کراچی

  1. کاشفی

    آنکھوں میں اشک بھر کے مجھ سے نظر ملا کے - علی جواد زیدی

    غزل (علی جواد زیدی - لکھنؤ ، انڈیا) آنکھوں میں اشک بھر کے مجھ سے نظر ملا کے نیچی نگاہ اٹھی فتنے نئے جگا کے میں راگ چھیڑتا ہوں ایمائے حسن پا کے دیکھو تو میری جانب اک بار مسکرا کے دنیائے مصلحت کے یہ بند کیا تھمیں گے بڑھ جائے گا زمانہ طوفاں نئے اٹھا کے جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیں وہ...
  2. کاشفی

    میں ڈر رہا ہوں ہر اک امتحان سے پہلے - آنند سروپ انجم

    غزل (آنند سروپ انجم ) میں ڈر رہا ہوں ہر اک امتحان سے پہلے مرے پروں کو ہوا کیا اڑان سے پہلے مرے نصیب میں رستوں کی دھول لکھی تھی نہ مل سکی مجھے منزل تکان سے پہلے یہ کون شخص تھا چالاک کس قدر نکلا کہ بات چھیڑ گیا درمیان سے پہلے میں اس کے درد کا درماں تو جانتا تھا مگر وہ کچھ تو بولتا اپنی...
  3. محمداحمد

    کیا آپ پیشہ ور گداگروں کو بھیک دیتے ہیں؟

    آج کل کراچی میں پیشہ ور گداگروں کی بہتات ہے۔ کل گداگروں کے خلاف کاروائی کے لئے ایک پوسٹ وٹس ایپ پر نظر آئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ پیشہ ور گداگروں کو بھیک دیتے ہیں یا نہیں؟ ہوتا کچھ یوں ہے کہ انہیں بھیک دینے سے حقدار کا حق مارا جاتا ہے، لیکن انہیں بھیک نہ دینے سے دل میں ایک احساسِ جرم پیدا...
  4. طارق شاہ

    شفیق خلش :::: غم نہیں اِس کا ہم مَرے ہی جیئے ::::Shafiq- Khalish

    غزل شفیق خلشؔ غم نہیں اِس کا ہم مَرے ہی جیئے مُطمئن اِس پہ ہیں کھرے ہی جیئے اُن سے اِظہار سے ڈرے ہی جیئے اب کِیا، اب کِیا کرے ہی جیئے عُمر بھر وصل کی اُمید پہ سر اُن کی دہلیز پر دَھرے ہی جیئے ہم وہ ممنُونِ خوش تخیّل ہیں اُن کو بانہوں میں جو بَھرے ہی جیئے کب سپاٹ اُن کا تھا چَلن مجھ سے...
  5. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::ہر مُصیبت جو کھڑی کی اُنھی کے خُو نے کی:::::Shafiq- Khalish

    غزل شفیق خلِشؔ ہر مُصیبت جو کھڑی کی اُنھی کے خُو نے کی اُس پہ ہَٹ دھرمی ہر اِک بار یہ، کہ تُو نے کی شرم دُورآنکھوں سے اپنوں کی ہائے ہُو نے کی اور کچھ، اَوچھوں سے تکرار و دُو بَدُو نے کی اِک جہاں کی رہی خواہش سی مجھ سے مِلنے کی یُوں مِرے عِشق کی تشہیر ماہ رُو نے کی کچھ تو پُر برگ و...
  6. طارق شاہ

    شفیق خلش ::::: میری ناگفتہ بہ حالت کہاں عَدُو نے کی:::::Shafiq Khalish

    غزل شفیق خلشؔ میری ناگفتہ بہ حالت کہاں عَدُو نے کی اُس سے ہر وقت رہی اُن کی گفتگو نے کی کس سَہارے ہو بَسر اپنی زِندگی، کہ ہَمَیں اِک بَدی تک، نہیں تفوِیض نیک خُو نے کی باغ میں یاد لِیے آئی تو فریب دِیئے! دِیدَنی تھی مِری حالت جو رنگ و بُو نے کی ترکِ اُلفت کی تھی تحریک، شرمسار ہُوئی! کُو بہ...
  7. الف نظامی

    کراچی اور ٹیپ بال کرکٹ کا کریز

  8. کاشفی

    روز خوابوں میں آ کے چل دوں گا - آلوک شریواستو

    غزل (آلوک شریواستو) روز خوابوں میں آ کے چل دوں گا تیری نیندوں میں یوں خلل دوں گا میں نئی شام کی علامت ہوں خاک سورج کے منہ پہ مل دوں گا اب نیا پیرہن ضروری ہے یہ بدن شام تک بدل دوں گا اپنا احساس چھوڑ جاؤں گا تیری تنہائی لے کے چل دوں گا تم مجھے روز چٹھیاں لکھنا میں تمہیں روز اک غزل دوں گا
  9. کاشفی

    تمہارے پاس آتے ہیں تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں - آلوک شریواستو

    غزل ( آلوک شریواستو) تمہارے پاس آتے ہیں تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں محبت اتنی ملتی ہے کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تبسم عطر جیسا ہے ہنسی برسات جیسی ہے وہ جب بھی بات کرتی ہے تو باتیں بھیگ جاتی ہیں تمہاری یاد سے دل میں اجالا ہونے لگتا ہے تمہیں جب گنگناتا ہوں تو راتیں بھیگ جاتی ہیں زمیں کی گود...
  10. طارق شاہ

    نکہت بریلوی:: رَہِ وَفا کے ہر اِک پَیچ و خَم کو جان لیا

    غزل نِکہت بَریلوی رَہِ وَفا کے ہر اِک پَیچ و خَم کو جان لیا جُنوں میں دشت و بَیاباں تمام چھان لیا ہر اِک مقام سے ہم سُرخ رُو گزر آئے قدم قدم پہ محبّت نے اِمتحان لیا گراں ہُوئی تھی غَمِ زندگی کی دُھوپ، مگر کسی کی یاد نے اِک شامیانہ تان لیا تمھیں کو چاہا بہرحال، اور تمھارے سِوا زمین...
  11. طارق شاہ

    شفیق خلش :::: عذاب ترکِ تعلّق پہ کم سہا ہوگا:::::shafiq khalish

    غزل عذاب ترکِ تعلّق پہ کم سہا ہوگا وہاں بھی سَیل سا اشکوں کا یُوں بہا ہوگا یہ دِل شکنجئہ وحشت سے کب رہا ہوگا کب اِختتامِ غَمِ ہجرِ مُنتَہا ہوگا جہاں کہیں بھی وہ عُنوانِ گفتگو ٹھہرا! وہاں پہ ذکر ہمارا بھی بارہا ہوگا ہَوائے شب عِطرآگِیں تھی اس پہ کیا تکرار وُرُودِ صبح پہ تم نے بھی کُچھ...
  12. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::مُسابَقَت میں مزہ کوئی دَم نہیں ہوتا:::::shafiq khalish

    غزل مُسابَقَت میں مزہ کوئی دَم نہیں ہوتا ذرا جو فِطرَتِ آہُو میں رَم نہیں ہوتا یہ لُطف، عِشق و محبّت میں کم نہیں ہوتا! بہت دِنوں تک کوئی اور غم نہیں ہوتا دِلوں کے کھیل میں سب حُکم دِل سے صادِر ہوں زماں کا فیصلہ یکسر اَہَم نہیں ہوتا تمھارے ساتھ گُزارے وہ چند لمحوں کا ذرا سا کم کبھی لُطفِ...
  13. عبدالقدیر 786

    کراچی کا کوئی ایسا پروڈکٹ بتائیں جو آن لائن سیل کرسکیں

    کیا آپ ایسا کوئی پروڈکٹ بتاسکتے ہیں جو کراچی سے آن لائن سیل کرسکتے ہوں لیکن چھوٹا ہو اور کانچ کا نہ ہو۔ اور جلدی سے فروخت ہوجائے کم سے کم ہزار روپے تک قیمت ہو۔ جو گھر میں آسانی سے بن سکے۔ خرچہ کم سے کم آئے۔ اگر آپ ایسا کوئی پروڈکٹ جانتے ہیں تو برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
  14. کاشفی

