بافقیہ

محفلین
خبرلیجے زباں بگڑی

بنگالی ’ج‘ کو ’ز ‘سے بدل دیتے ہیں
تحریر: اطہر ہاشمی
پیر 13 جنوری کے تمام اخبارات میں، اور نیوز چینلز پر بھی بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر کا نام ’نظم الحسن‘ دیا گیا ہے۔ ہمارے نوجوان صحافیوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ بنگالی میں ’ج‘ ’ز‘ یا ’ظ‘ (Z) سے بدل جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ خبر انگریزی میں آئی ہے چنانچہ ’نجم الحسن‘ نظم الحسن ہوگیا۔ نظم الحسن بنگالی میں بھی بے معنی ہے۔ یہ واقعہ دہرانا شاید بے وقت نہ ہو کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے پہلے ڈھاکا میں ایک بڑا مشاعرہ ہوا جس میں استاد جلیل مانکپوری بھی شامل تھے۔ ان کے ایک ساتھی نے کہا کہ اب دیکھیے، آپ کا نام ’ذلیل‘ ہوجائے گا۔ انہوں نے وثوق سے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ چنانچہ جب بنگالی معلن (مع لِن) نے ان کا نام پکارا تو جلیل مانکپوری ہی کہا۔ بعد میں ساتھی نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا؟ تو ہنس کر کہنے لگے ’’میں نے اپنا نام ’ذلیل‘ لکھ کر دیا تھا، چنانچہ حسبِ معمول ’ذ‘ کو ’ج‘ کردیا گیا‘‘۔ جدہ میں ایک بنگالی مولانا بچوں کو پڑھانے آتے تھے اور دعائیں بھی یاد کراتے تھے۔ وہ یہ دعا بھی یاد کراتے تھے ’’ربِ جدنی علما‘‘۔ ان کے جانے کے بعد ہم تصحیح کروا دیا کرتے تھے کہ یہ ’’زدنی علما‘‘ ہے۔ Z کو جیڈ کہنا عام ہے۔ نجانے قرآن کریم پڑھتے ہوئے کیا کہتے ہوں گے۔ جدہ ہی میں ہمارے دفتر میں مسجد تھی جو وہاں ہر دفتر میں ہوتی ہے۔ وہاں کوئی بھی شخص آگے بڑھ کر امامت کرا سکتا ہے۔ چنانچہ ایک بار عرب نیوز کے ایک شامی صحافی نے نماز پڑھائی۔ مقتدیوں میں ادارے کے ڈائریکٹر جنرل بھی تھے۔ انہوں نے سلام پھیرنے کے بعد اعلان کیا کہ آئندہ وہ شامی صحافی نماز نہیں پڑھائیں گے۔ وجہ یہی کہ بیشتر عربوں نے ’ق‘ کو ’گ‘ کہنا شروع کردیا ہے۔ مصریوں نے ’ج‘ کو ’گ‘ کرلیا اور یہ وبا سعودی عرب میں بھی داخل ہوگئی ہے۔
نوجوان صحافی بھی کیا کریں جب ہمارے سیاسی رہنما بھی فاش غلطیاں کرتے ہیں اور ان کی یہ غلطیاں ٹی وی چینلز کی وجہ سے عام ہورہی ہیں۔ ایک وفاقی وزیر یا مشیر مبیّنہ کو مبینہ (مبی نہ) کہہ رہے تھے۔ سندھ کے ایک وزیر ’’مبنی‘‘ پر تشدید لگا کر حساب برابر کررہے تھے۔ بَھینٹ (بھ پر زبر) کو بِھینٹ بروزن اینٹ کہا جارہا ہے۔ جسارت کے پیر کے شمارے میں شہ سرخی کی ذیلی میں ’’تصاویریں‘‘ شائع ہوا ہے۔ صحافی بننے کے لیے اب شاید علم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ اردو اخبارات میں جتنی غلطیاں ہوتی ہیں انگریزی اخبارات میں نہیں ہوتیں۔ ٹی وی پر ایک صاحب فوج کُشی (’ک‘ پر پیش) کہہ رہے تھے۔ کَش اور کُش میں فرق اب تک واضح نہیں ہوا۔ ’خودکُشی‘ کو عموماً ’’خودکَشی‘‘ (’ک‘ پر زبر) کہا جارہا ہے۔ جب کہ کَش کا مطلب ہے: کھینچنا جیسے جاروب کَش، سگریٹ کا کَش وغیرہ۔ اور کُش کا مطلب ہے: مارنا، قتل کرنا۔ خود کُشی کا مطلب ہے: خود کو مارنا، قتل کرنا۔ کُش فارسی کا لفظ ہے اور اس کا مصدر کشتن ہے۔ یہ محاورہ مشہور ہے ’’گربہ کُشتن روزِ اوّل‘‘۔ فوج کُشی کا مطلب تو فوج کو قتل کرنا ہوا۔ جب کہ فوج کَشی کا مطلب فوجی چڑھائی کرنا ہے۔
جسارت میں ایک مضمون کی سرخی دیکھی ’’موٹاپا‘‘۔ مضمون غالباً مٹاپا دور کرنے کے بارے میں تھا، لیکن یہ موٹاپا کیا ہے؟ اگر موٹاپا ہوسکتا ہے تو بوڑھاپا بھی ہوتا ہوگا۔ مٹاپا ہندی کا لفظ ہے اور موٹاپا ہو یا بوڑھاپا، اس میں وائو نہیں آتا خواہ کوئی کتنا ہی موٹا یا بوڑھا ہو۔ اسی طرح موٹا سے مُٹائی ہے۔ اس میں بھی وائو نہیں، یعنی یہ موٹائی نہیں ہے لیکن عام بول چال میں موٹائی ہی کہا جاتا ہے۔ لمبائی، موٹائی۔ تاہم لغت میں یہ مُٹائی ہے۔ ہمارے ساتھی اگر کبھی کبھی لغت بھی دیکھ لیں تو کوئی ہرج نہیں ہے۔
’’بٹّے کھاتے میں‘‘۔ ہمارا خیال تھا کہ یہ عوامی لفظ ہے، لیکن داغؔ دہلوی نے اسے اپنے شعر میں استعمال کیا ہے تو مستند ہوگیا:۔

چکی تھی قیمتِ دل ایک بوسہ وہ نہ ملی
یہ مال ڈال دیا ہم نے بٹّے کھاتے میں
بٹّے کھاتے کا مطلب ہے ناقابلِ وصول رقم، یا وہ رقم جس کا وصول ہونا مشتبہ ہو۔ ’بٹے کھاتے لکھنا‘ کا مطلب ہے کسی رقم کو ناقابلِ وصول قرار دینا۔ کچھ حکمرانوں کے وعدے بھی بٹے کھاتے میں درج ہوتے ہیں۔ بٹّا کے اور بھی کئی مطالب ہیں۔ یہ بٹا کبھی شان میں اور کبھی عزت میں بھی لگ جاتا ہے۔ بٹا لگنے کا مطلب ہے عیب لگنا، حرف آنا۔ اس کا مطلب کمی پڑنا، نقصان ہونا بھی ہے۔ بٹا وہ پتھر یا لوہے کا ٹکڑا بھی ہوتا ہے جس سے سل پر مسالا یا کوئی دوا پیستے ہیں۔ اب سل بٹے کا رواج کم ہوتا جارہا ہے تاہم ابھی ناپید نہیں ہوا۔ اردو کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد جب ایک مدرسے میں پڑھتے تھے تو طالب علموں کی ایک ذمے داری یہ بھی تھی کہ لوگوں کے گھروں سے کھانا لایا جائے۔ محلے کی ایک لڑکی ایسی ظالم تھی کہ نذیر احمد کو روٹیاں دینے سے پہلے ڈھیروں مسالا (یا مصالحہ) پسواتی، اور اگر کچھ کوتاہی ہوتی تو اسی بٹے سے اُن کی انگلیوں کا مسالا پیسنے کی کوشش کرتی، یعنی بٹا انگلیوں پر مارتی۔ بعد میں یہی لڑکی ڈپٹی نذیر احمد کی بیگم بنی، اور امکان ہے کہ شادی کے بعد اس نے ڈپٹی صاحب سے مسالا پسوانا چھوڑ دیا ہوگا۔ ڈپٹی نذیر احمد کوئی ڈپٹی کمشنر نہیں بلکہ ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز تھے، ڈپٹی کمشنر تو انگریز ہی ہوسکتا تھا۔
اردو میں کئی الفاظ ایسے ہیں جن کا املا تو ایک ہی ہے لیکن معانی مختلف ہیں مثلاً سَدَھا، سُدھارنا اور سِدھارنا۔ سدھا (پہلے دونوں حروف پر زبر) کا مطلب ہے مانوس کیا گیا، سدھا سدھایا۔ سدھا مذکر ہے اور صفت ہے۔ سُدھارنا (’س‘ پر پیش) ہندی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے سنوارنا، درست کرنا، ٹھیک بنانا، سزا دینا۔ علاوہ ازیں آراستہ بنانا، مثلاً مولوی صاحب نے شاگرد کو خوب سدھارا۔ بطور دھمکی بھی کہا جاتا ہے کہ سدھر جائو ورنہ اچھا نہ ہوگا۔ اور سِدھارنا (’س‘ بالکسر) کا مطلب ہے رخصت ہونا، روانہ ہونا۔ داغؔ کا شعر ہے:۔

وہ سِدھارے اپنے گھر کو مجھ کو رہی یہ کشمکش
ضبط نے کھینچا ادھر دل سوئے دلبر لے چلا
کنا یتہً دنیا سے رخصت ہونے کو بھی کہتے ہیں، جیسے فلاں صاحب کل سدھار گئے۔ کسی کو رخصت کرتے ہوئے بطور دعا کہا جاتا ہے ’’خیر سے سدھارو‘‘۔
انشا کا شعر ہے:۔

کہا اب خیر سے گھر کو سدھارو
کسی کا مفت میں جی نہ مارو
سَدھانا کا مطلب ہے (جانوروں کے لیے) سکھانا، تعلیم دینا، مانوس کرنا۔ عام طور پر گھوڑوں اور کتوں کو سدھایا جاتا ہے۔ ان سے کرتب بھی کروائے جاتے ہیں۔ سِدھارو اور سُدھارو میں ہم اب بھی گڑبڑا جاتے ہیں۔ ہندی کا ایک محاورہ ہے ’’بدھ کام سُدھ‘‘۔ یہ سدھ بھی سدھار سے ہے یعنی کام درست ہونا، ٹھیک ہونا۔ ویسے تو بدھ ایک دن کا نام ہے، لیکن ہندی میں عقل و سمجھ کو بھی کہتے ہیں۔ اور سمجھدار کو بدھی مان کہتے ہیں۔ گوتم بدھ کو اسی لیے بدھ کہتے تھے یعنی عقل مند، بدھی والا۔ بدھو طنزاً کہتے ہیں۔ درج بالا سطور میں کام سدھ کا محاورہ دیا ہے۔ سُدھ کا مطلب یادداشت، خبر، آگہی، ہوش بھی ہے۔ ہندی کا لفظ ہے اور مونث ہے۔ میرتقی میرؔ کا مصرع ہے:۔

سدھ لے گھر کی بھی اے شعلہ آواز
اور داغؔ کا شعر ہے:۔

ادھر کی سدھ بھی ذرا اے پیامبر لینا
خدا کے واسطے جلدی مری خبر لینا
سدھ کے دیگر مطالب میں علم، واقفیت، دھیان، ہوشیاری، چوکسی، توجہ، غور، التفات بھی ہیں۔ سدھ بدھ کھو بھی جاتی ہے اور سدھ بدھ لی بھی جاتی ہے۔ جرأت کا شعر ہے:۔

ہم دونوں کو کچھ اس بن سدھ بدھ نہیں ہے جرأت
دل ہم سے بے خبر ہے، ہم دل سے بے خبر ہیں
لغت میں ایک بڑا دلچسپ لفظ دیکھا ’’کلپ‘‘۔ یہ دلچسپ اس لیے ہے کہ لغت میں اس کا وہ مطلب دیا گیا ہے جسے ہم کلف کہتے ہیں اور یہ کپڑوں ہی پر نہیں جسم پر بھی چڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ اکڑے اکڑے پھرتے ہیں۔ کلف لگے کپڑوں میں پھنسے ہوئے ایسے چلتے ہیں جیسے کوئی لڑاکا مرغ پالی میں اتر رہا ہو۔ اپنے آس پاس دیکھیں، آپ کو نظر آجائیں گے۔ لیکن بہ کلف، کلپ کیسے ہوگیا؟ کلپ ہندی کا لفظ ہے اور لغت میں اس کا مطلب دیا گیا ہے وہ ’’اہار‘‘ (مسالا) جو دھوبی کپڑوں پر لگاتے ہیں۔ کلپ دار صفت ہے۔ حوالہ ڈپٹی نذیر احمدکے ناول ’’بنات النعش‘‘ سے دیا گیا ہے ’’بعض کپڑا کلپ دار یا دبیز ہوتا ہے‘‘۔ کلپ دینا کا مطلب ہے مانڈی چڑھانا، عیب لگانا۔ اب لغت میں اہار اور مانڈی چڑھانا کا مطلب دیکھتے پھریے، سیدھا سیدھا کلف کہنے میں کیا ہرج ہے! کلپ سے کلپانا بنا ہے۔ یہ تو اردو میں مستعمل ہے لیکن اس کا مطلب ستانا، تڑپانا ہے۔ جیسے ’’وہ دن رات مجھے کلپایا کرتا ہے‘‘۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کلف کا مطلب لغت میں چہرے کی جھائیاں، سیاہ داغ جو چاند پر نظر آتے ہیں، سیاہ دھبے جو منہ پر ہوجائیں وہ بھی کلف کہلاتے ہیں۔ لیکن یہ استعمال اب تو پڑھنے سننے میں نہیں آتا۔
 

بافقیہ

محفلین
خبر لیجے زباں بگڑی

خود مختیاری
تحریر: اطہر علی ہاشمی

14 دسمبر کو صبح ہی صبح ایک قاری جناب ابوالقاسم کا فون آگیا۔ جیسا اُن کا نام ہے ویسی ہی آواز بھی زوردار ہے۔ انھیں کبھی دیکھا نہیں، بس سنا ہی سنا ہے اور وہ بھی اُس وقت جب کہیں کوئی غلطی ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے تو دن میں کئی بار فون آنا چاہیے، لیکن وہ طرح دے جاتے ہوں گے۔ ان کی آواز پہچانتے ہی بے ساختہ پوچھا ’’اب کیا غلطی ہوگئی؟‘‘ کہنے لگے ’’آج کے ادارتی صفحے پر ملک الطاف حسین نے اپنے مضمون میں لکھا ہے ’’افغانستان کی آزادی اور خود مختیاری‘‘۔ یہ مختیاری کیا ہوتی ہے؟‘‘ یہ ’’مختیاری‘‘ یا ’’مختیارکار‘‘ وغیرہ اتنا عام ہوگیا ہے کہ پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ مختیار بالکل بے معنیٰ لفظ ہے، باقی بولنے اور لکھنے والوں کا اختیار ہے۔ لوگ میر تقی میرؔ کی بات بھی نہیں مانتے جنھوں نے کہا تھا​
ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی

اب یہ تہمت ’’مختیاری‘‘ کی ہے۔
مختار عربی زبان کا لفظ ہے اور مطلب ہے بااختیار، آزاد، مجاز۔ رشکؔ کا شعر ہے ؎
عقل و حواسِ خمسہ کو بے کار کر دیا
ہم نے جنابِ عشق کو مختار کر دیا

قانون میں ایک ’مختارِعام‘‘ بھی ہوتا ہے یعنی وہ شخص جس کے نام مختارنامہ عام ہو۔ ایک ’مختارِ مطلق‘‘ اور ’مختارِ کُل‘ بھی ہوتا ہے، لیکن یہ مختیاری کیا ہے؟ اس کے بارے میں شاید پہلے بھی لکھا جاچکا ہے۔ لیکن جمہوری دور ہے، ہر ایک کو غلط سلط بولنے کا اختیار ہے۔ چنانچہ ’غَلَط‘ تو ’’غلْط‘‘ ہو ہی گیا ہے۔ غلط کا تلف ’غ۔لت‘ ہے اور یہ بار بار سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہمارے وزرا اور اہلِ دانش ہسپتال یا اسپتال کو ’’ہسپ تال‘‘ کہیں تو ان کی مرضی۔ ہم تو اپنی وزیر اطلاعات کی اطلاعات ہی کو درست سمجھتے ہیں خواہ وہ غلط تلفظ ہی کیوں نہ ہو۔ 13 دسمبر کی پریس کانفرنس میں انھوں نے بڑے دلچسپ الفاظ استعمال کیے۔ کہتی ہیں ’’صحافی رنجیدہ اور گرویدہ ہیں‘‘۔ انھوں نے شاید کہیں کسی سے ’’گرویدہ‘‘ کا لفظ سن لیا ہوگا، اچھا لگا تو استعمال کرڈالا، ورنہ رنجیدہ اور گرویدہ کا کوئی جوڑ نہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ گرویدہ کا مطلب معلوم نہیں، پھر بھی ہم بی بی فردوس کے گرویدہ ہیں۔ گرویدہ (’گ‘ بالکسر) فارسی کا لفظ ہے اور گردیدن سے ہے۔ گردیدہ کا مطلب ہے فریفتہ، مائل، رغبت کرنے والا۔ بقول داغؔ ؎
خوب آتا ہے لگا لینا نگاہِ یار کو
ایک سے ان بن ہوئی تو دوسرا گرویدہ ہے

اس کی مؤنث گرویدگی ہے، کسی کی محبت کو دل میں جگہ دینا۔ گمان ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات کے ذہن میں دل گرفتہ ہوگا جس کا رنجیدہ سے جوڑ ہے، یعنی رنجیدہ اور دل گرفتہ۔ لیکن یہ لفظ شاید مشکل لگا۔ اوسط (او۔سط) تو ’’اوسط‘‘ بروزن دوست، گوشت، پوست ٹی وی چینلز پر عام ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم صحافی بھی رہ چکے ہیں لیکن تلفظ پر بھی اسی طرح قابو نہیں جس طرح تعلیمی مسائل پر۔ ضامن کے ’م‘ کے نیچے زیر ہے (بالکسر)، لیکن چینلز پر یہ ضامن بروزن مامن اور دامن سننے میں آرہا ہے۔ یہ معمولی سی غلطیاں ہیں جن کو آسانی سے درست کیا جاسکتا ہے۔
ایک بڑے خوش فکر شاعر اور ادیب کے منہ سے ایک نیا لفظ سنا ’’چِہلیں‘‘ (’چ‘ بالکسر)۔ ہم آج تک اسے چُہلیں کہتے اور پڑھتے رہے گوکہ کبھی چہلیں کی نہیں۔ اب ایک مستند شاعر سے چِہلیں سن کر ہمیں بھی اشتباہ ہوا کہ شاید ہم غلط ہیں، لیکن اگر یہ چِہلیں ہے تو اس کا تعلق چہل یعنی چالیس سے ہونا چاہیے، جیسے چہل قدمی، چہل احادیث وغیرہ۔ قمر جلالوی کا مصرع ہے
چالیس قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارہ کرتے ہیں

ہر مُردے کا زندہ پرحق ہے، لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس سے مراد چہل قدمی ہے۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد حکما مشورہ دیتے ہیں کہ کم از کم چالیس قدم ٹہل لینا چاہیے، زیادہ ہوجائیں تو کوئی ہرج نہیں۔ مگر یہ چُہلیں کیا ہیں؟ لغت کے مطابق چُہل ہندی کا لفظ ہے اور مطلب ہے ہنسی مذاق، خوش مزاجی (بروزن دُہل)۔ امیرؔ کا شعر ہے ؎
دھوکے دیتے ہیں آنکھوں کو بیابانوں میں
چُہلیں کرتے ہیں چھلاوے ترے دیوانے سے

بطور صفت چہل باز کہتے ہیں یعنی ظریف، خوش مزاج۔
لغت میں چہل (’چ‘ بالکسر) کے حوالے سے ایسے فقیروں کا ذکر کیا گیا ہے جو دہکتے ہوئے انگاروں پر لوٹتے لوٹتے آگ بجھا دیتے ہیں۔ عوام ان کو چھلبدار کہتے ہیں جو چہل ابدال کا بگاڑ ہے۔ چہل ابدال یعنی چالیس ابدال کے بارے میں روایت ہے کہ یہ چالیس بزرگ دنیا میں ہر وقت موجود رہتے اور دنیا کا نظام چلانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اسیرؔ کا شعر ہے ؎
ہر روز لوٹتا ہے یہ داغوں سے آگ پر
دل ہجرِ یار میں چہل ابدال ہو گیا

سوداؔ نے چہل کو بالکسر کیا ہے، کوئی چُہلیں کو چِہلیں بھی کہہ سکتا ہے، کوئی سوداؔ کی اجارہ داری تھوڑی ہے۔ اپنی اپنی نظر ہے۔ سوداؔ ہی کا شعر ہے ؎
رہ نوردوں کی چال کا ہے یہ حال
جوں بجھاتے ہیں آگ چہل ابدال

ایک قسم کا جھاڑ یا فانوس بھی چہل چراغ کہلاتا ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ ہم بھی اس کالم میں چُہلیں زیادہ کرتے ہیں۔
ٹی وی چینلز پر ایک تلفظ بہت عام ہے ’’عدمے برداشت، عدمے تحمل‘‘ وغیرہ۔ یہاں عدم کے ’م‘ کے نیچے وہ زیر نہیں ہے جو اسے ’مے‘ بنادیتا ہے۔ یہ بغیر یائے مختفی عدم بروزن کرم، ستم، جنم ہے۔
’لالچ‘ کسی طرح مذکر نہیں ہو پا رہا۔ کیا لالچ صرف مؤنث کو ہوتا ہے؟ عوام کی طرح لالچ بھی مؤنث ہوگیا ہے۔ بڑوں کی وجہ سے بچوں کا املا اور تلفظ بگڑ رہا ہے۔ جیو کے پروگرام خبرناک میں اب تک ’حِظ‘ (’ح‘ بالکسر) کہا جارہا ہے اور کوئی صحیح کرانے والا نہیں۔ سینئر صحافی اور ادیب ناصر بیگ چغتائی نے پیغام دیا ہے کہ جب وہ نیوز ایڈیٹر تھے تو انھوں نے ’’سِوا، سَوا اور سُوا‘‘ تینوں الفاظ صحیح تلفظ کے ساتھ لکھوا کر دفتر میں چسپاں کروا دیے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان تینوں الفاظ کا زیر، زبر، پیش سے مطلب بدل جاتا ہے۔ اب سُوا تو کم ہی استعمال ہوتا ہے اور لوگ پوچھے جانے پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں، البتہ سِوا اور سَوا عام ہیں، لیکن شاید کچھ لوگ ان میں فرق نہ کرتے ہوں۔
پچھلے کالم میں اوکھلی اور موسلوں کا ذکر کیا تھا۔ خیال آیا کہ یہ محاورہ دلی والی عشرت جہاں ہاشمی کی کتاب ’’اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ‘‘ میں ضرور ہوگا۔ وہاں یہ محاورہ تو ہے لیکن انھوں نے بڑی عجیب وضاحت کی ہے کہ ’’اوکھلی لکڑی کے اس حصّہ (حصّے) کو کہتے تھے جس میں کسی شے کو ڈال کر ’’سِل‘‘ سے کوٹا جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے تک گھروں میں اوکھلی بنی ہوتی تھی اور سِل رکھے رہتے تھے، انھوں نے ’موسلوں‘ کو بھی ’’مسلوں‘‘ لکھا ہے جو سہوِ کاتب ہوگا، لیکن اوکھلی کے ساتھ سل کا کوئی تعلق نہیں۔ سِل تو ایک الگ چیز ہے اور اب بھی بہت سے گھروں میں استعمال ہوتی ہے، گوکہ گرائنڈر نے اس کی جگہ لے لی ہے مگر سِل اپنی جگہ موجود ہے۔ محترمہ کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ اوکھلی میں کوئی شے ڈال کر اسے سل سے کوٹا جاتا تھا۔ انھوں نے موسل کے پہلے دو حروف غائب کردیے اور سل رہ گیا۔ یہ سہو نہیں، کیونکہ دو جگہ سل ہے۔ دہلی والے بھی جانتے ہیں کہ سل اور موسل میں کیا فرق ہے۔
 

عدنان عمر

محفلین
عربی اسم الخط میں ایک پریشانی یہ ہے کہ یہاں زیر، زبر، پیش لفظ کے ہجے کا حصہ نہیں بلکہ اضافی ہیں۔
عربی اور فارسی کی طرح اردو میں بھی الفاظ کو عموماً بغیر حرکات کے لکھا جاتا ہے۔ اب زبان و بیان پر چونکہ ہر شخص کی گرفت ایک جیسی نہیں ہوتی اس لیے بعض افراد نامانوس الفاظ کو پڑھ کر ان کا درست تلفظ سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم لوگ مشکل یا کم مستعمل الفاظ لکھتے ہوئے ان پر اعراب بھی لگا دیا کریں تاکہ احباب ان کا درست تلفظ جان لیں۔
 

بافقیہ

محفلین
خبر لیجے زباں بگڑی
دلی کی عدالت بمقابلہ اردو
تحریر: اطہر علی ہاشمی
اردو زبان ہندوستان میں پیدا ہوئی، وہیں پلی بڑھی۔ دہلی، لکھنؤ اس کے بڑے دبستان سمجھے جاتے تھے۔ لیکن اب یہیں اس کو ’’ستی‘‘ کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں دہلی کی عدالت نے پولیس ایف آئی آر میں اردو کے الفاظ کو مشکل قرار دے کر انہیں نکالنے کا حکم دیا ہے اور پولیس کی سرزنش بھی کی ہے۔ کبھی اردو زبان پورے ہندوستان میں رابطے کی زبان سمجھی جاتی تھی، تاہم ہندوئوں نے اسے صرف مسلمانوں کی زبان قرار دیا۔ چنانچہ اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہورہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ عدالت نے اس لفظ کا متبادل نہیں بتایا اور عدالت کو عدالت ہی کہا ہے۔ یہ لفظ عدل سے ہے اور عربی کا ہے جو اردو میں عام ہے اور پورے ہندوستان میں سمجھا بھی جاتا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں انگریزی کے الفاظ ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) پر تو کوئی اعتراض نہیں کیا، جب کہ یہ الفاظ ایک عام ہندوستانی کے لیے نامانوس ہیں۔ عدالت نے تعزیراتِ ہند کا حوالہ دیا ہے، جب کہ تعزیرات بھی عربی سے اردو میں آیا ہے۔ ’’دہلی پولیس کی سرزنش‘‘۔ اس میں ’پولیس‘ کا لفظ انگریزی اور ’سرزنش‘ فارسی کا ہے جس کا مطلب ایک عام آدمی کو معلوم نہیں۔ حکم نامے میں یہ ہے کہ ایف آئی آر اہم دستاویز ہوتی ہے، اسے سہل زبان میں لکھنے کی ضرورت ہے، چنانچہ اردو، فارسی کے ایسے مشکل الفاظ کا استعمال بند کردے۔ اب اس میں ’’دستاویز، سہل، حکم، ضرورت، زبان، مشکل‘‘ وغیرہ جیسے الفاظ بھی حکم نامے میں درج نہیں ہونے چاہئیں۔ دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس ہری شنکر کو چاہیے کہ ہائی کورٹ، چیف جسٹس، جسٹس جیسے انگریزی الفاظ کو بھی خارج کیا جائے اور ان کا ہندی متبادل لایا جائے۔ ’’شدہ ہندی‘‘ تو انگریزی الفاظ سے بھی پاک ہونی چاہیے۔ دوسری طرف اردو کو دارالحکومت دہلی میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ سنسکرت آمیز ہندی کے بارے میں بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے کہا تھا کہ اب جو زبان بولی جارہی ہے وہ ان کی سمجھ میں بھی نہیں آتی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پنڈت جی کے نام میں ’جواہر‘ اور ’لعل‘ دونوں الفاظ عربی کے ہیں۔ ان کے والد موتی لعل تھے۔ کچھ اخبارات میں جواہر لعل کو جواہر لال لکھا جاتا ہے۔ چلیے لعل کو ’لال‘ کردیا لیکن جواہر کا بھی کچھ کریں۔ عدالت پنڈت جی کا نام بھی بدلے۔
عدالت کے حکم پر دہلی پولیس نے اردو کے 383 الفاظ پر مشتمل فہرست پیش کی کہ ان کا استعمال اب ترک کردیا گیا ہے۔ یہ فہرست طویل ہے لیکن ان الفاظ کا ہندی یا سنسکرت میں متبادل بھی پیش کرنا چاہیے تھا۔ فہرست میں ایک لفظ ’’مسمّی‘‘ بھی ہے جس کا تلفظ خود اردو بولنے والے بھی غلط کرتے ہیں۔ پاکستان کی عدالتوں میں عام طور پر یہ آواز لگتی ہے ’’مسمی فلاں حاضر ہوں‘‘۔ جبکہ اس کا تلفظ ’’مسما‘‘ ہے، مسمیٰ پر کھڑا زبر ہے جیسے عیسیٰ، موسیٰ۔ عدالت کے حکم پر پولیس ٹریننگ کالج اور اسٹاف کا متبادل تلاش کیا جارہا ہے لیکن فی الوقت انگریزی الفاظ سے مکتی حاصل کرنے کا ارادہ نظر نہیں آتا، کیونکہ یہ پورے برعظیم کے سابق آقائوں کی زبان ہے، وہ بُرا مان جائیں گے۔ ایران میں زبان سے انگریزی الفاظ کو نکالنے کی مہم چلی تھی، لیکن زیادہ کامیاب نہیں ہوئی، البتہ کئی الفاظ کو ’’مفرّس‘‘ کرلیا گیا۔
اہلِ ہند علامہ اقبالؒ کو اپنا شاعر قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ ہندوستان ہی میں پیدا ہوئے اور انتقال بھی ہندوستان میں ہوا، اُس وقت تک پاکستان نہیں بنا تھا۔ وہاں علامہ اقبال پر علمی کام بھی بہت ہوا، ممکن ہے ان کی شاعری میں سے اردو کے الفاظ نکالنے کی مہم ابھی نہیں تو شاید جلد ہی شروع ہوجائے۔ علامہ کی اردو شاعری میں تو عربی اور فارسی کے الفاظ کی کثرت ہے۔ علامہ اقبال ہی نے کہا تھا:۔

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا
علامہ کے اس گلستان سے اردو کو نکالا جارہا ہے۔ علامہ کے ذکر پر یاد آیا کہ بھارتی جمہوریہ کے صدر ڈاکٹر راجندر پرشاد نے اقبال سے موسوم ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اقبال بہت اچھے شاعر تھے لیکن افسوس وہ پاکستان چلے گئے‘‘۔ واضح رہے کہ راجندر پرشاد پی ایچ ڈی تھے۔
دہلی عدالت کے حکم نامے کی مخالفت کرتے ہوئے اردو کے فروغ کے لیے سرگرم تنظیم ’’اردو ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن‘‘ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر معید احمد خان نے کہا کہ اردو بھارت میں رابطے کی سب سے بڑی اور اہم زبان ہے۔ صحیح ہے، لیکن اردو کے فروغ کے لیے سرگرم مذکورہ تنظیم کم از کم اپنا نام ہی اردو میں رکھ لیتی۔ مثلاً ’’تنظیم فروغِ اردو‘‘۔ افسوس کی بات ہے کہ اردو کے فروغ کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے اپنے نام کے لیے انگریزی کو ترجیح دی، اور پھر کہا جائے کہ اردو دنیا کی پیاری اور عام فہم زبان ہے تو کیا آپ کو پیاری نہیں! بہت بڑے مزاحیہ شاعر دلاور فگار نے طنز کیا تھا:
’’آئی ایم دی ہیڈ آف دی اردو ڈیپارٹمنٹ‘‘۔ ایک زمانے میں کراچی میں یہ نعرہ لگتا رہا ہے ’’وی وانٹ اردو‘‘۔
دہلی کی عدالت نے تو اردو کے الفاظ نکالنے کا حکم دیا ہے، اب پاکستان کی عدالتوں کو چاہیے کہ وہ ملک کی قومی زبان سے بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف حکم جاری کریں۔ بھارت کی تو چھوڑیے، پاکستان میں اردو کے ساتھ کون سا اچھا سلوک ہورہا ہے! پروفیسر غازی علم الدین سے علم و ادب کی دنیا خوب شناسا ہے۔ وہ اپنی کتاب ’’تخلیقی زاویے‘‘ میں اردو کی زبوں حالی کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب کی آئینہ دار اردو زبان کی زبوں حالی پر میں ایسے موقع پر خامہ فرسائی کررہا ہوں کہ خود پاکستان میں قومی زبان کا وجود خطرے میں ہے اور اس کے دشمن بزعمِ خویش اس کی تجہیز و تکفین کی تیاریوں میں سرگرم ہیں۔ اردو کے حق میں پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کے 8 ستمبر 2015ء کے تاریخ ساز فیصلے کے بعد بدقسمتی سے نام نہاد دانشوروں اور اشرافیہ نے باہم مل کر اردو کے خلاف طبلِ جنگ بجا دیا ہے۔ اب تو ایوانوں میں کھلے عام بے چاری اردو کے خلاف مشورے ہونے لگے ہیں۔ حال آں کہ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 21 مارچ 1948ء کو قوم سے خطاب میں واضح طور پر فرمایا تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہوگی، کوئی دوسری نہیں۔ آئینِ پاکستان بھی اسے قومی زبان کا درجہ دیتا ہے، مگر اس بے چاری کے حالات پاکستان میں کبھی اچھے نہیں رہے‘‘۔
یہ ایک ایسے دردمند اور اردو کے عاشق کی تحریر ہے جو معروف معنوں میں ’’اہلِ زبان‘‘ نہیں۔ ہم ایک بار پھر واضح کردیں کہ ہمارے خیال میں اہلِ زبان وہ ہے جو زبان کا صحیح استعمال کرے، خواہ وہ کوئی سی زبان ہو۔ انگریزی سمیت ہر زبان میں ماہرینِ لسانیات ہوتے ہیں جو زبان کی تہذیب اور درستی کے لیے مسلسل کام کرتے ہیں۔ اردو کے بارے میں کوئی ایسی کوشش کرے تو کہا جاتا ہے کہ ’’بات تو سمجھ آگئی ناں‘‘۔ لیکن بات تو ایک ناخواندہ شخص، ایک کسان اور مزدور کی بھی سمجھ میں آجاتی ہے۔ اس کے بعد جناب غازی علم الدین بھارت میں اردو کی صورت حال کے موضوع پر آتے ہیں لیکن ’’ہم کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ لیں‘‘۔ غازی صاحب نے عظیم اختر کے مضامین اپنی کتاب میں شامل کیے ہیں جو دہلی کی زبان، اس کی تہذیب، تاریخ اور ادب کا چلتا پھرتا دائرۃ المعارف ہیں۔ اردو اور دہلی ان کی دو کمزوریاں ہیں۔ ہندوستان میں اردو کے حوالے سے ان کے کئی مضامین شامل کیے گئے ہیں، مگر ہمیں تو شکوہ اپنے طبقۂ اشرافیہ، ذرائع ابلاغ اور دانشوروں سے ہے کہ جن کے چنگل میں پھنس کر اردو کا حال یہ ہے کہ:۔

قیدِ قفس میں طاقتِ پرواز اب کہاں
رعشہ سا کچھ ضرور ابھی بال و پر میں ہے
لیکن جب تک درد مندانِ اردو موجود ہیں… اور یہ بڑی تعداد میں ہیں… اردو کی طاقتِ پرواز نہ صرف برقرار رہے گی بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوگا۔ اب سندھ کے وزیر جناب ناصر حسین شاہ مبنی (مب۔نی) پر تشدد کرکے اسے مبّنی کہتے رہیں، یا جسارت کے ایک بزرگ کالم نگار اپنے شریر خامہ کے ذریعے ’باقاعدہ‘ کو ’’باقائدہ‘‘ لکھتے رہیں۔
’سوا‘ اور ’علاوہ‘ میں ذرائع ابلاغ فرق کرنے پر تیار نہیں۔ 3دسمبر کو ایک ٹی وی چینل نے خبروں میں ’’فلاں کے علاوہ دیگر 4 افراد کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوگئے‘‘ کہا۔ 4 دسمبر کے ایک اخبار میں بھی یہی سرخی تھی۔ یہاں علاوہ کا مطلب ہے کہ ’’فلاں صاحب‘‘ بھی ان میں شامل ہیں جن کے پروڈکشن آرڈرز جاری ہوئے۔ جب کہ یہاں ’سوا‘ ہونا چاہیے تھا۔ اب بھارت کا کیا ذکر کریں، لیکن بھارتی فلموں میں ہندی کے نام سے اردو کے جو گانے مقبول ہیں، عدالت اُن پر کیا کارروائی کرے گی؟ مثلاً بڑا مشور گانا ہے ’’تعویذ بنا کر پہنوں تجھے، آیت کی طرح مل جائے کہیں‘‘۔ تعویذ اور آیت کا ہندی ترجمہ کریں اور پھر مقبولیت دیکھ لیں۔

- Bhatkallys.com - خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ دلی کی عدالت بمقابلہ اردو۔۔۔ تحریر: اطہر علی ہاشمی - Bhatkallys.com
 

بافقیہ

محفلین
خبر لیجے زباں بگڑی

ٹڈیوں کی کڑھائی
تحریر: اطہر ہاشمی
گزشتہ دنوں کراچی پر بھی ٹڈی دل کا حملہ ہوا تو سندھ کے وزیر زراعت نے مشورہ دیا کہ لوگ ٹڈیاں پکڑ کر ان کی بریانی بنائیں، کڑاہی بنا کر کھائیں۔ اُمید ہے کہ انہوں نے خود بھی اس پر عمل کیا ہوگا۔ لیکن لطیفہ یہ ہوا کہ بیشتر اخبارات نے کڑاہی کو ’’کڑھائی‘‘ لکھا۔ ایک اخبار نے درمیان کی راہ نکالی اور ’’کڑائی‘‘ لکھ دیا۔ ہم نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ جب کڑھائی لکھا ہے تو اس کے ساتھ ’’سلائی‘‘ بھی لکھا جائے، کیونکہ عموماً سلائی، کڑھائی ایک ساتھ آتے ہیں، اور ’کڑاہی‘ کا کوئی تعلق ’’کڑھائی‘‘ سے نہیں ہے۔ کڑاہی بڑی ہو تو ’کڑاہو‘ بن کر مذکر ہوجاتی ہے۔ ایک محاورہ ہے ’’کڑاہی میں سر دیا تو موسلوں کا کیا ڈر‘‘۔ موسلوں کی جگہ ’دھموکوں‘ بھی کہا جاتا ہے۔ بڑی کڑاہی کو کڑاہ اور کڑاہا بھی کہتے ہیں۔ ہندی کا لفظ ہے۔ ’’کڑاہی چڑھنا، یا چولہے پر رکھنا‘‘ کا مطلب ہے پکوان پکانا، ضیافت کا سامان کرنا۔ جیسے اُدھر بادل چھائے اور اِدھر کڑاہی چڑھی۔ خواتین میں ایک خیال یہ ہے کہ جو لڑکا یا لڑکی کڑاہی چاٹے اُس کے بیاہ میں بارش برستی ہے کڑاہی کی جگہ دیگچی چاٹنا بھی کہا جاتا ہے۔ بہرحال ٹڈی دل آنے اور صوبائی وزیر کے چٹخارے دار بیان سے کتنے ہی لوگوں کو علم ہوا کہ ٹڈی حلال ہے، اسے کھایا جاسکتا ہے، گو کہ اس میں گوشت کے بجائے ہڈیاں ہی ہوتی ہیں۔ ٹڈی اور مچھلی دو چیزیں ہیں جن کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک اخبار میں ’’ٹڈی دل کا غول‘‘ بھی پڑھا۔ دل کا مطلب ہی انبوہ، فوج، لشکر ہے۔ ایک شعر ہے:۔

