جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں

عاطف ملک

محفلین

جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں
وہ گھر ہے جو مکین کے لائق بنا نہیں

ایسا مرض نہیں کوئی جس کی شفا نہیں
درماں ہی وجہِ درد اگر ہو دوا نہیں

کہنے کو آدمی سے بڑے آدمی بہت
سوچو تو آدمی سے کوئی بھی بڑا نہیں

کس نے کہا کہ عشق ہے ہر درد کی دوا
آبِ بقا یہ ہو تو ہو آبِ شفا نہیں

مانا کہ مجھ میں بھی نہیں باقی رہا وہ شوق
اے ہم نشین تو بھی تو اب دلربا نہیں

پہلو تہی، درشتی، رقیبوں سے التفات
ہے کیا ستم جو آپ نے ہم پر کیا نہیں

دونوں جہاں میں ساتھ نبھانے کی بات تھی
اور اس پہ بھی جواب ملا برملا نہیں

بلبل ہو، گل ہو، شمع ہو، جگنو ہو، یا ہو چاند
ایسا نہیں ہے کوئی جو تجھ پر فدا نہیں

وہ دل ہے کیسا دل کہ نہیں جس میں سوزِ عشق
وہ آنکھ کیا ہے دید کا در جس پہ وا نہیں

گرچہ بہت طویل ہے شب انتظار کی
پر ناامیدی شیوہِ اہل وفا نہیں

پوچھا ہے اس نے چاند کو تکتے ہو کس لیے
کیا اس میں خاص بات ہے اور مجھ میں کیا نہیں

عاطفؔ تو اس کی بات سے افسردہ دل نہ ہو
وہ تندخُو ضرور ہے دل کا برا نہیں
عاطفؔ ملک
۲۷ جون ۲۰۱۸​
 
بہت اعلیٰ عاطفؔ بھائی ! اچھے اشعار ہیں !

ایسا کوئی مرض نہیں جس کی شفا نہیں
درماں ہی وجہِ درد اگر ہو دوا نہیں

کس نے کہا کہ عشق ہے ہر درد کی دوا
آبِ بقا یہ ہو تو ہو آبِ شفا نہیں

کیا بات ہے ! سلامت رہیں !
 

فاخر رضا

محفلین
عاطفؔ تو اس کی بات سے افسردہ دل نہ ہو
وہ تندخُو ضرور ہے دل کا برا نہیں
بہت اچھے شعر ہیں جس طرح چاہے پڑھیں
 

عاطف ملک

محفلین
بہت اعلیٰ عاطفؔ بھائی ! اچھے اشعار ہیں !

ایسا کوئی مرض نہیں جس کی شفا نہیں
درماں ہی وجہِ درد اگر ہو دوا نہیں

کس نے کہا کہ عشق ہے ہر درد کی دوا
آبِ بقا یہ ہو تو ہو آبِ شفا نہیں

کیا بات ہے ! سلامت رہیں !
نوازش۔۔۔۔۔۔آداب۔۔۔۔۔۔شکریہ:)
آپ جیسے اساتذہ کی تعریف سے بہت ہمت بڑھتی ہے۔:)

بہت شکریہ فرحان بھائی:)
نوازش:)
عاطفؔ تو اس کی بات سے افسردہ دل نہ ہو
وہ تندخُو ضرور ہے دل کا برا نہیں
بہت اچھے شعر ہیں جس طرح چاہے پڑھیں
جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔پسندیدگی کیلیے ممنون ہوں:)
 

محمد فہد

محفلین
جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں
وہ گھر ہے جو مکین کے لائق بنا نہیں

ایسا مرض نہیں کوئی جس کی شفا نہیں
درماں ہی وجہِ درد اگر ہو دوا نہیں
نہایت عمدہ اور خوبصورت
غزل پیش کی آپ نے
ہر شعر ایک سے بڑھ کر ایک
 

عاطف ملک

محفلین
بہت شکریہ جناب:)
نہایت عمدہ اور خوبصورت
غزل پیش کی آپ نے
ہر شعر ایک سے بڑھ کر ایک
حسنِ ظن ہے آپ کا۔بہت شکریہ:)
شکریہ:)
 

محمداحمد

لائبریرین
جس دل میں صبر، ضبط، اطاعت، وفا نہیں
وہ گھر ہے جو مکین کے لائق بنا نہیں
کس نے کہا کہ عشق ہے ہر درد کی دوا
آبِ بقا یہ ہو تو ہو آبِ شفا نہیں
مانا کہ مجھ میں بھی نہیں باقی رہا وہ شوق
اے ہم نشین تو بھی تو اب دلربا نہیں
پہلو تہی، درشتی، رقیبوں سے التفات
ہے کیا ستم جو آپ نے ہم پر کیا نہیں
بلبل ہو، گل ہو، شمع ہو، جگنو ہو، یا ہو چاند
ایسا نہیں ہے کوئی جو تجھ پر فدا نہیں
گرچہ بہت طویل ہے شب انتظار کی
پر ناامیدی شیوہِ اہل وفا نہیں
پوچھا ہے اس نے چاند کو تکتے ہو کس لیے
کیا اس میں خاص بات ہے اور مجھ میں کیا نہیں

عاطف بھائی !

انتہائی خوبصورت اشعار سے گندھی یہ غزل بہت پسند آئی مجھے۔

حیرت یہ ہے کہ میں نے آج پڑھی۔

ڈھیروں داد اور مبارکباد آپ کے لئے۔
 
Top