شاعری

  1. جاسمن

    ملنا بچھڑنا

    یہ عمر بھر کی مسافت ہے، دل بڑا رکھنا کہ لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے رستے میں احمد فراز
  2. محمداحمد

    غالب کی زمین اور ہماری قافیہ پیمائی

    غزل کیوں مُستند خیال کروں ہر خبر کو میں کیا جانتا نہیں ہوں صفِ معتبر کو میں میں صاحبِ نظر نہ سہی، دیکھتا تو ہوں پھر کیا کروں ہر ایک کی فہم و نظر کو میں آمادہء سفر ہی نہ ہو ہم سفر تو پھر کیا خاک چھاننے کو چُنوں رہگزر کو میں کس مہرباں نے کھوٹی کی ہیں میری منزلیں؟ "پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر...
  3. سید عاطف علی

    غزل ۔ جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا

    کچھ اشعار پیش ہیں چند ایک روز سے زیر غور تھے ۔ غزل جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا کام آئے گی تمہاری نہ تدبیر دیکھنا پہلے تم اس کے دام کی تزویر دیکھنا پھر کس سے کون ہوتا ہے تسخیر دیکھنا اک دن مقابلے پہ صف آرا ملوں گا میں ٹوٹے گی میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ اب...
  4. سید عاطف علی

    ایک تازہ غزل ۔ڈبو کے چھوڑے گا تم کو یہ زعم یکتائی

    کچھ دنوں سے ایک دو مصرعے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔ انہیں ایک غزل کی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ جو ہم نہ ہوں تو ہے کس کام کی یہ رعنائی ڈبو کے چھوڑے گا تم کو یہ زعم یکتائی اگر چہ کہہ تو دیا تم نے جو میں چاہتا تھا وہ زیر و بم نہ تھے لیکن شریک گویائی چراغ ڈستے رہے میری تیرہ راتوں کو سحر نہ بن سکی...
  5. محمداحمد

    غزل: میں تو گریز پا تھا

    غزل میں تو گریز پا تھا دل نے تجھے چُنا تھا خود ہی سے ہر گِلہ تھا تجھ سے نہ کچھ کہا تھا میں نے جو خط لکھا تھا راہوں میں کھو گیا تھا کانٹے سے چُبھ رہے تھے میں پُھول چُن رہا تھا میں مَر گیا تھا شاید اعلان ہو رہا تھا کوئل چلی گئی جب تب پیڑ جَل گیا تھا دِل کو سنبھالنے میں میں ٹوٹنے لگا تھا...
  6. محمداحمد

    پیروڈی : اہلیہ کا مزاج اچھا ہے

    ہماری اپنی ہی ایک غزل ۔ ہماری اپنی ہی مشقِ ستم کے نشانے پر۔ اہلیہ کا مزاج اچھا ہے؟ یا مِرا کام کاج اچھا ہے کچھ کِھلاتے نہیں ہیں مہماں کو آپ کا یہ رواج اچھا ہے! کیسی اچھی ارینج میرج ہے! یعنی، ظالم سماج اچھا ہے شاید اُن کا مزاج ٹھنڈا ہو پی رہے ہیں وہ چھاج، اچھا ہے پانی پینے گئے تھے مسجد میں...
  7. جاسمن

    لاہور

    ‏اُس پیڑ سے پنچھی روٹھ گئے، اُس کا مُرجھانا اچھا تھا راوی یہ روایت کرتا ہے_____ لاہور پُرانا اچھا تھا
  8. محمداحمد

    غزل: ایک دن، اک عدد لڑائی کی

    غزل ایک دن، اک عدد لڑائی کی اور بصد شدّ و مد لڑائی کی جب نہ رستہ فرار کا پایا تب بصد ردّ و کد لڑائی کی رشک کرتے رہے مقابل پر اور ورائے حسد لڑائی کی بڑھ گیا اعتماد اپنے پر جب نہ پہنچی رسد، لڑائی کی آج آئی تھی صلح کی تجویز وہ بھی کی ہم نے رد، لڑائی کی اِس کی خاطر الجھ گئے اُس سے بر بِنائے...
  9. محمداحمد

