اردو غزل

  1. کاشفی

    لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا - داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ

    غزل (داغ دہلوی مرحوم و مغفور رحمتہ اللہ علیہ) لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا اپنے دل کو بھی بتاؤں نہ ٹھکانا تیرا سب نے جانا جو پتا ایک نے جانا تیرا تو جو اے زلف پریشان رہا کرتی ہے کس کے اُجڑے ہوئے دل میں ہے ٹھکانا تیرا آرزو ہی نہ رہی صبحِ وطن کی مجھ کو...
  2. کاشفی

    جانے کتنی اُڑان باقی ہے

    غزل (راجیش ریڈی) جانے کتنی اُڑان باقی ہے اس پرندے میں جان باقی ہے جتنی بٹنی تھی بٹ چکی یہ زمیں اب تو بس آسمان باقی ہے اب وہ دنیا عجیب لگتی ہے جس میں امن و امان باقی ہے امتحاں سے گزر کے کیا دیکھا اک نیا امتحان باقی ہے سر قلم ہوں گے کل یہاں ان کے جن کے منہ میں زبان باقی ہے
  3. کاشفی

    یہاں ہرشخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے - راجیش ریڈی

    غزل (راجیش ریڈی - ممبئی، ہندوستان) یہاں ہرشخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہے کھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہ بڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے نہ بس میں زندگی اس کے نہ قابو موت پر اس کا مگر انسان پھر بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے عجب یہ زندگی کی...
  4. کاشفی

    افتخار عارف اب بھی توہینِ اطاعت نہیں ہوگی ہم سے - افتخار عارف

    غزل (افتخار عارف) اب بھی توہینِ اطاعت نہیں ہوگی ہم سے دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیت کے ساتھ رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے دل کے معبود جبینوں کے خدائی سے الگ ایسے عالم میں عبادت نہیں ہوگی ہم سے اجرت عشق وفا ہے تو ہم ایسے مزدور کچھ بھی کرلیں گے یہ محنت...
  5. کاشفی

    یہ کب چاہا کہ میں مشہور ہو جاؤں - راجیش ریڈی

    غزل (راجیش ریڈی - ممبئی، ہندوستان) یہ کب چاہا کہ میں مشہور ہو جاؤں بس اپنے آپ کو منظور ہو جاؤں نصیحت کر رہی ہے عقل کب سے کہ میں دیوانگی سے دور ہو جاؤں نہ بولوں سچ تو کیسا آئینہ میں جو بولوں سچ تو چکنا چور ہو جاؤں ہے میرے ہاتھ میں جب ہاتھ تیرا عجب کیا ہے جو میں مغرور ہو جاؤں بہانہ کوئی تو اے...
  6. راحیل فاروق

    شاعر ہے راحیلؔ غضب کا، اس کی غزل کا کافر کافر

    میرے شوق کی بےتابی سے تجھ کو قیامت یاد آئی ہے آنکھ اٹھا کے دیکھ ذرا، خود تو نے قیامت کیا ڈھائی ہے ویرانی سی ویرانی ہے، تنہائی سی تنہائی ہے پہلے ٹوٹ کے رونے والا اب خاموش تماشائی ہے شوخ ہوا کا مہکتا جھونکا گلیوں سے اٹھلاتا گزرا چیخیں مار کے رویا پاگل، "ہرجائی ہے! ہرجائی ہے!" قہر نہیں یہ دَورِ...
  7. طارق شاہ

    شاؔہد شاہنواز ::::: دِل دھڑکتا ہے تو ہوتا ہے گُماں عید کے دِن ::::: Shahid Nawaz

    عید کے دِن ! شاؔہد شاہنواز دِل دھڑکتا ہے تو ہوتا ہے گُماں عید کے دِن میرے دِل میں بھی اُمنگیں ہیں جواں عید کے دِن خاک کی مِثل نہیں ہُوں، نہ کوئی پتّھر ہُوں کُچھ نہ کُچھ میرا بھی ہے نام و نِشاں عید کے دِن گھر سے ہُوں دُور، پریشان ہُوں، بدحال ہُوں میں ! کاش گھر میں ہو مُسرّت کا سماں عید...
  8. راحیل فاروق

    مزاجِ گرامی کی حد ہو گئی

    جہاں نیک نامی کی حد ہو گئی سمجھ، تشنہ کامی کی حد ہو گئی روا نا روا میں پھنسے رہ گئے غلامو! غلامی کی حد ہو گئی اُدھر ذرہ ذرہ ہوا آفتاب اِدھر نا تمامی کی حد ہو گئی وہی ایک خامی جنوں کی رہی اور اس ایک خامی کی حد ہو گئی خفا کس سے راحیلؔ صاحب نہیں؟ مزاجِ گرامی کی حد ہو گئی فغاں قریہ قریہ، غزل...
  9. راحیل فاروق

    مضمون، خیال اور معنیٰ

    جناب طالب سحر نے آج ایک لڑی میں ہونے والی گفتگو کو مندرجہ ذیل مراسلے سے پھر تازہ کیا: میں شرمندہ ہوں کہ ایک عہد کے باعث وہاں جواب نہیں دے سکتا۔ لہٰذا یہ نیا دھاگا کھولتے ہی بنی۔ گو کہ موصوف نے چند ایک سوالات اور بھی اٹھائے ہیں مگر میں اپنی توجہ اسی معاملے پر مرکوز کرنی چاہتا ہوں جس میں انھوں...
  10. غدیر زھرا

    مومن صبر وحشت اثر نہ ہو جائے

    صبر وحشت اثر نہ ہو جائے کہیں صحرا بھی گھر نہ ہو جائے رشک پیغام ہے عناں کش دل نامہ بر راہبر نہ ہو جائے دیکھو مت دیکھیو کہ آئینہ غش تمھیں دیکھ کر نہ ہو جائے ہجر پردہ نشیں میں مرتے ہیں زندگی پردہء در نہ ہو جائے کثرتِ سجدہ سے وہ نقشِ قدم کہیں پامال سر نہ ہو جائے میرے تغییرِ رنگ کو مت دیکھ تجھ...
  11. غدیر زھرا

    جگر اے حسنِ یار شرم، یہ کیا انقلاب ہے

    اے حسنِ یار شرم، یہ کیا انقلاب ہے تجھ سے زیادہ درد ترا کامیاب ہے عاشق کی بے دلی کا تغافل نہیں جواب اس کا بس ایک جوشِ محبت جواب ہے تیری عنایتیں کہ نہیں نظرِ جاں قبول تیری نوازشیں کہ زمانہ خراب ہے اے حسن اپنی حوصلہ افزائیاں تو دیکھ مانا کہ چشمِ شوق بہت بے حجاب ہے میں عشقِ بے نیاز ہوں تم حسنِ...
  12. حسن محمود جماعتی

    بہت کٹھن تھا میرے انتظار کا لمحہ::::: محمد حفیظ:::

    بہت کٹھن تھا میرے انتظار کا لمحہ چلی ہوا تو اڑ گیا بہار کا لمحہ یہ میرا دل کہ اسے چاہتا تھا دل سے مگر اسی نے توڑا تو بدلا معیار کا لمحہ وہ آئے مرگ پہ میرے تو زیب تن تھا زریں یہی تو اس کے لیے تھا سنگھار کا لمحہ جو ہم نزع میں ملے تو عاجزی تھی حفیظ یہ اور بات کہ وہ تھا وقار کا لمحہ محمد حفیظ
  13. راحیل فاروق

    نقدِ روانے

    بنانے والے کے بنانے پہ صدقے جس نے عالم کے گوشے گوشے میں ایک عجیب ہی توازن قائم کر رکھا ہے۔ شر خیر پہ غالب ہے۔ تیرگی کائنات کے رگ و ریشے میں دوڑ رہی ہے اور روشنی ہے کہ کہیں کہیں جھلملا کے رہ جاتی ہے۔ احمق بڑی تعداد میں پیدا ہوتے ہیں اور داناؤں کا ناطقہ بند کر کے رکھ دیتے ہیں۔ قہر کی اندھی بجلیاں...
  14. حسن محمود جماعتی

    نوشی گیلانی :::مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے:::

    مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے کبوتر کہہ رہے تھے ہم کہانی سن رہے تھے میری گڑیا تیرے جگنو ہماری ماؤں کے غم ہم اک دوجے سے بچپن کی کہانی سن رہے تھے کبھی صحرا کے سینے پر بکھرتا ہے تو کیسے سنہرے گیت گاتا ہے یہ پانی سن رہے تھے گزرتی عمر کے ہر ایک لمحے کی زبانی محبت رائیگانی رائیگانی سن رہے تھے...
  15. راحیل فاروق

    دل کے کیا حالات میاں؟

    صید ہے اپنی ذات میاں کون لگائے گھات میاں بھول گیا میں اپنا آپ غم کی کیا اوقات میاں؟ دن کا ہر کوئی محرم ہے رات کی بھیدی رات میاں دل کے پوچھتے ہو حالات دل کے کیا حالات میاں؟ گلشن گلشن ویرانے پھول نہ کوئی پات میاں ایک گھٹا بھی کم تو نہ تھی کیوں نہ ہوئی برسات میاں کون کہے اور کون سنے؟ اتنی...
  16. راحیل فاروق

    کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں!

    راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں ہر راہ کا عالم اور، ہر گام پہ سو سو رنگ سوچا کہ اِدھر جاؤں، چاہا کہ اُدھر جاؤں کچھ اور کھٹک تھی تب، اب اور کسک سی ہے مدت ہوئی نکلا تھا، اب جی میں ہے گھر جاؤں ویرانئِ منزل کا افسانہ ہی کہہ ڈالوں کوئی تو سبق سیکھے،...
  17. حسن محمود جماعتی

    میرے دوست:::: محمد حفیظ کی غزل ::: آسماں پیار کی پونجی جو ادا کرتا ہے ::::

    آسماں پیار کی پونجی جو ادا کرتا ہے ڈھلتا سورج بھی اُسی حق میں دعا کرتاہے تجھ کو لاتا ہے سرِشام خیالوں میں مرے ہجر کا چاند بھی اس جاں کا بھلا کرتا ہے روگ ہستی کے چھپانے سے کہاں چھپتے ہیں درد بڑھ جائے تو آنکھوں سے بہا کرتا ہے یار کو قبلہ کیا عشق عبادت...
  18. طارق شاہ

    فانی شوکت علی خاں فانؔی بدایونی :::::سمائیں آنکھ میں کیا شُعبدے قیامت کے :::::: Fani Badayuni

    غزل سمائیں آنکھ میں کیا شُعبدے قیامت کے مِری نظر میں ہیں جَلوے کسی کی قامت کے یہاں بَلائے شبِ غم، وہاں بہارِ شباب ! کسی کی رات، کسی کے ہیں دِن قیامت کے سِتارے ہوں تو سِتارے، نہ ہوں تو برقِ بَلا ! چراغ ہیں تو یہ ہیں بےکسوں کی تُربت کے اُلٹ دِیا غمِ عِشقِ مجاز نے پردہ حجابِ حُسن میں...
  19. راحیل فاروق

    کہتے ہیں یہ حساب لیا ہی نہ جائے گا!

    اول تو ہم سے حال کہا ہی نہ جائے گا پر چھیڑ دیں تو تم سے سنا ہی نہ جائے گا اندیشہ تھا کہ گر نہ پڑوں غم کی راہ میں معلوم یہ نہ تھا کہ اٹھا ہی نہ جائے گا دنیا کے سب دکھوں میں اکیلے ہی جی گئے جیسے ہمارے بعد جیا ہی نہ جائے گا تم لاکھ دردِ دل کی دوا ڈھونڈتے پھرو میں جانتا ہوں مجھ سے رہا ہی نہ جائے...
  20. طارق شاہ

    محشؔر بدایونی ::::: شاعری حسبِ حال کرتے رہے ::::: Mehshar Badayuni

    غزلِ محشؔر بدایونی شاعری حسبِ حال کرتے رہے کون سا ہم کمال کرتے رہے کھائے اوروں نے پھل درختوں کے ہم تو بس دیکھ بھال کرتے رہے سارا دِن دُکھ سمیٹتے گُذرا شب کو ، ردِّ ملال کرتے رہے آدمی کیوں ہے بے خیال اِتنا ؟ خود سے ہم یہ سوال کرتے رہے اور کیا پاسِ زخم کرتے لوگ کوششِ اندمال کرتے رہے...
Top