کاشفی کی پسندیدہ شاعری

  1. کاشفی

    اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے - جلیل مانک پوری

    غزل (جلیلؔ مانک پوری) اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے یہ قفس یہ آشیانا اور ہے موت کا آنا بھی دیکھا بارہا پر کسی پر دل کا آنا اور ہے ناز اٹھانے کو اٹھاتے ہیں سبھی اپنے دل کا ناز اٹھانا اور ہے درد دل سن کر تمہیں نیند آ چکی بندہ پرور یہ فسانا اور ہے رات بھر میں شمع محفل جل بجھی عاشقوں کا...
  2. کاشفی

    عشق ہو جاؤں پیار ہو جاؤں - افروژ رضوی

    غزل (افروژ رضوی) عشق ہو جاؤں پیار ہو جاؤں میں جو خوشبوئے یار ہو جاؤں جب بھی نکلوں میں ڈھونڈ نے اس کو دھول مٹی غبار ہو جاؤں اس کے وعدے کا اعتبار کروں پھر شب انتظار ہو جاؤں اوڑھ لوں اس کی یاد کی چادر اور خود پر نثار ہو جاؤں میں ترا موسم خزاں پہنوں اور فصل بہار ہو جاؤں ایک شب اس کو...
  3. کاشفی

    سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے - ساقی امروہوی

    غزل (ساقی امروہوی) سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے پھر طبیعت میں مری کیوں نہ روانی آئے کوئی پیاسا بھی کبھی اس کی طرف رخ نہ کرے کسی دریا کو اگر پیاس بجھانی آئے میں نے حسرت سے نظر بھر کے اسے دیکھ لیا جب سمجھ میں نہ محبت کے معانی آئے اس کی خوشبو سے کبھی میرا بھی آنگن مہکے میرے گھر میں بھی...
  4. کاشفی

    پتھر کے خدا، پتھر کے صنم، پتھر کے ہی انساں پائے ہیں - سدرشن فاخر

    غزل (سدرشن فاخر) پتھر کے خدا، پتھر کے صنم، پتھر کے ہی انساں پائے ہیں تم شہرِ محبت کہتے ہو ہم جان بچا کر آئے ہیں بت خانہ سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے ہم لوگ وہیں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں ہم سوچ رہے ہیں مدت سے اب عمر گزاریں بھی تو کہاں صحرا میں خوشی کے پھول نہیں شہروں...
  5. کاشفی

    اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں - سدرشن فاخر

    غزل (سدرشن فاخر) اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں ہم ان کے لیے زندگانی لٹا دیں ہر اک موڑ پر ہم غموں کو سزا دیں چلو زندگی کو محبت بنا دیں اگر خود کو بھولے تو کچھ بھی نہ بھولے کہ چاہت میں ان کی خدا کو بھلا دیں کبھی غم کی آندھی جنہیں چھو نہ پائے وفاؤں کے ہم وہ نشیمن بنا دیں قیامت کے دیوانے...
  6. کاشفی

    محفل میں اِدھر اور اُدھر دیکھ رہے ہیں - میلہ رام وفاؔ

    غزل (میلہ رام وفا) محفل میں اِدھر اور اُدھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں عالم ہے ترے پَرتو رُخ سے یہ ہمارا حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں بھاگے چلے جاتے ہیں اِدھر کو تو عجب کیا رُخ لوگ ہواؤں کا جدھر دیکھ رہے ہیں ہوگی نہ شبِ غم تو قیامت سے ادھر ختم ہم شام ہی سے...
  7. کاشفی

    جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا - کفیل آزر امروہوی

    غزل (کفیل آزر امروہوی) جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا وہ مری آنکھوں میں پانی دے گیا جاگتے لمحوں کی چادر اوڑھ کر کوئی خوابوں کو جوانی دے گیا میرے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر مجھ کو زخموں کی کہانی دے گیا حل نہ تھا مشکل کا کوئی اس کے پاس صرف وعدے آسمانی دے گیا خود سے شرمندہ مجھے ہونا پڑا...
  8. کاشفی

    ظلم کو تیرے یہ طاقت نہیں ملنے والی - طفیل چترویدی

    غزل (طفیل چترویدی) ظلم کو تیرے یہ طاقت نہیں ملنے والی دیکھ تجھ کو مری بیعت نہیں ملنے والی لوگ کردار کی جانب بھی نظر رکھتے ہیں صرف دستار سے عزت نہیں ملنے والی شہر تلوار سے تم جیت گئے ہو لیکن یوں دلوں کی تو حکومت نہیں ملنے والی راستے میں اسے دیکھا ہے کئی روز کے بعد آج تو رونے کو فرصت...
  9. کاشفی

    قامتِ دل ربا پر شباب آ گیا - نشور واحدی

    غزل (نشور واحدی) قامتِ دل ربا پر شباب آ گیا یا سوا نیزے پر آفتاب آ گیا جاگی جاگی ان آنکھوں کا عالم نہ پوچھ سامنے ایک جام شراب آ گیا اک نگاہ محبت کی تخمیر میں سب سمٹ کر جہان خراب آ گیا یہ چلے وہ بڑھے وہ جواں ہو گئے چند لمحوں میں یوم الحساب آ گیا جھوم اٹھی ایک ارماں بھری زندگی جب...
  10. کاشفی

    گلزار زندگی یوں ہوئی بسر تنہا - گلزار

    غزل (گلزار) زندگی یوں ہوئی بسر تنہا قافلہ ساتھ اور سفر تنہا اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں عمر گزری ہے اس قدر تنہا رات بھر باتیں کرتے ہیں تارے رات کاٹے کوئی کدھر تنہا ڈوبنے والے پار جا اترے نقش پا اپنے چھوڑ کر تنہا دن گزرتا نہیں ہے لوگوں میں رات ہوتی نہیں بسر تنہا ہم نے دروازے تک تو...
  11. کاشفی

    محبت تم سے ہے لیکن جدا ہیں - جگر بریلوی

    غزل (جگر بریلوی) محبت تم سے ہے لیکن جدا ہیں حسیں ہو تم تو ہم بھی پارسا ہیں ہمیں کیا اس سے وہ کون اور کیا ہیں یہ کیا کم ہے حسیں ہیں دل ربا ہیں زمانے میں کسے فرصت جو دیکھے سخنور کون شے ہیں اور کیا ہیں مٹاتے رہتے ہیں ہم اپنی ہستی کہ آگاہ مزاج دل ربا ہیں نہ جانے درمیاں کون آ گیا ہے نہ...
  12. کاشفی

    عدم ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا - عبدالحمید عدم

    غزل (عبدالحمید عدم) ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا وہ خود پلا رہے تھے میں لہرا کے پی گیا توبہ کے ٹوٹنے کا بھی کچھ کچھ ملال تھا تھم تھم کے سوچ سوچ کے شرما کے پی گیا ساغر بدست بیٹھی رہی میری آرزو ساقی شفق سے جام کو ٹکرا کے پی گیا وہ دشمنوں کے طنز کو ٹھکرا کے پی گئے میں دوستوں کے...
  13. کاشفی

    فراق زمیں بدلی فلک بدلا مذاق زندگی بدلا - فراق گورکھپوری

    غزل (فراق گورکھپوری) زمیں بدلی فلک بدلا مذاق زندگی بدلا تمدن کے قدیم اقدار بدلے آدمی بدلا خدا و اہرمن بدلے وہ ایمان دوئی بدلا حدود خیر و شر بدلے مذاق کافری بدلا نئے انسان کا جب دور خود نا آگہی بدلا رموز بے خودی بدلے تقاضائے‌ خودی بدلا بدلتے جا رہے ہیں ہم بھی دنیا کو بدلنے میں نہیں بدلی...
  14. کاشفی

    اے جنوں کچھ تو کُھلے آخر میں کس منزل میں ہوں - سُرُور بارہ بنکوی

    غزل (سُرُور بارہ بنکوی) اے جنوں کچھ تو کُھلے آخر میں کس منزل میں ہوں ہوں جوارِ یار میں یا کوچۂ قاتل میں ہوں پا بہ جولاں اپنے شانوں پر لیے اپنی صلیب میں سفیرِ حق ہوں لیکن نرغۂ باطل میں ہوں جشنِ فردا کے تصور سے لہو گردش میں ہے حال میں ہوں اور زندہ اپنے مستقبل میں ہوں دم بخود ہوں اب سرِ...
  15. کاشفی

    تو عُروسِ شامِ خیال بھی تو جمالِ روئے سحر بھی ہے - سُرُور بارہ بنکوی

    غزل (سُرُور بارہ بنکوی) تو عُروسِ شامِ خیال بھی تو جمالِ روئے سحر بھی ہے یہ ضرور ہے کہ بہ ایں ہمہ مرا اہتمام نظر بھی ہے نہ ہو مضمحل مرے ہم سفر تجھے شاید اس کی نہیں خبر انہیں ظلمتوں ہی کے دوش پر ابھی کاروان سحر بھی ہے یہ مرا نصیب ہے ہم نشیں سر راہ بھی نہ ملے کہیں وہی مرا جادۂ جستجو وہی ان کی...
  16. کاشفی

    دست و پا ہیں سب کے شل اک دست قاتل کے سوا - سُرُور بارہ بنکوی

    غزل (سُرُور بارہ بنکوی) دست و پا ہیں سب کے شل اک دست قاتل کے سوا رقص کوئی بھی نہ ہوگا رقص بسمل کے سوا متفق اس پر سبھی ہیں کیا خدا کیا ناخدا یہ سفینہ اب کہیں بھی جائے ساحل کے سوا میں جہاں پر تھا وہاں سے لوٹنا ممکن نہ تھا اور تم بھی آ گئے تھے پاس کچھ دل کے سوا زندگی کے رنگ سارے ایک تیرے...
  17. کاشفی

    فصلِ گُل کیا کر گئی آشفتہ سامانوں کے ساتھ - سُرُور بارہ بنکوی

    غزل (سُرُور بارہ بنکوی) فصلِ گُل کیا کر گئی آشفتہ سامانوں کے ساتھ ہاتھ ہیں الجھے ہوئے اب تک گریبانوں کے ساتھ تیرے مے خانوں کی اک لغزش کا حاصل کچھ نہ پوچھ زندگی ہے آج تک گردش میں پیمانوں کے ساتھ دیکھنا ہے تا بہ منزل ہم سفر رہتا ہے کون یوں تو عالم چل پڑا ہے آج دیوانوں کے ساتھ ان حسیں...
  18. کاشفی

    جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں - محبوب خزاں

    غزل (محبوب خزاں) جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں یہاں تو اہل سخن آدمی سے کھیلتے ہیں نگار مے کدہ سب سے زیادہ قابل رحم وہ تشنہ کام ہیں جو تشنگی سے کھیلتے ہیں تمام عمر یہ افسردگان محفل گل کلی کو چھیڑتے ہیں بے کلی سے کھیلتے ہیں فراز عشق نشیب جہاں سے پہلے تھا کسی سے کھیل چکے ہیں کسی...
  19. کاشفی

    حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں - محبوب خزاں

    غزل (محبوب خزاں) حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں ایک جھگڑا نہیں کہ تم سے کہیں زیر لب آہ بھی محال ہوئی درد اتنا نہیں کہ تم سے کہیں تم زلیخا نہیں کہ ہم سے کہو ہم مسیحا نہیں کہ تم سے کہیں سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں کوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں کس سے پوچھیں کہ وصل میں کیا ہے ہجر میں کیا...
  20. کاشفی

    دیارِ دل نہ رہا بزمِ دوستاں نہ رہی - شہریار

    غزل (شہریار) دیارِ دل نہ رہا بزمِ دوستاں نہ رہی اماں کی کوئی جگہ زیرِ آسماں نہ رہی رواں ہیں آج بھی رگ رگ میں خون کی موجیں مگر وہ ایک خلش وہ متاعِ جاں نہ رہی لڑیں غموں کے اندھیروں سے کس کی خاطر ہم کوئی کرن بھی تو اس دل میں ضو فشاں نہ رہی میں اس کو دیکھ کے آنکھوں کا نور کھو بیٹھا یہ...
Top