کھا رہے ہیں

عاطف ملک

محفلین
ایک اور کاوش استادِ محترم اور احباب کے ذوق کی نذر:
ترس ہم پر اگر وہ کھا رہے ہیں
تو پھر ملنے سے کیوں کترا رہے ہیں


جو کہتے تھے ہمیں گمراہِ منزل
ہمارے پیچھے پیچھے آرہے ہیں

کہا تھا تم نے پچھتاؤ گے اک دن
ذرا دیکھو تو، ہم پچھتا رہے ہیں

تمہارا ذکر ہے، ہم ہیں، قلم ہے
کئی دیوان لکھے جا رہے ہیں

جو ہیں ناواقفِ آدابِ محفل
سبب یہ ہے کہ ہم تنہا رہے ہیں

ہمیں ماضی کے طعنے دینے والو
ہمیں معلوم ہے، ہم کیا رہے ہیں

کسی کا مان رکھنا مدّعا ہے
سو ہم خوش ہیں، سو ہم مسکا رہے ہیں

نصیحت کیلیے کیا کم ہے عاطفؔ؟
جو تھے ساتھی، بچھڑتے جا رہے ہیں

عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۱۹
 
مدیر کی آخری تدوین:
ایک اور کاوش استادِ محترم اور احباب کے ذوق کی نظر:
اگر وہ ترس ہم پر کھا رہے ہیں
تو پھر ملنے سے کیوں کترا رہے ہیں

جو کہتے تھے ہمیں ہمیں گمراہِ منزل
ہمارے پیچھے پیچھے آرہے ہیں

کہا تھا تم نے پچھتاؤ گے اک دن
ذرا دیکھو تو، ہم پچھتا رہے ہیں

تمہارا ذکر ہے، ہم ہیں، قلم ہے
کئی دیوان لکھے جا رہے ہیں

جو ہیں ناواقفِ آدابِ محفل
سبب یہ ہے کہ ہم تنہا رہے ہیں

ہمیں ماضی کے طعنے دینے والو
ہمیں معلوم ہے، ہم کیا رہے ہیں

کسی کا مان رکھنا مدّعا ہے
سو ہم خوش ہیں، سو ہم مسکا رہے ہیں

نصیحت کیلیے کیا کم ہے عاطفؔ؟
جو تھے ساتھی، بچھڑتے جا رہے ہیں

عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۱۹
واہ صاحب۔ داد قبول فرمائیے
 
واہ ! بہت خوب عاطف بھائی ! اچھی غزل ہے ۔ بہت داد آ پ کے لئے ۔
مطلع میں البتہ گڑبڑ ہے ۔ ترس کا وزن فعو ہے ۔ سو پہلا مصرع وزن میں نہیں ۔ اسے درست کرلیجئے۔
 

عاطف ملک

محفلین
واہ صاحب۔ داد قبول فرمائیے
شکریہ محترم:)
بہت شکریہ:)
واہ ! بہت خوب عاطف بھائی ! اچھی غزل ہے ۔ بہت داد آ پ کے لئے ۔
مطلع میں البتہ گڑبڑ ہے ۔ ترس کا وزن فعو ہے ۔ سو پہلا مصرع وزن میں نہیں ۔ اسے درست کرلیجئے۔
بہت شکریہ محترم ظہیر صاحب:)
ہمیں لگا تھا "ر" مفتوح اور ساکن دونوں صورتوں میں مستعمل ہے(n)
 
بہت شکریہ محترم ظہیر صاحب:)
ہمیں لگا تھا "ر" مفتوح اور ساکن دونوں صورتوں میں مستعمل ہے(n)
عاطف بھائی ، ترس بروزن فاع فارسی کا لفظ ہے جس کے معنی خوف ، ڈر وغیرہ کے ہیں ۔ آپ نے اکثر ناولوں افسانوں میں اس طرح کا جملہ پڑھا ہوگا کہ: اس نے مجھے ترسناک نگاہوں سے دیکھا وغیرہ ۔
آپ نے جو ترس کھانا استعمال کیا ہے اُس میں ترس ہندی کا لفظ ہے اور بروزن فعو ہے ۔

اور یہ آپ نے کیا کیا کہ ترس کو رحم سے بدل دیا ۔ مصرع بے مزا ہوگیا ۔ ارے بھائی صرف لفظوں کی نشست بدلنی تھی مصرع درست ہوجاتا ۔ یوں کرنا تھا: ترس ہم پر اگر وہ کھارہے ہیں
 

عاطف ملک

محفلین
عاطف بھائی ، ترس بروزن فاع فارسی کا لفظ ہے جس کے معنی خوف ، ڈر وغیرہ کے ہیں ۔ آپ نے اکثر ناولوں افسانوں میں اس طرح کا جملہ پڑھا ہوگا کہ: اس نے مجھے ترسناک نگاہوں سے دیکھا وغیرہ ۔
آپ نے جو ترس کھانا استعمال کیا ہے اُس میں ترس ہندی کا لفظ ہے اور بروزن فعو ہے ۔

اور یہ آپ نے کیا کیا کہ ترس کو رحم سے بدل دیا ۔ مصرع بے مزا ہوگیا ۔ ارے بھائی صرف لفظوں کی نشست بدلنی تھی مصرع درست ہوجاتا ۔ یوں کرنا تھا: ترس ہم پر اگر وہ کھارہے ہیں
(n)
محمد خلیل الرحمٰن صاحب کریں گے اب یہ،معاملہ ہمارے اختیارات سے تجاوز کر چکا ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
اب تو مجھے کوئی غلطی نظر نہیں آ رہی، سوائے اس کے کہ مسکانا مسکرانا کی وہ شکل ہے جو ہندی میں مخصوص ہے، اردو میں کچھ کھٹکا۔
اصل مراسلے میں ہی ترس والی ترمیم نہیں کی جاتی تو بہتر تھا اب تو کنفیوژن بڑھ گیا ہے کہ ر ساکن استعمال کیا گیا ہے یا مفتوح! یعنی ان لوگوں کے لیے جو اس کی تقطیع سے واقف نہ ہوں
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے، یہ تعریف تو کرنی ہی بھول گیا بلکہ یہ غلط فہمی ہوئی کہ اصلاح کے لیے پیش کی گئی ہے
 

عاطف ملک

محفلین
:redheart:
اب تو مجھے کوئی غلطی نظر نہیں آ رہی، سوائے اس کے کہ مسکانا مسکرانا کی وہ شکل ہے جو ہندی میں مخصوص ہے، اردو میں کچھ کھٹکا۔
اصل مراسلے میں ہی ترس والی ترمیم نہیں کی جاتی تو بہتر تھا اب تو کنفیوژن بڑھ گیا ہے کہ ر ساکن استعمال کیا گیا ہے یا مفتوح! یعنی ان لوگوں کے لیے جو اس کی تقطیع سے واقف نہ ہوں
استاد محترم،
مطلع کا اولین مصرع "اگر وہ ترس ہم پر کھا رہے ہیں"
تھا جس کو موجودہ صورت میں بدل دیا ہے، مجھے تَرَس کے تلفظ کے حوالے سے مغالطہ ہوا تھا۔
اچھی غزل ہے، یہ تعریف تو کرنی ہی بھول گیا بلکہ یہ غلط فہمی ہوئی کہ اصلاح کے لیے پیش کی گئی ہے
بہت بہت شکریہ استادِ محترم،
آپ کی اصلاح کیلیے تو ہمہ وقت حاضر ہیں،
میں بھی اور میرا کلام بھی:)
ویسے یہ غزل اصلاح کی نیت سے ہی پوسٹ کی تھی
 
آخری تدوین:
آپ کی اصلاح کیلیے تو ہمہ وقت حاضر ہیں،
میں بھی اور میرا کلام بھی:)
ویسے یہ غزل اصلاح کی نیت سے ہی پوسٹ کی تھی

آپ کی اصلاح کے لیے تو بھابی صاحبہ ہی کافی ہوں گی ، باقی آپ کے کلام کی اصلاح کے لیے استادِ محترم موجود ہیں۔
 
عاطف ملک بھائی کی اس خوبصورت غزل کی پیروڈی یہاں ملاحظہ فرمائیے:
اب پیشِ خدمت ہے جناب عاطف ملک بھائی کی خوبصورت غزل کی پیروڈی

یقیناً چھپ کے وہ کچھ کھارہے ہیں
تبھی ملنے سے وہ کترا رہے ہیں

جو کہتے تھے ہمیں کھانے کا بھوکا
ہمارے پیچھے خود بھی کھارہے ہیں

کہا تھا تم نے کچھ کھاؤ گے اک دن
ذرا دیکھو تو، یہ ہم کھارہے ہیں؟

تمہارا ذکر ہے، ہم ہیں، کچن ہے
کئی پکوان چکھے جا رہے ہیں

بہت کچھ کھا چکے ہیں پیٹ بھر کر
مگر ہم , جو ابھی تک کھارہے ہیں

ہمیں کھانے کے طعنے دینے والو
ہمیں معلوم ہے کیا کھا رہے ہیں

جو تازہ تھے وہ ہم سب کھا چکے ہیں
جو تھے باسی وہ بچتے جا رہے ہیں

عاطف ملک کی غزل کی پیروڈی از محمد خلیل الرحمٰن
 
اب تو مجھے کوئی غلطی نظر نہیں آ رہی، سوائے اس کے کہ مسکانا مسکرانا کی وہ شکل ہے جو ہندی میں مخصوص ہے، اردو میں کچھ کھٹکا۔
اصل مراسلے میں ہی ترس والی ترمیم نہیں کی جاتی تو بہتر تھا اب تو کنفیوژن بڑھ گیا ہے کہ ر ساکن استعمال کیا گیا ہے یا مفتوح! یعنی ان لوگوں کے لیے جو اس کی تقطیع سے واقف نہ ہوں

فائنلی ترس کی کیا ہجے ہوگی ترس یا ترس

فارسی لفظ ترس (بروزن فاع بمعنی خوف یا ڈر )اردو میں مفرد لفظ کے طور پر مستعمل نہیں ہے ۔ یہ صرف مرکبات کی شکل میں ہی استعمال ہوتا ہے ۔ مثلا خدا ترس ، خدا ترسی، ترسناک وغیرہ ۔ اردو میں ترس کا لفظ جب مفرد صورت میں آئے تو یہ ہندی لفظ (بمعنی رحم بروزن فعو) ہی ہوتا ہے ۔ اور جب ترس کھانا اور ترس آنا لکھا ہو تو پھر اس کے بارے میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
 
Top