تعبیر چاہتا ہے یہ ہر ایک خواب کی

عاطف ملک نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 4, 2019

  1. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,149
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    تعبیر چاہتا ہے یہ ہر ایک خواب کی
    ضد بھی تو دیکھیے دلِ خانہ خراب کی

    ہاتھوں میں جام سامنے بوتل شراب کی
    ہم پر گنہ نہیں کہ ہے نیت ثواب کی

    سارے جہاں کو چھوڑ کے تجھ سے کیا ہے عشق
    مت کر قبول، داد تو دے انتخاب کی

    لب بستہ اس لیے ہیں کہ یہ جانتے ہیں ہم
    تجھ میں نہ ہو گی تاب ہمارے جواب کی

    جا تجھ کو زندگی میں کبھی غم نہ چھو سکے
    تا عمر تازگی رہے تجھ پر شباب کی


    بنتا ہے پیش خیمہ خوشی کا یوں رنج و غم
    ظلمت سے جیسے پھوٹے کرن آفتاب کی


    جانا ہی ہے اگر تو نہ کہیے گا الوداع
    تکلیف دیجیے نہ یوں دُہرے عذاب کی

    میں کیا کروں کہ نذر کے لائق نہیں ہے کچھ
    اک زندگی تھی، نام ترے انتساب کی

    عاطفؔ کا طرز سارے زمانے سے ہے جدا
    شہرِ سخن میں دھوم مری آب و تاب کی

    عاطفؔ ملک
    اگست ۲۰۱۹
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 5
  2. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,138
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    ضد بھی تو دیکھیے دلِ خانہ خراب کی
    واہ واہ واہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    18,424
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    واہ بھیا ،
    بہت بہت شاندار غزل ہے ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد امین صدیق

    محمد امین صدیق محفلین

    مراسلے:
    1,553
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    لاجواب ملک صاحب ۔
     
  5. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,149
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    حسنِ نظر ہے آپ کا بھائی
    بہت شکریہ
    شکریہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  6. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,886
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    واہ واہ! بہت خوب عاطف! اچھی غزل ہے! مطلع اچھا ہے!!!
    آپ کے کلام میں پختگی نمایاں تر ہوتی جارہی ہے! کیا بات ہے! بہت بہت داد!!

    میں کیا کروں کہ نذر کے لائق نہیں ہے کچھ
    اک زندگی تھی، نام ترے انتساب کی

    یہاں پہلے مصرع کا تقاضا ہے کہ ’’زندگی تھی‘‘ کے بجائے ’’زندگی ہے‘‘ ہونا چاہئے ۔ ابھی آپ زندہ ہیں تو کچھ اور نذر کرنے کی بات کررہے ہیں ۔ ( ویسے بھی عاشق تو محبوب پر زندگی نثار کرکے کچھ اور زندہ ہوجاتا ہے :):):)۔ )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,149
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    آپ کی تعریف بہت بڑا اعزاز ہے۔
    بہت شکریہ
    اس مصرع میں تھی اور ہے میں کنفیوز تھا، پھر تھی اس لیے کیا کہ جب کسی کے نام کر ہی دی تو زندگی اپنی کہاں رہی(n)
    بہرحال ہے درست ہے تو ویسا کر دیتا ہوں۔
    نشاندہی کیلیے شکریہ:)
    آپ کا تبصرہ پڑھ کے بہت خوشی ہوئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,886
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    میں کیا کروں کہ نذر کے لائق نہیں ہے کچھ
    اک زندگی تھی، نام ترے انتساب کی

    عاطف بھائی ، میںپہلے لکھنا بھول گیا لیکن ایک اور بات اس شعر کے متعلق یہ ہے کہ دوسرے مصرع میں یا تو یوں کہئے کہ زندگی تیرے نام کی ۔ یا یوں کہئے کہ زندگی تجھ سے انتساب کی ۔ "نام ترے انتساب کی" مجھے گڑبڑ لگ رہا ہے ۔ (سر کھجانے والا اسماعیلی اسمائیلی) :):):)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,149
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    حقیقت اتنی ہے اس کے مرے تعلق کی
    کسی کے دکھ تھے مرے نام انتساب ہوئے
    حیدر قریشی
    اور
    مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
    تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا
    پروین شاکر
    ہمیں تو یہ اشعار پڑھ یہی صورت بہتر معلوم ہوئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    9,027
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    ویسے میرے نزدیک تو "منسوب کرنے" کو "انتساب کرنا" کہنا ذرا عجیب ہی اسلوب ہے ۔ شعراء شاید قافیے کے ہاتھوں مجبور لگ رہے ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,086
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اسناد (n)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  12. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,886
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    عاطف بھائی ، انتساب ہونا تو لغت میں موجود ہے لیکن جیسا کہ سید شاہ صاحب نے کہا انتساب کرنا عجیب یا غیر فطری سا لگتا ہے ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اسی قبیل کے دوسرے الفاظ پر قیاس کرتے ہوئے "انتساب کرنا" استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ انتخاب منتخب کرنے کے عمل کا نام ہے لیکن ہم انتخاب کرنا بھی بولتے ہیں ۔ اسی طرح انتساب منسوب کرنے کے عمل کا نام ہے ۔ سو اس پر قیاس کرتے ہوئے انتساب کرنا بولاجاسکتا ہے ۔
    اسی طرح کسی کے نام انتساب کرنا بھی درست ہے ۔ اگرچہ اس بارے میں لغات خاموش ہیں لیکن ثقہ اور مستند لکھاریوں کے ہاں ایسا استعمال ملتا ہے ۔ مختار مسعود نے اپنی کتاب "لوحِ ایّام" کی ابتدا میں اس طرح لکھا ہے :

    انتساب

    چراغ اور دریچہ
    کے نام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  13. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    455
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    خوب۔۔۔ عاطف صاحب!!!
     
  14. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,005
    زبردست َزبردس ت
     
  15. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,149
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    بہت شکریہ ظہیر صاحب،
    اس بہانے سے کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
    شکریہ:)
    بہت شکریہ:)
     
  16. سہیل خان

    سہیل خان محفلین

    مراسلے:
    22
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    InLove
    واہ ،
    کیا بات ہے عاطف صاحب
     

اس صفحے کی تشہیر