    غزل: قدر میں ہیں، نہ ہی قضا میں ہیں

    غزل قدر میں ہیں، نہ ہی قضا میں ہیں کام سارے ہی التوا میں ہیں مبتلا ہوگئے محبت میں اب شب و روز ابتلا میں ہیں اِک نہ اِ ک روز مل ہی جائیں گے آپ ، ہم ایک ہی دِشا میں ہیں غم نہ کیجے ، ہیں آگے اچھے دن آپ شامل مِری دعا میں ہیں اس سے بڑھ کر ہے کون مشاطہ روپ کے رنگ سب حیا میں ہیں اب، کہ جب پار...
  10. محمداحمد

    غزل : ستم گو ان گنت ڈھائے گی دنیا

    غزل ستم گو ان گنت ڈھائے گی دنیا مگر معصوم بن جائے گی دنیا یہی ہر سرپھرے کی ہے کہانی تجھے بھی یار سمجھائے گی دنیا ابھی تو جستجو کی ابتداء ہے فقط تہدید فرمائے گی دنیا فقط تمہید ہے یہ کلفتوں کی ابھی تو رنگ دکھلائے گی دنیا نہ گِرنا تم مگر جھولی میں اس کی تمہارے دام لگوائے گی دنیا ابھی تو پر...
  11. محمداحمد

    غزل: پہلے اپنے آپ کو مِسمار کر

    غزل پہلے اپنے آپ کو مِسمار کر پھر نیا اک آدمی تیار کر یہ غُرور و فخر ہے کِس بات کا عاجزی کو طُرہٴ دستار کر سہل انگاری کہاں تک، اُٹھ ذرا زندگی کو اور مت دشوار کر خوش امیدی کو بنا بانگِ جرس آرزو کو قافلہ سالار کر روشنی کے رنگ کا پرچم بنا عزم کو اس کا علم بردار کر اب تلک جو ہو چکا، سو ہو...
  12. محمداحمد

    غزل : اِس قدر اضطراب دیوانے؟

    یہ غزل دو چار ماہ پرانی ہے۔آج احباب کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ غزل اِس قدر اضطراب دیوانے؟ تھا جُنوں ایک خواب دیوانے! ہم ہیں آشفتہ سر ہمیشہ سے ہم تو ہیں بے حساب دیوانے فاتر العقل ہیں نہ مجنوں ہیں ہم ہیں عزت مآب دیوانے آئے نکہت فشاں چمن میں وہ ہو رہے ہیں گلاب دیوانے ہیں خرد مند فیس بک پر...
  13. رشید حسرت

    کور چشموں میں آئینے

    میں کور چشموں میں اب آئینے رکُھوں گا کیا کوئی پڑھے گا نہِیں مُجھ تو لِکُھوں گا کیا؟ میں دِل سے تھوڑی یہ کہتا ہوں "تُم بِچھڑ جاؤ" تُمہارے ہِجر کے صدمے میں سہہ سکُوں گا کیا؟ کوئی جو پُوچھے کہ شِعر و سُخن میں کیا پایا تو سوچتا ہوں کہ اِس کا جواب دُوں گا کیا؟ میں اپنے بچّوں کو بازار لے تو آیا ہوں...
  14. رشید حسرت

    اعری

    غزل چلو اب غور کر لیتے ہیں شائد کُچھ سُنائی دے محبّت ہر قدم کم ظرف لوگوں کی دُہائی دے لِکھی ہے میں نے عرضی اِس عِلاقے کے وڈیرے کو مِرا لُوٹا ہؤا سامان واپس مُجھ کو بھائی دے کہا بھائی سے میں نے تیری منگنی تو کرا ڈالی مگر شادی کی یہ ہے شرط کہ جا کر کما عِیدےؔ بڑھی مہنگائی تو یارو، ہوئی ہے...
  15. رشید حسرت

    غزل۔

    غزل مِرے بِستر پہ آتے ہی تصّوُر جاگتا ہے تِری پائل کی چھن چھن سا کوئی سُر جاگتا ہے کوئی بد بخت اُس شب کو بدل لیتا ہے خیمہ مُقدّر جاگتا ہے حُر کا، سو حُر جاگتا ہے اگرچہ تُم سے بِچھڑے بھی زمانے ہوگئے ہیں ابھی تک تیرے لہجے کا ہی تاثُر جاگتا ہے بہُت مُحتاط رہنے کی ضرُورت پِھر بھی ہوگی یقیں جِتنا...
  16. رشید حسرت

    غزل::دیکھا نہ کبھی تُم نے سُنا، دیکھتا ہوں میں::رشید حسرت

    غزل دیکھا نہ کبھی تُم نے سُنا، دیکھتا ہوں میں بس تُم کو نہیں اِس کا پتا دیکھتا ہوں میں چہروں کی لکِیروں کے مُجھے قاعدے از بر پڑھتا ہوں وہی جو بھی لِکھا دیکھتا ہوں میں ماضی کے جھروکوں سے نہیں جھانک ابھی تُو (غش کھا کے گِرا) شخص پڑا دیکھتا ہوں میں کہنے کو تِرا شہر بہُت روشن و تاباں ہر چہرہ مگر...
  17. رشید حسرت

    غزل:: بنا کے رکھا ہے ذہنی مرِیض ہم کو تو:: از رشید حسرت

    غزل بنا کے رکھا ہے ذہنی مرِیض ہم کو تو نہیں ہے زِیست بھی ہرگز عزِیز ہم کو تو وہ اور تھے کہ جِنہیں دوستی کا پاس رہا گُماں میں ڈال دے چھوٹی سی چِیز ہم کو تو کہاں کے مِیر ہیں، پُوچھو فقِیر لوگوں سے نہِیں ہے ڈھب کی میسّر قمِیض ہم کو تو بڑوں سے دِل سے عقِیدت ہے پیار چھوٹوں سے خیال کرتے ہو جو بد...
  18. رشید حسرت

    غزل

    غزل جو گِیت اوروں کے بے وجہ گانے لگتے ہیں تو ہوش دو ہی قدم میں ٹِھکانے لگتے ہیں بِگاڑنا تو تعلُّق کا ہے بہت آساں اِسے بنانے میں لیکِن زمانے لگتے ہیں کبھی وہ آ نہِیں سکتا کبھی ہے رنجِیدہ مُجھے تو یہ کوئی جُھوٹے بہانے لگتے ہیں یہ سِین ہے کہ ملے ہیں وہ ایک مُدّت بعد مُہر بہ لب ہی ہتِھیلی...
  19. رشید حسرت

    غزل

    میں ہُوں ذرّہ تُو اگر آفتاب اپنے لیئے تیرے سپنے ہیں، مِرے ٹُوٹے سے خواب اپنے لیئے میں نے سوچا ہے کِسی روز چمن کو جا کر چُن کے لاؤں گا کوئی تازہ گُلاب اپنے لیئے جِن کی تعبِیر نہِیں خواب وہ دیکھے میں نے شب گُزشتہ ہی تو سُلگائے وہ خواب اپنے لیئے تِیس پاروں کے تقدُّس کی قسم کھاتا ہوں نُور کا...
  20. رشید حسرت

    غزل

    غزل ہے اِس کا ملال اُس کو، ترقّی کا سفر طے کیوں میں نے کیا، کر نہ سکا وہ ہی اگر طے جو مسئلہ تھا اُن کا بہت اُلجھا ہؤا تھا کُچھ حِکمت و دانِش سے کِیا میں نے مگر طے ہو جذبہ و ہِمّت تو کٹِھن کُچھ بھی نہِیں ہے ہو جائے گا اے دوستو دُشوار سفر طے کِس طرز کا اِنساں ہے، نسل کیسی ہے اُس کی بس ایک...
Top