دل فوجِ ستم کا جو اُدھر سے اِدھر آیا
بدلی میں چھپا چاند، اندھیرا نظر آیا
دَل (’د‘ پر زبر) ہندی کا لفظ ہے اور اس کے مطالب جسامت، موٹائی، یامٹائی جیسے شیشے کا دَل، پھوڑے کا دَل، پتّا جیسے تلسی دَل۔ دل بادل بہت سی فوج، درباری خیمہ، بڑا خیمہ۔ نواب اودھ آصف الدولہ کے ہاتھی کا نام دل بادل تھا۔ اس سے ایک لفظ دلدار ہے جس کا کوئی تعلق دِل دار سے نہیں۔ دَلدار کا مطلب ہے موٹا، دبیز۔ جیسے دَلدار پان، دَلدار تختہ۔ ویسے تو دِل دار بھی موٹا ہوسکتا ہے اور شہرمیں۔ ہم نے دِل دار پان ہاؤس بھی دیکھا ہے۔ ایک مزاح گو شاعر کا شعر ہے:۔

دِلدار کو دل دے دیا خود ہوگئے بے دل
ہم آج سے پہلے کبھی بے دل تو نہیں تھے
بیدل کے نام سے کچھ شاعر بھی گزرے ہیں جیسے بیدل جونپوری، بیدل شاہجہاں پوری، ایسے ہی ایک شاعر نے جب اپنا مجموعہ کلام ہمیں دیا تو عرض کیا کہ نام میں دو نکتے کم ہیں۔ انہوں نے خوش دلی سے تسلیم کیا کہ وہ ’’پیدل‘‘ ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ عقل سے پیدل نہیں تھے۔
ہمزہ عربی کا لفظ اور مذکر ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ الف جو کھینچ کر پڑھا جائے۔ شروع میں آکر ہمزہ الف ہوجاتا ہے۔ عربی کے الفاظ میں ہمزہ آخر میں آتا ہے جیسے دعاء، بناء، فضاء، سماء وغیرہ۔ تاہم ماہرینِ لسانیات کا کہنا ہے کہ عربی الفاظ جب اردو میں آئیں تو ان میں ہمزہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ بیشتر علماء نے اس سے گریز کیا ہے۔ اردو لغات میں بھی اسی طرح ہے، مثلاً نوراللغات میں دعا جیسے الفاظ کے آخر میں ہمزہ نہیں لگائی گئی۔ ایک شعر ہے:۔

گرمیوں میں جو پریشاں ہوئے ہم بادہ پرست
مانگی سر کھول کے ساقی نے دعا ساون کی
زیادہ پریشانی اور اضطراب میں ننگے سر دعا مانگتے ہیں۔ لیکن اب تو لگتا ہے کہ ہر شخص پریشانی اور اضطراب میں ہے، مساجد میں بھی نمازی ننگے سر نظر آتے ہیں۔ سما بھی فارسی اور اردو میں بغیر ہمزہ کے مستعمل ہے۔ سید مودودیؒ نے بھی ترجمہ قرآن مجید میں اردو ترجمے میں عربی کے الفاظ کے آخر میں ہمزہ نہیں لگائی۔ اس حوالے سے مزید وضاحت کوئی عربی دان ہی کرے۔
گزشتہ دنوں ایک سیاست دان نے حکمران کو مشورہ دیا کہ اپنے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا نہ لگوائیں۔ کلنک بڑا دلچسپ لفظ ہے۔ ہندی کا ہے اور اس کے دو حصے ہیں، یعنی ’’کل اور انک‘‘۔ کل کا مطلب ہے کالا، اور انک کے معنی ہیں نشان۔ انک کے الف پر زبر ہے، یہ انگریزی والا اِنک نہیں، نشان اس کا بھی پڑ جاتا ہے۔ تو کلنک کا مطلب ہوا کالا نشان۔ اس کا ٹیکا لگانا اپنی بدنامی اور رسوائی کا اشتہار لگانا ہے۔ کلنک سنسکرت سے ہندی اور وہاں سے اردو میں آیا ہے۔ اسی سے کلنک چڑھانا بھی ہے، لیکن یہ اردو میں عام نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے بدنام کرنا، رسوا کرنا۔ اردو میں کلنک نہیں چڑھاتے، چاند چڑھاتے ہیں یا دیگ چڑھاتے ہیں۔ مزاروں پر چادر بھی چڑھائی جاتی ہے، لیکن چادر یا پھول چڑھانا مثبت معنوں میں آتا ہے۔ کلنک سے ہندی میں ایک اسم صفت ’’کلنکی‘‘ ہے یعنی بدنام، رسوا، ذلیل۔ کلنک سے ملتا جلتا لفظ ’’کلنگ‘‘ ہے جو لمبی ٹانگوں والا ایک آبی پرندہ ہے جسے ’’قاز‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ بہت چربی والا پرندہ ہوگا اسی لیے ’’روغنِ قاز مَلنا‘‘ کی اصطلاح مکھن لگانے کے معنوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے حوالے سے ایک مثل بھی ہے ’’اماں ٹینی باپ کلنگ، بچے دیکھو رنگ برنگ‘‘
فارسی میں ظرف زماں میں ’یے‘ نہیں بڑھاتے بلکہ ایک کسرہ بڑھا دیتے ہیں، اسے اضافتِ ظرفی کہتے ہیں جیسے ریگِ بیاباں، جامِ مے، آبِ رواں وغیرہ۔ ذوقؔ کا مصرع ہے ’’کہوں اے ذوقؔ کیا حالِ شب ہجر‘‘۔ یہ کلیہ ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی (دہلی) کو بھی سمجھ لینا چاہیے، جنہوں نے ’’اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ ’’بڑی محنت سے مرتب کیا ہے، لیکن جہاں فارسی کے اشعار استعمال کیے ہیں وہاں کسرہ بڑھانے کے بجائے ’’یے‘‘ کا استعمال کیا ہے جیسے ’’یکسرے‘‘۔ یہاں یکسر میں ’ر‘ کے نیچے زیر لگا کر اضافت کا استعمال کرنا چاہیے تھا۔ غنیمت ہے کہ انہوں نے میر کے مصرع میں کحلِ جواہر کو کحلے جواہر اور خاکِ پا کو خاکے پا نہیں لکھا۔ یہ بدسلوکی صرف فارسی اشعار میں روا رکھی ہے۔ ویسے تو محترمہ نے اردو کے مشہور اشعار کے ساتھ بھی بلا امتیاز برا سلوک کیا ہے۔ مثلاً ایک بڑے معروف شعر کا مصرع ہے ’’ارادے باندھتا ہوں، سوچتا ہوں، توڑ دیتا ہوں‘‘۔ محترمہ نے اس میں تصحیح کرتے ہوئے ارادے کو ’’امیدیں‘‘ میں بدل دیا ہے۔ انہیں ’’آس‘‘ کے بارے میں وضاحت کرنی تھی کہ آس امید کو کہتے ہیں۔ چنانچہ اس کی تائید میں وہ امیدیں لے آئیں کہ امیدیں ہمارے خواب ہیں، خیال ہیں، توقعات ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ اگر شعر کے مطابق وہ ارادے باندھتیں تو آس سے اس کا میل نہ ہوتا۔ آس، امید اور ارادے میں واضح فرق ہے۔ انہوں نے ایک فارسی مصرع درج کیا ہے ’’گرچہ خوردیم نسبتے است بزرگ‘‘۔ یعنی اگرچہ ہم چھوٹے ہیں لیکن ہماری نسبت بڑی ہے۔ اس میں بھی وہی غلطی ہے کہ ’’نسبت‘‘ میں یائے اضافی لگانے کے بجائے نسبتے کردیا۔ مصرع میں خوردیم استعمال کیا ہے جب کہ خورد کا مطلب تو کھانا ہے مثلاً خورد، برد۔ شاعر تو مر کھپ گیا ورنہ اپنے شعر کا یہ حشر دیکھ کر اب مرجاتا۔ ترجمے کے مطابق چھوٹے کی فارسی خرد ہے، خورد نہیں۔ غالباً یہ ’’خردایم‘‘ ہوگا۔ ’خورد‘ بروزن برد ہے۔ یہ فارسی کا لفظ ہے، مطلب ہے طعام۔ خورد برد کرنا یعنی غبن کرنا، کھا جانا۔ خوردنی کا مطلب ہے کھانے کی چیز۔ کھانوں میں استعمال ہونے والا تیل بھی خوردنی تیل کہلاتا ہے۔ اسی طرح خوردنی تمباکو۔ خورد میں ’و‘ کا اعلان نہیں ہوتا اور تلفظ برد کے وزن پر ہے۔ چھوٹے، بڑے کے لیے فارسی ترکیب اردو میں عام ہے یعنی خرد وکلاں۔ موصوفہ نے ایک مشہور شعر کا حلیہ بھی بگاڑ دیا اور بلاتحقیق اس کو اسی طرح درج کردیا جیسا کہ وہ مشہور ہے۔ اس کا مصرع یوں دیا ہے ’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘۔ یہ شعر ایک مغل شہزادے جہاندار شاہ کا ہے اور یوں ہے:۔

آخر گل اپنی صرف درِ ِمیکدہ ہوئی
پہنچے وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر ہو
اس کتاب پر ایس ایم معین قریشی کی نظر نہ پڑے ورنہ کئی غلطیاں برآمد ہوں گی۔

http://www.bhatkallys.com/ur/articles/atharhashimi-126/
 
بافقیہ بھائی ، بہت اچھا کیا آپ نے کہ یہ دلچسپ مضامین اردو محفل پر پوسٹ کئے ۔ اطہر ہاشمی صاحب کے اکثر نکات سے اتفاق ہی کیا جاسکتا ہے ۔ میڈیا کے اس دور میں اردو زبان کی روبہ انحطاط صورتحال سے کون واقف نہیں بلکہ بہت حد تک اس زوال کا ذمہ دار خود میڈیا ہی ہے ۔ نئی نسل جو کچھ انٹریٹ اور ٹی وی پر لکھا دیکھے گی اور سنے گی وہی کچھ سیکھے گی ۔
ایک چھوٹے سے مگر اہم پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا ۔ جب مصنف کا موضوع ہی لسانی اغلاط کی نشاندہی ہو تو پھر اس کی تحریر کو حتی الامکان اغلاط اور ٹائپو وغیرہ سے پاک ہونا چاہئے ۔ ورنہ کچھ ستم ظریفانہ سی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ عباد اللہ نے بھی اپنے مراسلے میں اس طرف اشارہ کیا ہے ۔ ان مضامین میں کئی جگہ پروف ریڈنگ کی غلطیاں ہیں ۔ نیز ہاشمی صاحب کی یہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ ہمزہ کو درست طور پر مذکر کہنے کے بعد انہوں نے اسے دو دفعہ مؤنث لکھا ہے ۔

ہمزہ عربی کا لفظ اور مذکر ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ الف جو کھینچ کر پڑھا جائے۔ شروع میں آکر ہمزہ الف ہوجاتا ہے۔ عربی کے الفاظ میں ہمزہ آخر میں آتا ہے جیسے دعاء، بناء، فضاء، سماء وغیرہ۔ تاہم ماہرینِ لسانیات کا کہنا ہے کہ عربی الفاظ جب اردو میں آئیں تو ان میں ہمزہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ بیشتر علماء نے اس سے گریز کیا ہے۔ اردو لغات میں بھی اسی طرح ہے، مثلاً نوراللغات میں دعا جیسے الفاظ کے آخر میں ہمزہ نہیں لگائی گئی۔ ایک شعر ہے:۔
گرمیوں میں جو پریشاں ہوئے ہم بادہ پرست
مانگی سر کھول کے ساقی نے دعا ساون کی
زیادہ پریشانی اور اضطراب میں ننگے سر دعا مانگتے ہیں۔ لیکن اب تو لگتا ہے کہ ہر شخص پریشانی اور اضطراب میں ہے، مساجد میں بھی نمازی ننگے سر نظر آتے ہیں۔ سما بھی فارسی اور اردو میں بغیر ہمزہ کے مستعمل ہے۔ سید مودودیؒ نے بھی ترجمہ قرآن مجید میں اردو ترجمے میں عربی کے الفاظ کے آخر میں ہمزہ نہیں لگائی۔ اس حوالے سے مزید وضاحت کوئی عربی دان ہی کرے۔

دو تین مقامات پر انہوں نے ضرب الامثال اور کہاوتیں بطور حوالہ لکھی ہیں ۔ اس بارے میں یہ بھی جاننا چاہئے کہ اردو میں اکثر ضرب الامثال اور کہاوتیں ایک سے زیادہ طریق سے مشہور ہیں یعنی ان میں لفظی تغیرات عام ملتے ہیں ۔ ایک ہی کہاوت مختلف علاقوں اور قوموں میں ذرا سے لفظی اختلاف سے مستعمل ہوسکتی ہے ۔ اور یہ تمام صورتیں قابلِ قبول اور "فصیح" ہونی چاہئیں ۔ ہاشمی صاحب نے اوپر مضمون میں یہ کہاوت بطور حوالہ لکھی ہے:
’’اماں ٹینی باپ کلنگ، بچے دیکھو رنگ برنگ‘‘
میں بچپن سے یہ کہاوت سنتا اور پڑھتا آیا ہوں اور اس میں "اماں" کا لفظ کبھی نہیں سنا یا پڑھا۔ ہمیشہ "ماں" کہا جاتا ہے ۔ اور "دیکھو" کے بجائے نکلے کہا جاتا ہے ۔ یعنی اس کی معروف شکل یہ ہے: ماں ٹینی ، باپ کلنگ ، بچے نکلے رنگ برنگ ۔ کسی بھی مروجہ لغت میں یہ کہاوت "اماں" کے ذیل میں درج نہیں ۔ صرف "ماں" کے ذیل میں ملتی ہے ۔
 

بافقیہ

محفلین
بافقیہ بھائی ، بہت اچھا کیا آپ نے کہ یہ دلچسپ مضامین اردو محفل پر پوسٹ کئے ۔ اطہر ہاشمی صاحب کے اکثر نکات سے اتفاق ہی کیا جاسکتا ہے ۔ میڈیا کے اس دور میں اردو زبان کی روبہ انحطاط صورتحال سے کون واقف نہیں بلکہ بہت حد تک اس زوال کا ذمہ دار خود میڈیا ہی ہے ۔ نئی نسل جو کچھ انٹریٹ اور ٹی وی پر لکھا دیکھے گی اور سنے گی وہی کچھ سیکھے گی ۔
ایک چھوٹے سے مگر اہم پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا ۔ جب مصنف کا موضوع ہی لسانی اغلاط کی نشاندہی ہو تو پھر اس کی تحریر کو حتی الامکان اغلاط اور ٹائپو وغیرہ سے پاک ہونا چاہئے ۔ ورنہ کچھ ستم ظریفانہ سی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ عباد اللہ نے بھی اپنے مراسلے میں اس طرف اشارہ کیا ہے ۔ ان مضامین میں کئی جگہ پروف ریڈنگ کی غلطیاں ہیں ۔ نیز ہاشمی صاحب کی یہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آئی کہ ہمزہ کو درست طور پر مذکر کہنے کے بعد انہوں نے اسے دو دفعہ مؤنث لکھا ہے ۔



دو تین مقامات پر انہوں نے ضرب الامثال اور کہاوتیں بطور حوالہ لکھی ہیں ۔ اس بارے میں یہ بھی جاننا چاہئے کہ اردو میں اکثر ضرب الامثال اور کہاوتیں ایک سے زیادہ طریق سے مشہور ہیں یعنی ان میں لفظی تغیرات عام ملتے ہیں ۔ ایک ہی کہاوت مختلف علاقوں اور قوموں میں ذرا سے لفظی اختلاف سے مستعمل ہوسکتی ہے ۔ اور یہ تمام صورتیں قابلِ قبول اور "فصیح" ہونی چاہئیں ۔ ہاشمی صاحب نے اوپر مضمون میں یہ کہاوت بطور حوالہ لکھی ہے:

