سلسلہ ختم کر چلے آئے - سبھاش پاٹھک ضیا

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 14, 2016

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    غزل
    (سبھاش پاٹھک ضیا)
    سلسلہ ختم کر چلے آئے
    وہ اُدھر ہم اِدھر چلے آئے

    میں نے تو آئینہ دکھایا تھا
    آپ کیوں روٹھ کر چلے آئے

    دل نے پھر عشق کی تمنا کی
    راہ پھر پُر خطر چلے آئے

    دور تک کچھ نظر نہیں آتا
    کیا بتائیں کدھر چلے آئے

    میں جھکا تھا اُسے اُٹھانے کو
    سب مجھے روند کر چلے آئے

    اے ضیا دل ہے بھر نہ آئے کیوں
    کیا ہوا اشک گر چلے آئے
     

اس صفحے کی تشہیر