    مرقّع ء رنج و الم زندگی ہے - فرزانہ اعجاز

    غزل (فرزانہ اعجاز) مرقّع ء رنج و الم زندگی ہے مری زندگی ، اب یہی زندگی ہے خوشی میں بھی دل ساتھ دیتا نہیں اب ہنسی میں ملی آنسو وءں کی نمی ہے نہ پوچھا کبھی تم نے احوال میرا مجھے زعم تھا کہ بڑی دوستی ہے گئ رات جیسے اندھیری گلی تھی سویرے کا مطلب نئ روشنی ہے ثبوت وفا مانگتے ہیں ہم ہی سے...
  15. طارق شاہ

    شفیق خلش ::::چلے بھی آؤ کہ فُرقت سے دِل دُہائی دے::::shafiq khalish

    غزل چلے بھی آؤ کہ فُرقت سے دِل دُہائی دے غمِ جہاں بھی، نہ اِس غم سے کُچھ رہائی دے کبھی خیال، یُوں لائے مِرے قریب تُجھے ! ہرایک لحظہ، ہراِک لب سے تُو سُنائی دے کبھی گُماں سے ہو قالب میں ڈھل کے اِتنے قریب تمھارے ہونٹوں کی لرزِش مجھے دِکھائی دے ہے خوش خیالیِ دل سے کبھی تُو پہلُو میں کُچھ اِس طرح...
  16. طارق شاہ

    شفیق خلش :::: دیدہ دلیری سب سے، کہ اُس کو بُھلا دِیا::: Shafiq Khalis

    غزل دِیدہ دلیری سب سے، کہ اُس کو بُھلادِیا اَوروں نے جب کہا کبھی، مجھ کو رُلا دِیا جو روز بڑھ رہا تھا بہر طَور پانے کا! جذبہ وہ دِل کا ہم نے بالآخر سُلادیا تردِید و خوش گمانی کو باقی رہا نہ کُچھ ہر بات کا جواب کُچھ ایسا تُلا دِیا تشہیر میں کسر کوئی قاصِد نے چھوڑی کب! خط میرے نام لکھ کے جب...
  17. کاشفی

    ہم اُردو بولیں گے

    ہم اُردو بولیں گے
  18. محمد اجمل خان

    کراچی پانی پانی

    عزیز ہم وطنو! کراچی کے مکینوں! اپنے حالات پر نظر ڈالئے! اور اپنے اعمال درست کیجئے! ذرا سوچئے ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ یہ برکت والا شہر کیوں ڈوب رہا ہے؟ یہ ایسا برکت والا شہر ہے جہاں سے نہ صرف اس کے اپنے مکینوں کی بلکہ پورے پاکستان کی روزی روٹی جڑی ہوئی ہے، آج تباہی کے دہانے پر کیوں آگیا ہے؟ پانچ...
  19. طارق شاہ

    شفیق خلش :::::اِک ندامت عِوَض کا عیب نہیں:::::Shafiq-Khalish

    غزل اِک ندامت عِوَض کا عیب نہیں پارسا کہنا پھر بھی زیب نہیں ظاہر و باطن ایک رکھتا ہُوں مَیں ریاکار و پُر فریب نہیں ہُوں مَیں کچھ کچھ یہاں بھی شورِیدہ راست کہنا کہاں پہ عیب نہیں ہے تسلسل سے راہِ زیست گراں کُچھ تنزل نہیں، نشیب نہیں اُلجھنیں معرضِ وُجُود ہوں خود کارفرما کُچھ اِس میں غیب نہیں...
  20. محمد تابش صدیقی

    تاسف سابق ناظم کراچی نعمت اللّٰہ خان ایڈووکیٹ انتقال کر گئے

    سابق ناظم کراچی نعمت اللّٰہ خان ایڈووکیٹ انتقال کر گئے، جماعتِ اسلامی کے ترجمان نے نعمت اللّٰہ خان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ نعمت اللّٰہ خان 2001ء سے 2005ء کے دوران کراچی کے ناظم رہے، وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور طویل عرصے سے علیل تھے۔ نعمت اللّٰہ خان 1930ء میں اجمیر شریف میں پیدا ہوئے،...
Top