پتھر کے خدا، پتھر کے صنم، پتھر کے ہی انساں پائے ہیں - سدرشن فاخر

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 28, 2018

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (سدرشن فاخر)
    پتھر کے خدا، پتھر کے صنم، پتھر کے ہی انساں پائے ہیں
    تم شہرِ محبت کہتے ہو ہم جان بچا کر آئے ہیں


    بت خانہ سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے
    ہم لوگ وہیں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں


    ہم سوچ رہے ہیں مدت سے اب عمر گزاریں بھی تو کہاں
    صحرا میں خوشی کے پھول نہیں شہروں میں غموں کے سائے ہیں


    ہونٹوں پہ تبسم ہلکا سا آنکھوں میں نمی سی ہے فاخر
    ہم اہلِ محبت پر اکثر ایسے بھی زمانے آئے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر