قتیل شفائی اب تو بیداد پہ بیداد کرے گی دنیا - قتیل شفائی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 24, 2016

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    غزل
    (قتیل شفائی)
    اب تو بیداد پہ بیداد کرے گی دنیا
    ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرے گی دنیا


    زندگی بھاگ چلی موت کے دروازے سے
    اب قفس کون سا ایجاد کرے گی دنیا


    ہم تو حاضر ہیں پر اے سلسلہء جورِ قدیم
    ختم کب ورثہء اجداد کرے گی دنیا


    سامنے آئیں گے اپنی ہی وفا کے پہلو
    جب کسی اور کو برباد کرے گی دنیا


    کیا ہوئے ہم کہ نہ تھے مرگِ بشر کے قائل
    لوگ پوچھیں گے تو فریاد کرے گی دنیا
     
  2. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    14,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    سامنے آئیں گے اپنی ہی وفا کے پہلو
    جب کسی اور کو برباد کرے گی دنیا
     

اس صفحے کی تشہیر