کراچی

  1. کاشفی

    سمندر یہ تری خاموشیاں کچھ اور کہتی ہیں - خوشبیر سنگھ شادؔ

    غزل (خوشبیر سنگھ شادؔ) سمندر یہ تری خاموشیاں کچھ اور کہتی ہیں مگر ساحل پہ ٹوٹی کشتیاں کچھ اور کہتی ہیں ہمارے شہر کی آنکھوں نے منظر اور دیکھا تھا مگر اخبار کی یہ سُرخیاں کچھ اور کہتی ہیں ہم اہلِ شہر کی خواہش کہ مِل جُل کر رہیں لیکن امیرِ شہر کی دلچسپیاں کچھ اور کہتی ہیں
  2. کاشفی

    دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو ، تم بھی ناں - عنبرین حسیب عنبر

    غزل (عنبرین حسیب عنبر - کراچی) دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو ، تم بھی ناں مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو ، تم بھی ناں دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے جیسے پہلی بار ملے ہو ، تم بھی ناں ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں مجھ میں ایسے آن بسے ہو ، تم بھی ناں عشق نے یوں دونوں کو ہم آمیز کیا اب تو تم بھی کہہ...
  3. کاشفی

    لتا آج ہم اپنی دعاؤں کا اثر دیکھیں گے - کیف بھوپالی

    نغمہ نغمہ نگار : کیف بھوپالی آواز : لتا منگیشکر آج ہم اپنی دعاؤں کا اثر دیکھیں گے تیر ِ نظر دیکھیں گے زخم ِ جگر دیکھیں گے آپ تو آنکھ ملاتے ہوئے شرماتے ہیں آپ تو دل کے دھڑ کنے سے بھی ڈر جاتے ہیں پھر بھی یہ ضد ہے کہ زخمِ جگر دیکھیں گے پیار کرنا دل ِ بیتاب برا ہوتا ہے سنتے آئے ہیں کہ یہ خواب برا...
  4. کاشفی

    آگئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا - بھارتیندو ہریش چندر

    غزل (بھارتیندو ہریش چندر - وارانسی، 1850-1885ء) ہندی کی تجدیدِ نو کے مبلغ، کلاسیکی طرز میں اپنی اردو غزل گوئی کے لیے مشہور تھے۔ آگئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیا اے فلک کیا کیا ہمارے دل میں ارماں رہ گیا باغباں ہے چار دن کی باغِ عالم میں بہار پھول سب مرجھا گئے، خالی بیاباں رہ گیا اتنا احساں...
  5. کاشفی

    سلامِ حسرت قبول کر لو، مری محبت قبول کر لو

    سلامِ حسرت قبول کر لو مری محبت قبول کر لو اُداس نظریں تڑپ تڑپ کر تمہارے جلوؤں کو ڈھونڈتی ہیں جو خواب کی طرح کھو گئے، اُن حسین لمحوں کو ڈھونڈتی ہیں اگر نہ ہو ناگوار تم کو، تو یہ شکایت قبول کر لو مری محبت قبول کر لو تمہی نگاہوں کی آرزو ہو، تمہی خیالوں کا مدّعا ہو تمہی مرے واسطے صنم ہو، تمہی مرے...
  6. کاشفی

    تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو - ساحر لدھیانوی

    تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو (ساحر لدھیانوی)
  7. کاشفی

    مصحفی یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گی - مصحفی غلام ہمدانی امروہوی

    غزل (مصحفی غلام ہمدانی امروہوی) یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گی کسو سے ہمیں یاں لڑا کر رہیں گی اگر یہ نگاہیں ہیں کم بخت اپنی تو کچھ ہم کو تہمت لگا کر رہیں گی یہ سفاکیاں ہیں تو جوں مرغ بسمل ہمیں خاک و خوں میں ملا کر رہیں گی کیا ہم نے معلوم نظروں سے تیری کہ نظریں تری ہم کو کھا کر رہیں گی...
  8. کاشفی

    مصحفی دل چیز کیا ہے ، چاہئے تو جان لیجئے - مصحفی غلام ہمدانی

    غزل (مصحفی غلام ہمدانی) دل چیز کیا ہے، چاہئے تو جان لیجئے پر بات کو بھی میری ذرا مان لیجئے مریے تڑپ تڑپ کے دلا کیا ضرور ہے سر پر کسی کی تیغ کا احسان لیجئے آتا ہے جی میں چادر ابرِ بہار کو ایسی ہوا میں سر پہ ذرا تان لیجئے میں بھی تو دوست دار تمہارا ہوں میری جاں میرے بھی ہاتھ سے تو کبھو پان...
  9. کاشفی

    زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں - گوپال متل

    غزل (گوپال متل) زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں کہ داستانِ محبت سنا رہا ہوں میں نہ پوچھ مجھ سے مری بے خودی کا افسانہ کسی کی مست نگاہی کا ماجرا ہوں میں کہاں کا ضبطِ محبت، کہاں کی تاثیریں تسلیاں دلِ مضطر کو دے رہا ہوں میں پھر ایک شعلہء پر پیچ و تاب بھڑکے گا کہ چند تنکوں کو ترتیب دے رہا ہوں...
  10. کاشفی

    پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا - گیان چند

    غزل (گیان چند) پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا بادل کا آوارہ ٹکڑا کھویا کھویا تنہا تنہا پچھم دیس کے فرزانوں نے نصف جہاں سے شہر بسائے ان میں پیر بزرگ ارسطو بیٹھا رہتا تنہا تنہا کتنا بھیڑ بھڑکا جگ میں کتنا شور شرابہ لیکن بستی بستی کوچہ کوچہ چپا چپا تنہا تنہا سیر کرو باطن میں اس کے...
  11. کاشفی

    کیا بتائیں آپ سے کیا ہستیٔ انسان ہے - گیان چند

    غزل (گیان چند) کیا بتائیں آپ سے کیا ہستیٔ انسان ہے آدمی جذبات و احساسات کا طوفان ہے اشتراکیت مرا دین اور مرا ایمان ہے کاش موٹر لے سکوں میں یہ مرا ارمان ہے آہ اس دانش کدے میں کس قدر ہے قحطِ حسن جب سے آیا ہوں یہاں بزمِ نظر ویران ہے یہ کتابیں ہر طرف ہوں یا بتانِ منتخب برگزیدہ ہستیوں کا ایک ہی...
  12. کاشفی

    کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو - غلام بھیک نیرنگ

    غزل (غلام بھیک نیرنگ - 1876-1952) کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو دن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہو اک جھلک تم جو لبِ بام دکھا جاتے ہو دل پہ اک کوندتی بجلی سی گِرا جاتے ہو میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب یہ بھی کیا کم ہے تصوّر میں تو آجاتے ہو تازہ کر جاتے ہو تم دل میں پرانی یادیں...
  13. کاشفی

    حق مجھے باطل آشنا نہ کرے - انعام اللہ خاں یقینؔ

    غزل (انعام اللہ خاں یقینؔ - 1727-1755، دہلی) میر تقی میرؔ کے ہم عصر اور ان کے حریف کے طور پر مشہور۔ انہیں ان کے والد نے قتل کیا۔ حق مجھے باطل آشنا نہ کرے میں بتوں سے پھروں، خدا نہ کرے دوستی بد بلا ہے، اس میں خدا کسی دشمن کو مُبتلا نہ کرے ہے وہ مقتول کافرِ نعمت اپنے قاتل کو جو دعا نہ کرے رو...
  14. کاشفی

    میں تو سمجھا تھا جس وقت مجھ کو وہ ملیں گے تو جنت ملے گی - انور مرزا پوری

    غزل (انور مرزا پوری) میں تو سمجھا تھا جس وقت مجھ کو وہ ملیں گے تو جنت ملے گی کیا خبر تھی رہِ عاشقی میں ساتھ اُن کے قیامت ملے گی میں نہیں جانتا تھا کہ مجھ کو یہ محبت کی قیمت ملے گی آنسوؤں کا خزانہ ملے گا، چاکِ دامن کی دولت ملے گی پھول سمجھے نہ تھے زندگانی اس قدر خوبصورت ملے گی اشک بن کر تبسم...
  15. کاشفی

    میں نظر سے پی رہا ہوں، یہ سما بدل نہ جائے - انور مرزا پوری

    غزل (انور مرزا پوری) میں نظر سے پی رہا ہوں، یہ سما بدل نہ جائے نہ جھکاؤ تم نگاہیں، کہیں رات ڈھل نہ جائے مرے اشک بھی ہیں اس میں، یہ شراب اُبل نہ جائے مرا جام چھونے والے، ترا ہاتھ جل نہ جائے ابھی رات کچھ ہے باقی، نہ اُٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے، کہیں پھر سنبھل نہ جائے مری زندگی کے مالک،...
  16. کاشفی

    کسی صورت بھی نیند آتی نہیں میں کیسے سو جاؤں - انور مرزا پوری

    غزل (انور مرزا پوری) کسی صورت بھی نیند آتی نہیں، میں کیسے سو جاؤں کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں، میں کیسے سو جاؤں اکیلا پا کے مجھ کو یاد اُن کی آ تو جاتی ہے مگر پھر لوٹ کر جاتی نہیں، میں کیسے سو جاؤں جو خوابوں میں مرے آ کر تسلّی مجھ کو دیتی تھی وہ صورت اب نظر آتی نہیں، میں کیسے سو جاؤں تمہیں تو...
  17. کاشفی

    مصحفی ہو چکا ناز، منہ دکھائیے بس - مصحفی غلام ہمدانی

    غزل (مصحفی غلام ہمدانی) ہو چکا ناز، منہ دکھائیے بس غصہ موقوف کیجے، آئیے بس فائدہ کیا ہے یوں کھنچے رہنا میری طاقت نہ آزمائیے بس "دوست ہوں میں ترا" نہ کہیے یہ حرف مجھ سے جھوٹی قسم نہ کھائیے بس آپ کو خوب میں نے دیکھ لیا تم ہو مطلب کے اپنے جائیے بس مصحفی عشق کا مزہ پایا دل کسی سے نہ اب لگائیے بس
  18. کاشفی

    حسرت موہانی ہے مشقِ سخن جاری، چکّی کی مشقّت بھی - حسرت موہانی

    غزل (حسرت موہانی) ہے مشقِ سخن جاری، چکّی کی مشقّت بھی اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی جو چاہو سزا دے لو ، تم اور بھی کُھل کھیلو ! پر ہم سے قسم لے لو ، کی ہو جو شکایت بھی دشوار ہے رندوں پر انکارِ کرم یکسر اے ساقیء جاں پرور کچھ لطف و عنایت بھی دل بسکہ ہے دیوانہ اس حُسنِ گلابی کا رنگیں ہے اسی...
Top