عرفان صدیقی اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے - عرفان صدیقی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 11, 2017

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (عرفان صدیقی - لکھنؤ)
    اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
    کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے


    عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
    مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے


    وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں
    ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے


    جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ کے آئیں
    پیادگاں کو ظفر یاب دیکھنے کے لیے


    کہاں ہے تو کہ یہاں جل رہے ہیں صدیوں سے
    چراغ دیدہ و محراب دیکھنے کے لیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر