بہت اوج پر ہے ستارہ ہوا کا

ظہیراحمدظہیر نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 21, 2016

  1. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,787
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    غزل

    تری زلف سمجھی اشارہ ہوا کا
    بہت اوج پر ہے ستارہ ہوا کا

    کماں کھنچ گئی ہے دھنک کی فضا میں
    شعاعوں نے رستہ نکھارا ہو ا کا

    چراغوں سے ہے ربط فانوس جیسا
    تو پھولوں سے رشتہ ہمارا ہوا کا

    ملا یوں توازن ہمیں گردشوں سے
    پرندے کو جیسے سہارا ہوا کا

    خزاں زاد پتّوں پہ لکھ کر فسانے
    لو آیا ہے تازہ شمارہ ہوا کا

    وہ خاشاک صورت فضاؤں میں گم ہیں
    جو چُھونے چلے تھے کنارہ ہوا

    عجب حوصلہ اک دیا روشنی نے
    دیا کر رہا ہے نظارہ ہوا کا

    ۔ق ۔

    زمینوں میں وحشی بگولے کی صورت
    فلک چڑھ رہا ہے منارہ ہوا کا

    قبائیں سنبھالو اے دستار والو!
    کہ گلیوں میں ہے اب اجارہ ہوا کا

    پلٹ جاتے ہیں بادلوں کے سفینے
    مخالف ہے مٹی کے دھارا ہوا کا
    ۔

    نہیں بس میں شعلوں کے اتنی تباہی
    ضرور اُن کو ہوگا سہارہ ہوا کا

    دیئے بجھ گئے تو سوا ہوگیا حبس
    نہ لے نام کوئی دوبارہ ہوا کا

    ظہیر احمد ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۱۹۹۹​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 3
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,624
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ایک اور خوبصورت غزل، منفرد ردیف کے ساتھ. کیا کہنے.
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,787
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    جی تابش بھائی یہ وہی ہوا کی ردیف ہے جس کا ابھی جگہ ذکر کیا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,428
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت ہی عمدہ!

    سب اشعار لاجواب!
     

اس صفحے کی تشہیر