کاشفی کی پسندیدہ شاعری

  1. کاشفی

    آپ کی ہستی میں ہی مستور ہو جاتا ہوں میں - آتش بہاولپوری

    غزل (آتش بہاولپوری) آپ کی ہستی میں ہی مستور ہو جاتا ہوں میں جب قریب آتے ہو خود سے دور ہوجاتا ہوں میں دار پر چڑھ کر کبھی منصور ہوجاتا ہوں میں طور پر جا کر کلیمِ طور ہوجاتا ہوں میں یوں کسی سے اپنے غم کی داستاں کہتا نہیں پوچھتے ہیں وہ تو پھر مجبور ہوجاتا ہوں میں اپنی فطرت کیا کہوں اپنی طبیعت کیا...
  2. کاشفی

    مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے - آتش بہاولپوری

    غزل (آتش بہاولپوری) مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے میری بھی کوئی قیمت ہوگئی ہے وہ جب سے ملتفت مجھ سے ہوئے ہیں یہ دنیا خوب صورت ہوگئی ہے چڑھایا جا رہا ہوں دار پر میں بیاں مجھ سے حقیقت ہوگئی ہے رواں دریا ہیں انسانی لہو کے مگر پانی کی قلت ہوگئی ہے مجھے بھی اک ستم گر کے کرم سے ستم سہنے کی عادت ہوگئی...
  3. فرخ منظور

    مجاز تسکینِ دلِ محزوں نہ ہوئی، وہ سعئ کرم فرما بھی گئے ۔ اسرار الحق مجاز

    تسکینِ دلِ محزوں نہ ہوئی، وہ سعئ کرم فرما بھی گئے اس سعئ کرم کو کیا کہیے، بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے ہم عرضِ وفا بھی کر نہ سکے، کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے یاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی، واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے آشفتگیِ وحشت کی قسم، حیرت کی قسم، حسرت کی قسم اب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں، ہم رازِ...
  4. کاشفی

    کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے - نظام رامپوری

    غزل (نظام رامپوری) کبھی ملتے تھے وہ ہم سے زمانہ یاد آتا ہے بدل کر وضع چھپ کر شب کو آنا یاد آتا ہے وہ باتیں بھولی بھولی اور وہ شوخی ناز و غمزہ کی وہ ہنس ہنس کر ترا مجھ کو رُلانا یاد آتا ہے گلے میں ڈال کر بانہیں وہ لب سے لب ملا دینا پھر اپنے ہاتھ سے ساغر پلانا یاد آتا ہے بدلنا کروٹ اور تکیہ مرے...
  5. کاشفی

    وہ بگڑے ہیں، رکے بیٹھے ہیں، جھنجلاتے ہیں، لڑتے ہیں - نظام رامپوری

    غزل (نظام رامپوری) وہ بگڑے ہیں، رکے بیٹھے ہیں، جھنجلاتے ہیں، لڑتے ہیں کبھی ہم جوڑتے ہیں ہاتھ گاہے پاؤں پڑتے ہیں گئے ہیں ہوش ایسے گر کہیں جانے کو اُٹھتا ہوں تو جاتا ہوں اِدھر کو اور اُدھر کو پاؤں پڑتے ہیں ہمارا لے کے دل کیا ایک بوسہ بھی نہیں دیں گے وہ یوں دل میں تو راضی ہیں مگر ظاہر جھگڑتے ہیں...
  6. کاشفی

    بشیر بدر نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی - بشیر بدر بھوپالی

    غزل (بشیر بدر بھوپالی) نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی بڑی آرزو تھی ملاقات کی اُجالوں کی پریاں نہانے لگیں ندی گُنگنائی خیالات کی میں چُپ تھا تو چلتی ہوا رُک گئی زباں سب سمجھتے ہیں جذبات کی مقدر مری چشمِ پُر آب کا برستی ہوئی رات برسات کی کئی سال سے کچھ خبر ہی نہیں کہاں دن گزارا کہاں رات کی
  7. کاشفی

    بشیر بدر سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے - بشیر بدر بھوپالی

    غزل (بشیر بدر بھوپالی) سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے باوضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے میں ترے ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوں کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے مجھ میں رہتا ہے کوئی دشمن جانی میرا خود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے بُت بھی رکھے ہیں، نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں دل میرا دل...
  8. کاشفی

