اردو شاعری اردو غزل

  1. رشید حسرت

    خریدی آپ نے ہے

    سُکُوں دے کر یہ کیا مُشکل خرِیدی آپ نے ہے مُبارک ہو سُنا ہے مِل خرِیدی آپ نے ہے ہے خُوش فہمی کھرا اِک من کا سودا کر لِیا ہے خُدا کے گھر کے بدلے سِل خرِیدی آپ نے ہے کِسی کی طوطا چشمی سے ہُؤا یہ راز افشا یہاں کے لوگ، یہ مِحفِل خرِیدی آپ نے ہے وہاں بیکار میں مَیں جھونپڑے کی کھوج میں ہُوں جہاں کا...
  2. رشید حسرت

    خموش نگری میں

    جنم لِیا ہے جو اِنساں فروش نگری میں سکُوت چھایا ہُؤا ہے خموش نگری میں جو مُنہ کی کھا کے پلٹتا ہے اور بستی سے نِکالتا ہے وہ سب اپنا جوش نگری میں اگرچہ چہرے سے یہ سخت گِیر لگتے ہیں سبھی ہیں دوست صِفَت برف پوش نگری میں تُمہارے شہر کے شر شور کا اثر ہی نہِیں کہ چھوڑ آیا ہُوں مَیں چشم و گوش نگری...
  3. رشید حسرت

    دھول کر ہی لیا

    محبّتوں کو وفا کا اُصُول کر ہی لیا نوید ہو کہ یہ کارِ فضُول کر ہی لیا نجانے کون سے پاپوں کی فصل کاٹی ہے دِلوں کو زخم، سو چہروں کو دُھول کر ہی لیا گُلاب جِن کے لبوں سے چُرا کے لائیں رنگ بُرا ہو وقت کا اُن کو ببُول کر ہی لیا یہ ان کے اعلیٰ نسب کی کُھلی دلِیل رہی کہ دوستوں میں ہمارا شمُول کر ہی...
  4. رشید حسرت

    افلاس

    آج کھائی ہے چار دِن کے بعد کِتنی مِیٹھی لگی ہے روٹی آج آؤ ہم اِس کو نوچ کر کھائیں شرم کیسی ہے، اِس میں کیسی لاج؟؟ حُکمرانوں نے اِنتہا کر دی بے ضمِیری کی، بے حیائی کی کِس ڈِھٹائی سے کر رہے ہیں آج بات یہ اپنی پارسائی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوال میرا فقط حُکمراں سے اِتنا ہے کہِیں پہ عدل اگر ہے،...
  5. رشید حسرت

    وہ بھی نہیں

    پناہ دے گا، کوئی سائباں تو وہ بھی نہِیں ہمیں فنا ہے مگر جاوِداں تو وہ بھی نہِیں ہمارے پیار کی ناؤ پھنسی ہے بِیچ بھن٘ور بچا کے لائے کوئی بادباں تو وہ بھی نہِیں جو سچ کہیں تو خزاں اوڑھ کے بھی خُوش ہیں بہُت نہِیں اُجاڑ مگر گُلسِتاں تو وہ بھی نہِیں جہاں تلک بھی گئی آنکھ رِند بیٹھے تھے نوازے سب...
  6. رشید حسرت

    ٹل سکتا نہیں

    غزل۔ میں تیرے سنگ ابھی اور چل نہِیں سکتا لِکھا گیا جو مُقدّر میں ٹل نہِیں سکتا ہر ایک گام پہ کانٹوں کا سامنا تو ہے چُنا جو راستہ، رستہ بدل نہِیں سکتا میں بُھوک جھیل کے فاقوں سے مر تو سکتا ہُوں ٗملیں جو بِھیک میں ٹُکڑوں پہ پل نہِیں سکتا قسم جو کھائی تو مر کر بھی لاج رکھ لُوں گا کہ راز دوست کا...
  7. رشید حسرت

    چاہیے تھا

    مُجھے ایسے تُمہیں نا آزمانا چاہِیے تھا بتا کر ہی تُمہارے شہر آنا چاہِیے تھا مِرے ہر ہر قدم پر شک کی نظریں ہیں تُمہاری تُمہیں تو رُوٹھنے کا بس بہانا چاہِیے تھا مِرے بچّے گئے ہیں کل سے پِکنِک کا بتا کر نہِیں آئے ابھی تک، اُن کو آنا چاہِیے تھا نجانے کِس لِیئے تھا رات سنّاٹوں کا پہرہ مُجھے محفل...
  8. رشید حسرت

    زِیست بار جیسی تھی

    بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی تمام عُمر مِری اِنتظار جیسی تھی حیات کیا تھی، فقط اِنتشار میں گُزری گہے تھی زخم سی گاہے قرار جیسی تھی مِلا ہُؤا مِری چائے میں رات کُچھ تو تھا کہ شب گئے مِری حالت خُمار جیسی تھی تُمہاری یاد کی خُوشبُو کے دائروں میں رہا اگرچہ زرد رہی، پر بہار جیسی تھی...
  9. رشید حسرت

    اِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا

    اِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا پاؤں میں زنجِیر سی پہنائے گا، لے جائے گا میں نے اُس کے نام کر ڈالی متاعِ زِندگی اب یہاں سے اُٹھ کے وُہ جب جائے گا لے جائے گا کل نئی گاڑی خرِیدی ہے مِرے اِک دوست نے سب سے پہلے تو مُجھے دِکھلائے گا لے جائے گا میں بڑا مُجرم ہُوں مُجھ کو ضابطوں کا ہے...
  10. رشید حسرت

    سنبھالا جائے

    اب نہِیں ہم سے کوئی درد سنبھالا جائے گِن کے لے لو جی امانت کہ یہ بالا جائے تُم کوئی حُکم کرو اور نہِیں ہو تعمِیل حُکم تو حُکم، اِشارہ بھی نہ ٹالا جائے جِس کو آدابِ محبّت کا نہِیں ہے احساس ایسے گُستاخ کو محفل سے نِکالا جائے کِتنا اچھّا ہے کِسی اور کا دُکھ اپنانا ہم سے ہی روگ محبّت کا نہ پالا...
  11. رشید حسرت

    آگاہ تو ہو

    وُہ مِرا دوست مِرے حال سے آگاہ تو ہو نا سہی سچ میں مگر خواب میں ہمراہ تو ہو کُچھ اثر اُن پہ مِری آہ و فُغاں کا یارو ہو نہ ہو، پِھر بھی مِرے لب پہ کوئی آہ تو ہو کب کہا میں نے تعلُّق وہ پُرانا ہو بحال بس دِکھاوے کو فقط تُم سے کوئی راہ تو ہو جو محبّت میں وفاؤں کو تڑپتا چھوڑے پِِھر ترستا...
  12. رشید حسرت

    کمیاب بہت ہے

    دیکھا ہے جو اِک میں نے وہی خواب بہُت ہے ورنہ تو وفا دوستو! کمیاب بہُت ہے یہ دِل کی زمِیں بنجر و وِیران پڑی تھی تھوڑی سی ہُوئی تُُجھ سے جو سیراب بہُت ہے کل لب پہ تِرے شہد بھری بات دھری تھی اور آج کے لہجے میں تو تیزاب بہُت ہے اِک میں کہ نِگوڑی کے لیئے جان بکف ہوں اِک جنسِ محبّت ہے کہ...
  13. رشید حسرت

    بہانہ بھی نہیں۔

    وعدہ کرنا بھی نہِیں تُجھ کو نِبھانا بھی نہِیں سب ہے معلُوم تُُجھے لوٹ کے آنا بھی نہِیں رہنے دیتا ہی نہِیں تُو جو درُونِ دل اب اور مِرا دِل کے سِوا کوئی ٹھِکانہ بھی نہِیں کِتنے جُگنُو تھے، مِرے دوست ہُوئے گرد آلُود اب مُجھے دِیپ محبّت کا جلانا بھی نہِیں تِتلِیاں لب پہ مِرے کیسی یہ مُسکان...
  14. رشید حسرت

    مچل جاتی ہے دنیا

    اِک شخص کے جانے سے بدل جاتی ہے دُنیا پِھر آہ بھی کرلو تو مچل جاتی ہے دُنیا میں پیار کا طالب جو ہُؤا اہلِ جہاں سے زردی سی کوئی چہرے پہ مل جاتی ہے دُنیا جِس جا پہ کبھی تھا میں ابھی تک بھی وہِیں ہُوں میں دیکھتا رہتا ہوں نِکل جاتی ہے دُنیا حالات کِدھر جاتے ہیں جاتا ہوں کِدھر میں میں ڈُوبتا جاتا...
  15. رشید حسرت

    شاد نہیں کرنا

    دیکھو تو مِرے دِل پہ یہ جو چھالا ہُؤا ہے اِس واسطے تو پیار کو بھی ٹالا ہُؤا ہے ہاں کر دو مِری جان اگر آیا ہے رِشتہ اور لڑکا بھی تو دیکھا ہؤا، بھالا ہُؤا ہے سب چھوڑ کے آئے تھے، مگر (آج کراچیؔ) ہم بِچھڑے ہُوؤں کے لِیےانبالہؔ ہُؤا ہے میں کب کا بِکھر جاتا غمِ دہر کے ہاتھوں بس گِرد مِرے غم کا تِرے...
  16. رشید حسرت

    غزل۔

    غزل ہستی کا مِری حشر بپا دیکھتے ہوئے وہ رو ہی دیا مُجھ کو بُجھا دیکھتے ہوئے ہم وہ کہ کبھی وقت سے بھی ہار نہ مانیں برباد کِیا آپ نے کیا دیکھتے ہوئے انجان علاقہ تھا، کِیا میں نے تعیُّن قِبلے کا، فقط قِبلہ نُما دیکھتے ہوئے مرمر تھا ماں کی قبر پہ نہ باپ کی کبھی چھلکی ہے آنکھ کتبہ لگا...
  17. ا

    کلام عامر

    جانے کس بات پہ وہ بچھڑا رہا یاد نہیں کیوں ہوا مجھ سے خفا یار مرا یاد نہیں جو کیا "عہد الست" وہ بھی رہا یاد نہیں کس لئے بھیجا یہاں رب نے ذرا یاد نہیں شب سسکتے ہوئے ہر روز گزر جاتی ہے جانے کس بات کی پائی ہے سزا یاد نہیں اتنے مصروف ہوئے اپنے مشاغل میں سبھی ان کو فرمانِ نبی، حکمِ خدا یاد...
  18. سید افتخار احمد رشکؔ

    میری پسندیدہ غزلوں میں سے ایک

    غزل اگر ہے عشق، اشاروں سے بات کیا کرنا جو پیاس ہے تو کناروں سے بات کیا کرنا رکھو کسی کا بھی نہ آسرا کہ دل ٹوٹے ہو خود میں دم تو سہاروں سے بات کیا کرنا ہے راہِ عشق وہ جس پر سجے ہر اک موسم خزاں بھی ہو تو بہاروں سے بات کیا کرنا اکیلی زندگی کتنوں کے ساتھ بیتے گی ہو سچا ایک، ہزاروں سے بات کیا کرنا...
  19. سید افتخار احمد رشکؔ

    تازہ غزل

    فی البدیہہ غزل. از قلم رشک براٸے فیس بک جس کے تھے منتظر سحر نہ ہوئی شب سے اپنی گذر بسر نہ ہوئی منزلوں کی طرف سفر نہ ہوئی وہ ڈگر کیا جو رہگزر نہ ہوئی کوئی رفعت ہنوز سر نہ ہوئی زیر سے خلق جو زبر نہ ہوئی سب ہی گا گی کا گانا گاتے ہیں آج تک بات آج پر نہ ہوئی اس کے گھر کے طواف کر کر کے اُس کی کچھ...
  20. سید افتخار احمد رشکؔ

    اردو غزل

    تازہ ترین کلام مرے سخن میں تجھے ہی تو جگمگانا ہے بیان میرا سہی, پر ترا فسانہ ہے جو خود کو جان گیا تجھ تلک تبھی پہنچا جو میرا دل ہے وہی تو ترا ٹھکانہ ہے وصال و ہجر, بہار و خزاں, سحر شب ہے تمہارے عشق کا موسم بڑا سہانہ ہے تمہارے عشق کا قیدی بھلا کہاں جائے تمہارے ساتھ ہی جیون مجھے بِتانا ہے ازل کے...
Top