اخیرِ شب جو میں دستِ دعا اٹھاؤں گا

عاطف ملک نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 10, 2020

  1. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,351
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    اخیرِ شب جو میں دستِ دعا اٹھاؤں گا
    لبوں پہ صرف تری آرزو ہی لاؤں گا

    خدا کی وسعتِ رحمت کو آزماؤں گا
    میں پھر سے بابِ اجابت کو کھٹکھٹاؤں گا

    ہو جس میں میرے مقابل وہ دشمنِ ایماں
    میں جان بوجھ کے وہ جنگ ہار جاؤں گا

    بلاجواز وہ پھر ہو گیا خفا مجھ سے
    کہ جانتا ہے وہ، میں ہی اسے مناؤں گا

    اسی کے نام سے پہچان ہے مری عاطفؔ
    میں تا بہ حشر یہ وابستگی نبھاؤں گا

    عاطفؔ ملک
    دسمبر ۲۰۲۰
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,868
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    کیا کہنے!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    10,974
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    خوبصورت خوبصورت!!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. میرے پاس تم ہو

    میرے پاس تم ہو محفلین

    مراسلے:
    1
    بہت خوب لا جواب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,351
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    شکریہ راحل بھائی:)
    نوازش:)
    بہت شکریہ:)
     
  6. عرفان علوی

    عرفان علوی محفلین

    مراسلے:
    100
    عاطف صاحب ، آداب عرض ہے!

    عمدہ غزل ہے . میری ناچیز داد اور مبارکباد پیش ہے .

    نیازمند،
    عرفان عؔابد
     
  7. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,746
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت خوب! اچھی غزل ہے عاطف بھائی !
    معذرت ، لیکن ایک دو اشعار پڑھ کر یوں لگا کہ آپ نے اس غزل کو وہ توجہ نہیں دی کہ جس کی یہ حقدار تھی۔ :) کچھ مصرع آپ کی مزید توجہ چاہتے ہیں ۔ مثلاً :
    بلاجواز وہ پھر ہو گیا خفا مجھ سے
    کہ جانتا ہے وہ، میں ہی اسے مناؤں گا
    میری ناقص رائے میں اگر آپ ان مصرعوں کو کچھ وقت دیتے تو ان کی روانی بہتر بنائی جاسکتی تھی ۔
    بلا جواز خفا ہوگیا وہ پھر مجھ سے
    وہ جانتا ہے کہ میں ہی اُسے مناؤں گا

    دخل در منظومات کے لئے معذرت خواہ ہوں عاطف بھائی ۔ اگرمیری ناقص رائے ناگوار گزرے تو اس سے صرفِ نظر اور مجھ سے درگزر فرمائیے گا ۔ :)

    نیز دوسرے شعر پر بھی نظرِ ثانی کیجئے ۔ خدا کی رحمت کو آزمانا تو اچھی بات نہیں ۔ عاطف بھائی ، یہ پیرایۂ اظہار ٹھیک نہیں ہے ۔ ان معاملات میں حد درجہ احتیاط سے کام لیا کیجئے۔ یہاں لغزشِ لسانی کی قطعی گنجا ئش نہیں ہوتی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,351
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    بہت شکریہ محترمی
    سلامت
    شکریہ ظہیر بھائی
    آپ کی باریک بینی کی داد تو بنتی ہے کہ یہ اشعار واقعی میں بہت زیادہ سکروٹنی سے نہیں گذرے:)
    پہلے مصرع میں میری کج فہمی کا قصور ہے:unsure:
    دوسرا مصرع۔۔۔۔وہ ناراض اس لیے ہوا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں ہی اسے مناؤں گا۔
    اس پر میں غور کرتا ہوں۔
    میں تو
    قال بلیٰ ولٰکن لیطمئن قلبی
    جیسا کچھ کہنا چاہ رہا تھا۔:quiet:
    رہ گئی آپ کی معذرت تو وہ قبول نہیں کی گئی اور گذارش ہے کہ آئندہ بھی ایسے ہی کلام کیا کریں تاکہ ہم مزید سیکھ سکیں
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 12, 2020
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,746
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اللہ کی رحمت آزمانا اور بات ہے ۔ اپنے دل کی تسلی کے لئے اللہ سے اس کی قدرت دکھانے کی فرمائش کرنا اور بات ہے ۔اسی لئے تو کہا کہ ان معاملات میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے ۔

    لفظ بہت ہی طاقتور چیز ہے ۔ عاطف بھائی ، یہ اقتباس پڑھئے ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. احمد محمد

    احمد محمد محفلین

    مراسلے:
    486
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    واہ۔ کیا کہنے ملک صاحب۔

    ماشاءاللہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر