عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے - مینا کماری

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 21, 2016

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    غزل
    (مینا کماری - 1932-1972)
    (فلم اداکارہ جنہیں "ملکہ غم" کہا جاتا ہے۔ "تنہا چاند" ان کا شعری مجموعہ ہے۔)
    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    میرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

    تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
    ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

    کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر