جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا - کفیل آزر امروہوی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 28, 2018

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (کفیل آزر امروہوی)
    جاتے جاتے یہ نشانی دے گیا
    وہ مری آنکھوں میں پانی دے گیا


    جاگتے لمحوں کی چادر اوڑھ کر
    کوئی خوابوں کو جوانی دے گیا


    میرے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر
    مجھ کو زخموں کی کہانی دے گیا


    حل نہ تھا مشکل کا کوئی اس کے پاس
    صرف وعدے آسمانی دے گیا


    خود سے شرمندہ مجھے ہونا پڑا
    آئینہ جب میرا ثانی دے گیا


    مجھ کو آذرؔ اک فریبِ آرزو
    خوبصورت زندگانی دے گیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    13,261
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine

اس صفحے کی تشہیر