قتیل شفائی جب اپنے اعتقاد کے محور سے ہٹ گیا - قتیل شفائی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 24, 2016

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    غزل
    (قتیل شفائی)
    جب اپنے اعتقاد کے محور سے ہٹ گیا
    میں ریزہ ریزہ ہو کے حریفوں میں بٹ گیا


    دشمن کے تن پہ گاڑ دیا میں نے اپنا سر
    میدانِ کارزار کا پانسہ پلٹ گیا

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    درپیش اب نہیں ترا غم کیسے مان لوں
    کیسا تھا وہ پہاڑ جو رستے سے ہٹ گیا

    اپنے قریب پا کے معطر سی آہٹیں
    میں بارہا سنکتی ہوا سے لپٹ گیا

    جو بھی ملا سفر میں کسی پیڑ کے تلے
    آسیب بن کے مجھ سے وہ سایا چمٹ گیا

    لٹتے ہوئے عوام کے گھر بار دیکھ کر
    اے شہریار تیرا کلیجہ نہ پھٹ گیا

    رکھے گا خاک ربط وہ اس کائنات سے
    جو ذرہ اپنی ذات کے اندر سمٹ گیا

    چوروں کا احتساب نہ اب تک ہوا قتیل
    جو ہاتھ بے قصور تھا وہ ہاتھ کٹ گیا
     
    • زبردست زبردست × 2
  2. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    14,094
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    چوروں کا احتساب نہ اب تک ہوا قتیل
    جو ہاتھ بے قصور تھا وہ ہاتھ کٹ گیا
     
  3. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی لائبریرین

    مراسلے:
    19,077
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    واہ بہت خوبصورت شیئرنگ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,393
    شکریہ
     

اس صفحے کی تشہیر