فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو

عاطف ملک

محفلین
فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
کسی کے ہجر میں یوں کوئی بے قرار نہ ہو

لبوں پہ تذکرہ، دل میں خیالِ یار نہ ہو
دعا ہے عمر میں میری وہ پل شمار نہ ہو

خدایا ضبط عطا کر پہ اس قدر بھی نہ کر
کہ حالِ دل مرا ان پر ہی آشکار نہ ہو

لگایا جس نے مجھے روگ زندگی بھر کا
وہ زندگی میں کبھی غم سے ہم کنار نہ ہو

خدا کرے کہ نہ بیتے شبِ فراق اس پر
خدا کرے کہ کسی سے بھی اس کو پیار نہ ہو

بچھڑنے والے بھی لَوٹے ہیں آہ و زاری سے؟
کسی کے واسطے عاطفؔ یوں سوگوار نہ ہو

عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۱۹
 
مدیر کی آخری تدوین:

فاخر رضا

محفلین
لبوں پہ تذکرہ، دل میں خیالِ یار نہ ہو
دعا ہے عمر میں میری وہ پل شمار نہ ہو
بہترین دعا
خدایا ضبط عطا کر پہ اس قدر بھی نہ کر
کہ حالِ دل مرا ان پر ہی آشکار نہ ہو
بہت اعلیٰ
لگایا جس نے مجھے روگ زندگی بھر کا
وہ زندگی میں کبھی غم سے ہم کنار نہ ہو
اگر خدا نے روگ لگا دیا ہو تو کیا کہیے گا
 
واہ واہ واہ!! بہت خوب ! کیا اچھی غزل ہے عاطف بھائی !
کلاسیکی غزلیہ مضامین اور شستہ زبان! ماشاء اللہ آپ کی غزل کا رنگ نکھرتا جارہا ہے ۔
مطلع کے بارے میں ایک چھوٹا سا نکتہ گوش گزار ہے اور وہ یہ کہ واؤ عطف کے ساتھ اس طرح کی ترکیب میں نون غنہ کے بجائے اعلانِ نون ہوا کرتا ہے ۔ یعنی پہلا مصرع یوں ہونا چاہئے: فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
 

عاطف ملک

محفلین
:)
بہت شکریہ
اگر خدا نے روگ لگا دیا ہو تو کیا کہیے گا
:)
ماشاءاللہ ۔
بہت عمدہ غزل ۔

بھیا شاید یہاں ٹائپو ہے ، درست کر لیں ۔
شکریہ عدنان بھائی،
مجھے بھی فانٹ کی وجہ سے کافی مسئلہ ہوا تھا۔
واہ واہ واہ!! بہت خوب ! کیا اچھی غزل ہے عاطف بھائی !
کلاسیکی غزلیہ مضامین اور شستہ زبان! ماشاء اللہ آپ کی غزل کا رنگ نکھرتا جارہا ہے
بہت بہت شکریہ محترم ظہیر صاحب:)
آپ وقت نکال کر یہ اشعار پڑھتے ہیں اور اپنی پھر اپنی رائے بھی دیتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے:)
مطلع کے بارے میں ایک چھوٹا سا نکتہ گوش گزار ہے اور وہ یہ کہ واؤ عطف کے ساتھ اس طرح کی ترکیب میں نون غنہ کے بجائے اعلانِ نون ہوا کرتا ہے ۔ یعنی پہلا مصرع یوں ہونا چاہئے: فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
فارسی کی تراکیب کے حوالے سے اکثر کنفیوژن رہتی ہے کہ کہاں ں غنہ ہو گا اور کہاں معلنہ(n)
ن کا اعلان کر دیتے ہیں، مصرع تو بحر میں ہی رہے گا نا!
کیوں یاسر شاہ بھائی؟
 
فغاں و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
کسی کے ہجر میں یوں کوئی بے قرار نہ ہو

لبوں پہ تذکرہ، دل میں خیالِ یار نہ ہو
دعا ہے عمر میں میری وہ پل شمار نہ ہو

خدایا ضبط عطا کر پہ اس قدر بھی نہ کر
کہ حالِ دل مرا ان پر ہی آشکار نہ ہو

لگایا جس نے مجھے روگ زندگی بھر کا
وہ زندگی میں کبھی غم سے ہم کنار نہ ہو

خدا کرے کہ نہ بیتے شبِ فراق اس پر
خدا کرے کہ کسی سے بھی اس کو پیار نہ ہو

بچھڑنے والے بھی لَوٹے ہیں آہ و زاری سے؟
کسی کے واسطے عاطفؔ یوں سوگوار نہ ہو

عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۱۹
خوبصورت خوبصورت۔
 

عاطف ملک

محفلین
بہت شکریہ استادِ محترم:)
اعلان تو پھر سُخی ہی سے ہوتا ہے! ہم نے سُرخی میں بھی ن کا اعلان کردیا ہے۔
میرے پاس پوسٹ کی تدوین کا آپشن نہیں، ادھر بھی آپ ہی "اعلان" کر دیجیے:p
 

یاسر شاہ

محفلین
خوب غزل ہے بھائی عاطف



فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
کسی کے ہجر میں یوں کوئی بے قرار نہ ہو

گو اعلان نون سے اصول کی رعایت تو ہو گئی -مگر ابتدائی "ن -و-نا"کی آواز سے صوتی تنافر در آیا ہے - "فغان و نالہ" کی جگہ "بُکاونالہ " کیا جا سکتا ہے -
 

عاطف ملک

محفلین
خوب غزل ہے بھائی عاطف



فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
کسی کے ہجر میں یوں کوئی بے قرار نہ ہو

گو اعلان نون سے اصول کی رعایت تو ہو گئی -مگر ابتدائی "ن -و-نا"کی آواز سے صوتی تنافر در آیا ہے - "فغان و نالہ" کی جگہ "بُکاونالہ " کیا جا سکتا ہے -
صوتی تنافر کا تو یقیناً احساس ہے۔
چلیں دیکھتا ہوں۔بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اتنا اچھا مشورہ دیا۔
غزل کی تعریف کیلیے ممنون ہوں:)
بہت اعلیٰ۔
واہ واہ!
خوبصورت اشعار۔
بہت شکریہ آپا:)
عاطف بھائی کیا کہنے واہ واہ واہ کیا عمدہ غزل ہے
:in-love:
 
Top