    گلزار پھولوں کی طرح لب کھول کبھی - سمپورن سنگھ کلرا، گلزار

    غزل ( سمپورن سنگھ کلرا، گلزار) پھولوں کی طرح لب کھول کبھی خوشبو کی زباں میں بول کبھی الفاظ پرکھتا رہتا ہے آواز ہماری تول کبھی انمول نہیں لیکن پھر بھی پوچھ تو مفت کا مول کبھی کھڑکی میں کٹی ہیں سب راتیں کچھ چورس تھیں کچھ گول کبھی یہ دل بھی دوست زمیں کی طرح ہو جاتا ہے ڈانوا ڈول کبھی
  9. کاشفی

    گلزار جب بھی یہ دل اداس ہوتا ہے - سمپورن سنگھ کلرا

    غزل ( سمپورن سنگھ کلرا، گلزار) جب بھی یہ دل اُداس ہوتا ہے جانے کون آس پاس ہوتا ہے آنکھیں پہچانتی ہیں آنکھوں کو درد چہرہ شناس ہوتا ہے گو برستی نہیں سدا آنکھیں ابر تو بارہ ماس ہوتا ہے چھال پیڑوں کی سخت ہے لیکن نیچے ناخن کے ماس ہوتا ہے زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہے درد دل کا لباس ہوتا ہے ڈس ہی...
  10. کاشفی

    کوئی دستار سلامت نہ گریباں اب کے - محمود شام

    غزل (محمود شام - کراچی) کوئی دستار سلامت نہ گریباں اب کے کیسے آغاز ہوئی صبحِ بہاراں اب کے روز ملتا ہے نیا رقصِ جنوں دیکھنے کو فارغ اک لمحہ نہیں دیدہء حیراں اب کے وحشتیں توڑ کے ہر بند نکل آئی ہیں نادم انسان کی حرکت پہ ہے حیواں اب کے فیصلے زور سے اور جبر سے کرتے ہیں ہجوم یہ ہے سلطانی جمہور کا...
  11. کاشفی

    بیدار اِس خیال سے اب ہو رہا ہوں میں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) بیدار اِس خیال سے اب ہو رہا ہوں میں آنکھیں کھُلی ہیں لاکھ مگر سو رہا ہوں میں شاید مری طرح یہ نہیں واقفِ مآل گو پھُول ہنس رہے ہیں مگر رو رہا ہوں میں کیا ہو مآلِ سعی مجھے کچھ خبر نہیں کشتِ عمل میں بیج مگر بو رہا ہوں میں کرنی کی راہ اور ہے، بھرنی کی راہ اور...
  12. کاشفی

    یہ کس فضا میں نامِ خدا جا رہا ہوں میں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) یہ کس فضا میں نامِ خدا جا رہا ہوں میں مانندِ جبرئیل اُڑا جا رہا ہوں میں منزل مری کہاں ہے، مجھے کچھ خبر نہیں دریا ہوں اپنی رَو میں بہا جا رہا ہوں میں پردے سے لاؤں کیا تمہیں باہر نکال کر اپنی نظر سے آپ چھپا جا رہا ہوں میں نو واردانِ محفلِ ہستی، خوش آمدید...
  13. کاشفی

    فکر کی کون سی منزل سے گزرتا ہوں میں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) فکر کی کون سی منزل سے گزرتا ہوں میں اب تو اک شعر بھی کہتے ہوئے ڈرتا ہوں میں حوصلہ دل کا بڑھاتی ہے عزائم کی شکست خونِ جذبات سے کچھ اور نکھرتا ہوں میں کس کے پَرتو سے مری رُوح کو ملتا ہے جمال کس کی تہذیب کے صدقے میں سنورتا ہوں میں میری فن کار طبیعت کا یہ...
  14. کاشفی

    رُخ تو میری طرف سے پھیرے ہیں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) رُخ تو میری طرف سے پھیرے ہیں پھر بھی مدِّنظر وہ میرے ہیں جس طرف میں نگاہ کرتا ہوں کچھ اُجالے ہیں، کچھ اندھیرے ہیں آپ کی مُسکراہٹوں کے نثار پُھول چاروں طرف بکھیرے ہیں کروٹیں وقت کی انہیں کہیئے نہ ہیں شامیں نہ یہ سویرے ہیں میں ہوں اُن کے سلوک کا کشتہ جو...
  15. کاشفی

    رفتہ رفتہ دُنیا بھر کے رشتے ناتے ٹوٹ رہے ہیں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) رفتہ رفتہ دُنیا بھر کے رشتے ناتے ٹوٹ رہے ہیں بیگانوں کا ذکر ہی کیا جب اپنے ہم سے چُھوٹ رہے ہیں اُن کی غیرت کو ہم روئیں یا روئیں اپنی قسمت کو جن کو بچایا تھا لُٹنے سے اب وہ ہم کو لُوٹ رہے ہیں ساقی تیری لغزشِ پیہم ختم نہ کر دے میخانے کو کتنے ساغر ٹُوٹ چکے...
  16. کاشفی

    ہم اِسے نعمتِ ہستی کا بدل کہتے ہیں - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) ہم اِسے نعمتِ ہستی کا بدل کہتے ہیں عشق کو لوگ حماقت میں اجل کہتے ہیں اکبر آباد ہے قرطاسِ محبت کی زمیں ہم تو ہر اشک کو اک تاج محل کہتے ہیں وقت نے آج تک اِس راز کی تشریح نہ کی نام کِس کا ہے ابد، کِس کا ازل کہتے ہیں کوئی دیوانہ ہی زنجیر میں رہتا ہے اسیر عین...
  17. کاشفی

    تُو میرے ہر راز سے محرم - مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی

    غزل (مُنشی بشیشور پرشاد منوّر لکھنوی) تُو میرے ہر راز سے محرم پھر بھی مجھ سے واقف کم کم سب کے لب پر تیرا نغمہ سب کے ہاتھ میں تیرا پرچم تجھ میں گنگا، تجھ میں جمنا تُو ہی تربینی کا سنگم اور نہیں کچھ خواہش میری دے دے بخشش میں اپنا غم موت آئی کس وقت منوّر ہر گھر میں ہے تیرا ماتم
  18. کاشفی

    سودا باتیں کِدھر گئیں وہ تِری بھولی بھالِیاں؟ - سودا

    غزل (مرزا محمد رفیع دہلوی سودا) باتیں کِدھر گئیں وہ تِری بھولی بھالِیاں؟ دِل لے کے بولتا ہَے، جو اَب تو، یہ بولِیاں ہر بات ہَے لطیفہ و ہر یک سُخن ہَے رمز ہر آن ہَے کِنایہ و ہر دم ٹھٹھولِیاں حَیرت نے، اُس کو بند نہ کرنے دیں پِھر کبھو آنکھیں، جب آرسی نے، تِرے مُنہ پہ کھولِیاں کِس نے کیا...
  19. کاشفی

    سودا چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا - سوداؔ

    غزل (مرزا محمد رفیع دہلوی متخلص بہ سوداؔ) چہرے پہ نہ یہ نقاب دیکھا پردے میں تھا آفتاب دیکھا کُچھ مَیں ہی نہیں ہوں، ایک عالم اُس کے لیے یاں خراب دیکھا بے جُرم و گناہ، قتلِ عاشِق مذہب میں تِرے ثواب دیکھا جِس چشم نے مُجھ طرف نظر کی اُس چشم کو میں پُرآب دیکھا بھوَلا ہے وہ دِل سے لُطف اُس کے...
  20. کاشفی

    ولی دکنی عاشِقاں پر ہمیشہ رَوشن ہے - ولی دکنی

    غزل (شمس ولی اللہ ولی دکنی) عاشِقاں پر ہمیشہ رَوشن ہے کہ فنِ عاشِقی، عجب فن ہے دُشمنِ دیں کا، دین دُشمن ہے راہ زن کا چِراغ رہزن ہے سفرِ عِشق کیوں نہ ہو مُشکِل؟ غمزہء چشمِ یار رہزن ہے مُجھ کوں رَوشن دِلاں نے دی ہے خبر کہ سُخن کا چِراغ رَوشن ہے عِشق میں شمع رو کے جلتا ہوں حال میرا سبھوں پہ...
Top