اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے - جلیل مانک پوری

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 8, 2020

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (جلیلؔ مانک پوری)
    اپنے رہنے کا ٹھکانا اور ہے
    یہ قفس یہ آشیانا اور ہے


    موت کا آنا بھی دیکھا بارہا
    پر کسی پر دل کا آنا اور ہے


    ناز اٹھانے کو اٹھاتے ہیں سبھی
    اپنے دل کا ناز اٹھانا اور ہے


    درد دل سن کر تمہیں نیند آ چکی
    بندہ پرور یہ فسانا اور ہے


    رات بھر میں شمع محفل جل بجھی
    عاشقوں کا دل جلانا اور ہے


    ہم کہاں پھر باغباں گلشن کہاں
    ایک دو دن آب و دانا اور ہے


    بھولی بھولی ان کی باتیں ہو چکیں
    اب خدا رکھے زمانا اور ہے


    چھوڑ دوں کیوں کر در پیر مغاں
    کوئی ایسا آستانا اور ہے


    یار صادق ڈھونڈتے ہو تم جلیلؔ
    مشفق من یہ زمانا اور ہے
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,152
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    دس ماہ بعد محفل میں بارِ دگر خوش آمدید کاشفی بھائی!!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    15,589
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    بہت خوب!
    شئیر کرنے کا بہت شکریہ کاشفی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. syed Kashif Rizvi

    syed Kashif Rizvi محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جلیل مانک پوری نظام حیدر آباد دکن کے استاد تھے اور اودھ کے مسلم البوث شعرا میں انکا شمار ہوتا تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    بیحد شکریہ محمد خلیل الرحمٰن بھائی۔ خوش رہیئے۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    بہت شکریہ الف نظامی بھائی!۔ خوش رہیئے۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر