اکثر جو بصد حلقۂ گرداب ملا ہے (تخت سنگھ)

غدیر زھرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 18, 2016

  1. غدیر زھرا

    غدیر زھرا لائبریرین

    مراسلے:
    3,150
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    اکثر جو بصد حلقۂ گرداب ملا ہے
    اُس فکر کا دریا مجھے پایاب ملا ہے

    احساس پہ پتھر وہ پڑے تلخئ غم کے
    صدپارہ مجھے شیشۂ ہرخواب ملا ہے

    بدلی ہے اِس انداز سے حالات نے کروٹ
    دھرتی سے نکلتا ہوا مہتاب ملا ہے

    جس نے بھی تری بزم میں کی حد سے زیادہ
    پابندئِ آداب، وہ سرتاب ملا ہے

    ہنسنے دو مرے خواب کی تعبیر کو مجھ پر
    تھی آس جو امرت کی تو زہراب ملا ہے

    دیکھا جو اِسے چیر کر اربابِ خِرد نے
    ذرّے میں نہاں مہرِ جہاں تاب ملا ہے

    ہر حلقۂ زنجیر مرے دل کی زباں ہے
    زنداں میں نیا حلقۂ احباب ملا ہے

    (تخت سنگھ)​
     

اس صفحے کی تشہیر