ادب

  1. عمر شرجیل چوہدری

    خودی سے ہے سارا جہان

    ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ عمر صاحب آپ دوسروں کو اپریشیٹ (appreciate) بہت کم کرتے ہو اسی لیے شاید آج آپ تنہا کھڑے ہو اپنے مقام پر.. میں نے کہا ایسا باکل نہیں ہے بلکہ میں ہر اس شخص کو اپریشیٹ کرتا ہوں جو خود اپنے آپ کو اپنی ذات کو اپریشیٹ کرتا ہے. پوچھنے لگا کیسے؟ میں نے کہا اگر ایک شخص آپ کے...
  2. عمر شرجیل چوہدری

    محبت ہو جائے تو ٹالی نہیں جاتی

    پڑی مصیبت سر سے نہیں جاتی محبت ہو جائے تو ٹالی نہیں جاتی کرتا ہوں لاکھ انکار مگر کیا کیجئے کہ اس کی عادت مجھ سے چھوڑی نہیں جاتی دن کو وہ یاد آتا ہے مگر گزر جاتا ہے دن تو شب اس کی یاد میں مجھ سے گزاری نہیں جاتی بھول گیا ہوں اسکی سب باتیں مگر وہ خندہ زیرِ لب مجھ سے بھلائی نہیں جاتی چاند کی بے...
  3. عمر شرجیل چوہدری

    رو دیتا ہوں

    بچپن کو یاد کرتا ہوں تو رو دیتا ہوں ماں کی گود میں سر رکھتا ہوں تو رو دیتا ہوں بن مسکراہٹ کے ہی تمام تصویریں بنتی ہیں پرانی البم کو دیکھتا ہوں تو رو دیتا ہوں دل پر تو ہمیشہ ہی رہتا ہے اک بوجھ بوجھ حد سے بڑھ جائے تو رو دیتا ہوں غم یار ہے غم دنیا ہے غم حشر ہے سب غموں کو ملاتا ہوں تو رو دیتا ہوں...
  4. عمر شرجیل چوہدری

    محبت

    بات یہ ہے کہ جب بھی محبت کا ذکر ہوتا ہے ہمارے دل و دماغ پر ایک عورت یا ایک مرد کا خیال پیدا ہوتا ہے، جبکہ محبت تو کسی بھی شے سے کی جا سکتی ہے چاہے وہ جاندار ہو یا بےجان. کسی جانور سے بھی گہرا لگاؤ ہو جائے تو اس کے بچھڑ جانے پر صدمہ ہوتا ہے یہ احساس بچوں میں خوب دیکھا جا سکتا ہے، کوئی بے جان...
  5. بزم خیال

    اَدب آداب سے

    نام معاشرے میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد پہلا کام نام کا چناؤ ہوتا ہے ۔کہانیاں ہوں یا کتابیں ، ڈرامے ہوں یا فلم موضوع کے اعتبار سے نام رکھے جاتے ہیں۔ ساتھ میں اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ پڑھنے والے یا دیکھنے والےٹائٹل سے کھنچے چلے آئیں۔کبھی کبھار عنوان زندگی...
  6. شاہد عزیز انجم

    میں اور میرا گیدڑ

    دوستو! آداب آپ کو ایک کہانی سناتے ہیں. ہماری پہاڑی زبان میں کٹی گھاس کا ڈھیر یا ترتیب میں گھاس کی گڈیوں کو جب ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے تو اسے' گھاڑا'کہتے ہیں، اردو لغت کے مطابق اسے گھاس گنجی، گاہ انبار یا گھاس کا چوٹی دار ڈھیر کہتے ہیں. اکثر یہ 'گھاڑے' گاؤں کے باہر زمینوں کے کونوں پر ہوتے ہیں...
  7. بافقیہ

    خبرلیجے زباں بگڑی

    خبرلیجے زباں بگڑی بنگالی ’ج‘ کو ’ز ‘سے بدل دیتے ہیں تحریر: اطہر ہاشمی پیر 13 جنوری کے تمام اخبارات میں، اور نیوز چینلز پر بھی بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر کا نام ’نظم...
  8. بافقیہ

    خبر لیجے زباں بگڑی

    خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ نیا کٹّا کھولنا۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی - ایک باراں دیدہ سیاست دان نے گزشتہ دنوں مشورہ دیا ہے کہ ’’نیا کٹّا‘‘ نہ کھولا جائے۔ یہ کٹّا کون ہے جو پہلے کبھی ہٹا، کٹا تھا… اس کی تفصیل میں جاکر ہم کوئی سیاسی کٹا نہیں کھولنا چاہتے، چنانچہ لفظ ’’کٹا‘‘ کی بات کرتے ہیں۔ اردو میں...
  9. محمداحمد

    سہ ماہی اردو محفل ۔۔۔ اکتوبر تا دسمبر 2019

    سہ ماہی اردو محفل اکتوبر تا دسمبر 2019 السلام علیکم، آج ہم اردو محفل کے سہ ماہی ادبی رسالے کا آغاز کر رہے ہیں ۔ یہاں تمام اراکین خود سے اپنی تحاریر شامل کریں گے۔ چونکہ یہ ایک جاری مجلہ ہے اس لئے رسالے کی مدت اور تحاریر ارسال کرنے کا دورانیہ ایک ہی ہوگا۔ سہ ماہی اردو محفل ، محفل کے اساتذہ...
  10. محمد فرحان سموں

    ایک قطعہ:: از ::فرحان سموں فرحان

    اپنا ظاہر جمال کرتے ہو اتنا کاہے وبال کرتے ہو جانتے ہو مِری غریبی کو کس لیے پھر سوال کرتے ہو
  11. اظہرعباس

