زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں - گوپال متل

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 2, 2017

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    غزل
    (گوپال متل)
    زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں
    کہ داستانِ محبت سنا رہا ہوں میں

    نہ پوچھ مجھ سے مری بے خودی کا افسانہ
    کسی کی مست نگاہی کا ماجرا ہوں میں

    کہاں کا ضبطِ محبت، کہاں کی تاثیریں
    تسلیاں دلِ مضطر کو دے رہا ہوں میں

    پھر ایک شعلہء پر پیچ و تاب بھڑکے گا
    کہ چند تنکوں کو ترتیب دے رہا ہوں میں

    تمہارے عشق میں مٹ کر تمہیں دکھا دوں گا
    نگاہِ ناز کا ایماں سمجھ گیا ہوں میں
     

اس صفحے کی تشہیر