غزل

تہذیب و تمدن کے ذخیروں کا سفر ہے
ہجرت تو ثقافت کے سفیروں کا سفر ہے

ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے

زنجیر ترے نام کی ، رستے ہیں کسی کے
اک کربِ رواں تیرے اسیروں کا سفر ہے

مل مل کے بچھڑنا بھی ستاروں کی ہے گردش
یا میری ہتھیلی پہ لکیروں کا سفر ہے

رہبر تو کہیں راہوں میں خود ہوگئے گمراہ
اب مشعلِ رہ ہم سے فقیروں کا سفر ہے

منصف ہیں مرے عہد کے پابندِ روایات
انصاف عدالت میں نظیروں کا سفر ہے

آزادیء اظہار کی بے نام کہانی
ہر دور کے بیدار ضمیروں کا سفر ہے

ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۴​
 
رہبر تو کہیں راہوں میں خود ہوگئے گمراہ
اب مشعلِ رہ ہم سے فقیروں کا سفر ہے

منصف ہیں مرے عہد کے پابندِ روایات
انصاف عدالت میں نظیروں کا سفر ہے

واہ واہ واہ ۔۔۔ کیا کہنے کیا کہنے۔۔ مزہ آگیا ظہیر بھائی ۔ ماشاءاللہ ، ماشاءاللہ
بہت بہت داد قبول ہوصاحب واہ ۔۔۔
 
واہ واہ ظہیر بھائی۔ لاجواب غزل ہے۔ ایک ایک شعر سوچنے پر مجبور کرتا ہوا۔
تہذیب و تمدن کے ذخیروں کا سفر ہے
ہجرت تو ثقافت کے سفیروں کا سفر ہے

ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے

زنجیر ترے نام کی ، رستے ہیں کسی کے
اک کربِ رواں تیرے اسیروں کا سفر ہے

مل مل کے بچھڑنا بھی ستاروں کی ہے گردش
یا میری ہتھیلی پہ لکیروں کا سفر ہے

رہبر تو کہیں راہوں میں خود ہوگئے گمراہ
اب مشعلِ رہ ہم سے فقیروں کا سفر ہے

منصف ہیں مرے عہد کے پابندِ روایات
انصاف عدالت میں نظیروں کا سفر ہے

آزادیء اظہار کی بے نام کہانی
ہر دور کے بیدار ضمیروں کا سفر ہے
 
عنوان میں یہ پہلا مصرع پڑھا، یقین کیجئے، لطف آگیا، ایک ہی مصرع پورا شعر ہے، ابھی تک شعر بھی نہیں پڑھا پہلے یہ مراسلہ بھیج رہا ہوں۔

واہ واہ واہ ۔۔۔ کیا کہنے کیا کہنے۔۔ مزہ آگیا ظہیر بھائی ۔ ماشاءاللہ ، ماشاءاللہ
بہت بہت داد قبول ہوصاحب واہ ۔۔۔

کوئی دوست اس ظہیر بھائی کے اس مراسلے کو میری طرف سے "زبردست" کا تمغہ پیش کردے۔

محمد بھائی آپ کی محبت کا تمغہ وصول ہوا !! بہت بہت شکریہ!! اللہ آپ کو سلامت رکھے !!
یہ شعر آپ کی نذر!
آزادیء اظہار کی بے نام کہانی !​
ہر دور کے بیدار ضمیروں کا سفر ہے
;);)
 

جاسمن

مدیر
بہت خوبصورت غزل ہے۔ پہلا شعر تو عمرانیات کا ہے۔لگتا ہے یہ مضمون آپ کے زیرِ مطالعہ بھی رہا ہے۔
بہر حال بہت ساری داد وصول کریں۔
 

محمداحمد

لائبریرین
ظہیر بھائی!

قبلہ بہت ہی خوبصورت کلام! ہمیشہ کی طرح!

ہر روز نئے لوگ ، نئی رت ، نئے ساحل
یہ زندگی نایافت جزیروں کا سفر ہے

زنجیر ترے نام کی ، رستے ہیں کسی کے
اک کربِ رواں تیرے اسیروں کا سفر ہے

مل مل کے بچھڑنا بھی ستاروں کی ہے گردش
یا میری ہتھیلی پہ لکیروں کا سفر ہے

رہبر تو کہیں راہوں میں خود ہوگئے گمراہ
اب مشعلِ رہ ہم سے فقیروں کا سفر ہے

آزادیء اظہار کی بے نام کہانی
ہر دور کے بیدار ضمیروں کا سفر ہے

سمجھ نہیں آتا کہ سر دُھنوں یا اشعار کی تعریف کروں۔

اور کروں تو کس کس شعر کی تعریف کروں۔

ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔

بہت ہی خوب!

مولا خوش رکھے آپ کو۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
کوئی دوست اس ظہیر بھائی کے اس مراسلے کو میری طرف سے "زبردست" کا تمغہ پیش کردے۔
غزل والی پوسٹ پر تو اپنی طرف سے ریٹنگ دی ہے۔ آپ کی طرف سے ظہیر بھائی کے جواب پر زبردست کی ریٹنگ دے دی ہے۔ :)

تابش بھائی کی طرز پر ہم نے بھی بھی آپ کی ریٹنگ پہنچا دی ہے۔ :)
 
Top