    *اُردُو*

    *اُردُو* *اُردُو* پر *اسد الله* ہمیشہ *"غالب"* رہے، *"اقبالؒ"* ہمیشہ بلند اقبال رہے اور *"فیض"* کا فیض جاری ہے، کوئی ندی ہے، کوئی دریا اور کوئی سمندر، ہمیں ادب سے *"شورش"* نہیں اس لیے ہم کسی کے *"فراق*" میں نہیں رہتے، اردو میں *"میر"* ہی نہیں *"امیر*" ترین لوگ بھی ہیں، اردو پر کسی قسم کا داغ...
  12. کاشفی

    گھیرا ڈالے ہوئے ہے دشمن بچنے کے آثار کہاں - کمار پاشی

    غزل (کمار پاشی) گھیرا ڈالے ہوئے ہے دشمن بچنے کے آثار کہاں خالی ہاتھ کھڑے ہو پاشیؔ رکھ آئے تلوار کہاں کیوں لوگوں سے مہر و وفا کی آس لگائے بیٹھے ہو جھوٹ کے اس مکروہ نگر میں لوگوں کا کردار کہاں کیا حسرت سے دیکھ رہے ہیں ہمیں یہ جگ مگ سے ساحل ہائے ہمارے ہاتھوں سے بھی چھوٹے ہیں پتوار کہاں ختم...
  13. وحید آیان

    خامشی کے نام۔۔۔۔

    اس خلا کی خامشی کا کیا کروں اے خدا میں زندگی کا کیا کروں۔؟ دھیرے دھیرے آنکھ میں در آئے گی خود میں رہتی بےکلی کا کیا کروں تھک گیا ہوں گونجتے مصرعوں سے میں تُو نہیں تو شاعری کا کیا کروں۔۔۔ (وحید آیان)
  14. مظہر آفتاب

    2 پاکستانی رائٹر دنیا ئے ادب کے لیے نامزد

  15. محمداحمد

    ادبِ عالیہ اور ہمارا معاشرہ ۔۔۔ از ۔۔۔ آوازِ دوست

    ادبِ عالیہ اور ہمارا معاشرہ آوازِ دوست زندگی کی اعلیٰ اقدار کل کے مقابلے میں آج زیادہ تیزی سے رو بہ زوال ہیں۔ پھر سوچتا ہوں کہ یہ اعلیٰ اقدار اپنی اصل میں ہیں کیا؟ شائد دو وقت کی روٹی کے پیچھے بھاگتے لوگ موسیقی، شاعری، مصوری، ادب و فلسفہ، روحانیت وغیرہ جیسے تسکینِ ذات کے ذرائع سے حظ اُٹھانے کی...
  16. سید کمیل شیرازی

    محبت ہو کہ رہتی ہے ۔۔ تازہ آزاد نظم

    "محبت ہو کہ رہتی ہے" ہماری ایک آزاد نظم محبت کی کہانی میں بدن گر ہار بھی جائے تمازت کم نہیں ہوتی محبت روح کی مستی محبت با صفاء جذبہ محبت نور کا بندھن محبت روح کا ایندھن محبت نالہ آدم محبت نوح کا ماتم محبت طور پر روشن محبت ہر صدی اور ہر زمانے میں ہر اک ظالم سے ٹکرائی کبھی طائف کی گلیوں میں...
  17. کاشفی

    نہ رہبر نے نہ اس کی رہبری نے - شو رتن لال برق پونچھوی

    غزل (شو رتن لال برق پونچھوی) نہ رہبر نے نہ اس کی رہبری نے مجھے منزل عطا کی گمرہی نے بنا ڈالا زمانے بھر کو دشمن فقط اک اجنبی کی دوستی نے وہ کیوں محتاج ہو شمس و قمر کا جلا بخشی ہو جس کو تیرگی نے بدن کانٹوں سے کر ڈالا ہے چھلنی ہمارا گُل رُخوں کی دوستی نے بدل ڈالا مذاق گُل پرستی چمن میں ادھ کھلی...
  18. کاشفی

    مصحفی دل چیز کیا ہے ، چاہئے تو جان لیجئے - مصحفی غلام ہمدانی

    غزل (مصحفی غلام ہمدانی) دل چیز کیا ہے، چاہئے تو جان لیجئے پر بات کو بھی میری ذرا مان لیجئے مریے تڑپ تڑپ کے دلا کیا ضرور ہے سر پر کسی کی تیغ کا احسان لیجئے آتا ہے جی میں چادر ابرِ بہار کو ایسی ہوا میں سر پہ ذرا تان لیجئے میں بھی تو دوست دار تمہارا ہوں میری جاں میرے بھی ہاتھ سے تو کبھو پان...
  19. کاشفی

    پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا - گیان چند

    غزل (گیان چند) پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا بادل کا آوارہ ٹکڑا کھویا کھویا تنہا تنہا پچھم دیس کے فرزانوں نے نصف جہاں سے شہر بسائے ان میں پیر بزرگ ارسطو بیٹھا رہتا تنہا تنہا کتنا بھیڑ بھڑکا جگ میں کتنا شور شرابہ لیکن بستی بستی کوچہ کوچہ چپا چپا تنہا تنہا سیر کرو باطن میں اس کے...
  20. کاشفی

    قتیل شفائی جب اپنے اعتقاد کے محور سے ہٹ گیا - قتیل شفائی

    غزل (قتیل شفائی) جب اپنے اعتقاد کے محور سے ہٹ گیا میں ریزہ ریزہ ہو کے حریفوں میں بٹ گیا دشمن کے تن پہ گاڑ دیا میں نے اپنا سر میدانِ کارزار کا پانسہ پلٹ گیا تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا درپیش اب نہیں ترا غم کیسے مان لوں کیسا تھا وہ پہاڑ جو رستے سے ہٹ گیا...
Top