مت سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں

ظہیراحمدظہیر نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 26, 2016

  1. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,787
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    غزل

    مت سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں
    ہم لوگ وفاؤں کے تضادات میں گم ہیں

    رستوں میں نہیں سات سمندر کی یہ دوری
    یہ سات سمندر تو مری ذات میں گم ہیں

    ہم لے کے کہاں جائیں محبت کا سوال اب
    دل والے بھی اپنے ہی مفادات میں گم ہیں

    کشکولِ انا کو بھی چٹختا کوئی دیکھے
    سب اہلِ کرم لذتِ خیرات میں گم ہیں

    الفاظ دریچے ہیں جو کھلتے ہیں دلوں میں
    معنی مرے سامع کے خیالات میں گم ہیں

    ظہیر احمد ۔ ۔ ۔ اکتوبر ۲۰۰۶ ​
     
    • زبردست زبردست × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    12,688
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    واہ کیا خوب کہا ۔
    لذتِ خیرات۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,624
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کیا کہنے ظہیر بھائی۔ بہت خوب۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. لاریب مرزا

    لاریب مرزا محفلین

    مراسلے:
    5,952
  5. ہادیہ

    ہادیہ محفلین

    مراسلے:
    5,088
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    واہ۔۔۔۔ بہت عمدہ۔۔ اعلیٰ
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,192
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اچھی غزل ہے۔ واہ
     

اس صفحے کی تشہیر