میں بچپن سے یہ کہاوت سنتا اور پڑھتا آیا ہوں اور اس میں "اماں" کا لفظ کبھی نہیں سنا یا پڑھا۔ ہمیشہ "ماں" کہا جاتا ہے ۔ اور "دیکھو" کے بجائے نکلے کہا جاتا ہے ۔ یعنی اس کی معروف شکل یہ ہے: ماں ٹینی ، باپ کلنگ ، بچے نکلے رنگ برنگ ۔ کسی بھی مروجہ لغت میں یہ کہاوت "اماں" کے ذیل میں درج نہیں ۔ صرف "ماں" کے ذیل میں ملتی ہے ۔
آپ کی باتوں سے کسی قدر اتفاق ہمیں بھی ہے۔
لیکن اطہر ہاشمی صاحب جو کام آج کررہے ہیں واقعی قابل ستائش ہے۔
 
آپ کی باتوں سے کسی قدر اتفاق ہمیں بھی ہے۔
لیکن اطہر ہاشمی صاحب جو کام آج کررہے ہیں واقعی قابل ستائش ہے۔
بالکل درست کہا بافقیہ بھائی ۔ ہاشمی صاحب کی سعی قابل قدر اور حد درجہ ستائش و تحسین کی مستحق ہے ۔ ایسے مضامین کی تو اس وقت بہت ضرورت ہے۔ میں نے تو ان کی کسی بات سے اختلاف نہیں کیا ۔ بلکہ ان کا دفاع ہی کیا ہے کہ کہاوتیں اور ضرب الامثال مختلف جگہوں پر الفاظ کے اختلاف سے رائج ہیں اور ان سے کسی ایک صورت کا لغت میں نہ ملنا اس کے غلط ہونے کی دلیل نہیں ۔
 

جاسمن

مدیر
"لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ
منگل 24 نومبر 2015
خبر لیجیے زباں بگڑی
اطہر علی ہاشمی
اردو کے لیے مولوی عبدالحق مرحوم کی خدمات بے شمار ہیں۔ اسی لیے انہیں ’’باباے اردو‘‘کا خطاب ملا۔ زبان کے حوالے سے اُن کے قول ِ فیصل پر کسی اعتراض کی گنجائش نہیں۔ گنجائش اور رہائش کے بھی دو املا چل رہے ہیں، یعنی گنجایش، رہایش۔ وارث سرہندی کی علمی اردو لغت میں دونوں املا دے کر ابہام پیدا کردیا گیا ہے۔ چنانچہ آج کل یہ دونوں ہی رائج ہیں۔ رشید حسن خان نے ہمزہ کے بجائے ’ی‘ سے لکھا ہے یعنی گنجایش، ستایش وغیرہ۔

بات ہورہی تھی باباے اردو کی۔ ہرچند کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔ لیکن اپنی رائے کا اظہار تو کیا جاسکتا ہے۔ مولوی عبدالحق اپنی کتاب ’قواعدِ اردو‘ میں لکھتے ہیں: ’’بعض عربی الفاظ ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں الف ’ی‘ کی صورت میں لکھا جاتا ہے جیسے عقبیٰ اور دعویٰ‘‘۔ اردو میں ایسے الفاظ ’الف‘ سے لکھنے چاہئیں مثلاً دعوا، اعلا، ادنا۔ انہوں نے عقبیٰ کا حوالہ دے کر اسے الف سے یعنی عقبا نہیں لکھا۔ ہماری رائے یہ ہے کہ عربی کے جو الفاظ اپنے مخصوص املا کے ساتھ اردو میں آگئے ہیں انہیں ایسے ہی لکھنا چاہیے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ جب سے زبانِ اردو وجود میں آئی ہے، عربی کے کئی الفاظ اپنے املا کے ساتھ ہی اردو بلکہ فارسی میں بھی جوں کے توں لے لیے گئے ہیں، جیسے صلوٰۃ، مشکوٰۃ، زکوٰۃ وغیرہ۔ چنانچہ اب املا ’’درست‘‘ کرنے کی مہم چلی تو تمام پرانے علمی، ادبی و مذہبی ذخیروں پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ طالب علم ایک طرف تو اعلا، ادنا، دعوا پڑھے گا، دوسری طرف اسے پرانے لٹریچر (جو زیادہ پرانا بھی نہیں) اور لغات میں مختلف ہجے ملیں گے۔ یہ قرآنی املا ہے اور اسے بحال رکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قرآن پڑھنے والے کے لیے یہ الفاظ نامانوس نہیں ہوں گے۔ عربی الفاظ کا املا بدلنے کا رواج چل پڑا تو بات بہت آگے تک جائے گی۔ کیا عیسیٰ اور موسیٰ کا املا بھی بدل کا عیسا اور موسا کیا جائے گا؟ چھوٹا منہ بڑی بات، ہمیں تو اس سے اتفاق نہیں۔

کامران خان صرف ’الفاظ‘ یا ’جذبات‘ کہہ کر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ شاید زور پیدا کرنے کے لیے ’’الفاظوں‘‘، ’’جذباتوں‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹی وی کے میزبانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اُن کی غلطیاں صرف اُن تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سننے والوں کو بھی خراب کرتی ہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ اب تک کسی نے کامران خان کو ’’الفاظوں‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا! شاید یہ اختیار رکھنے والے خود بھی ’’جذباتوں‘‘ میں بہہ جاتے ہوں
بعض الفاظ کی جمع الجمع تو ہے جیسے دوا، ادویہ اور ادویات۔ لیکن کچھ لوگ زبردستی جمع الجمع بنا رہے ہیں۔ ٹی وی کے میزبان اور ’’روائے عافیت‘‘ کے شہرت یافتہ کامران خان صرف ’الفاظ‘ یا ’جذبات‘ کہہ کر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ شاید زور پیدا کرنے کے لیے ’’الفاظوں‘‘، ’’جذباتوں‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹی وی کے میزبانوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ اُن کی غلطیاں صرف اُن تک محدود نہیں رہتیں بلکہ سننے والوں کو بھی خراب کرتی ہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ اب تک کسی نے کامران خان کو ’’الفاظوں‘‘ کہنے پر نہیں ٹوکا! شاید یہ اختیار رکھنے والے خود بھی ’’جذباتوں‘‘ میں بہہ جاتے ہوں۔

باباے اردو کی ’ے‘ پر ہمزہ لگانا صحیح نہیں ہے۔ لیکن ان کی مذکورہ کتاب جو انجمن ترقی اردو، پاکستان نے شائع کی ہے اُس میں باباجی کی ’ ے‘ پر ہمزہ لگا ہوا ہے یعنی ’بابائے‘۔ مولوی عبدالحق نے ’’اقوام‘‘ کو مذکر لکھا ہے، ’’جب یونانیوں کو دوسرے اقوام سے سابقہ پڑا‘‘۔ ممکن ہے یہ کمپوزنگ کا سہو ہو، کیونکہ اگر قوم مونث ہے تو جمع ہونے پر بھی مذکر نہیں ہونی چاہیے۔ یہ تو صوبہ خیبر پختون خوا کے لوگ فخر سے کہتے ہیں کہ ’’ہمارا قوم‘‘ مونث نہیں مذکر ہے۔

لیے، دیے، کیے، چاہیے، کیجیے، دیجیے کے حوالے سے کہ ان الفاظ پر ہمزہ آنی چاہیے یا ’’یے‘‘ ، سہ ماہی ’بیلاگ‘ کراچی کے تازہ شمارے میں مدیر اعلیٰ (باباے اردو کے مطابق ’اعلا‘) عزیز جبران انصاری نے اچھی بحث کی ہے۔ محترم عزیز جبران انصاری ماہر لسانیات ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر راہی فدائی کا حوالہ دیا ہے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اس پر اتفاق نہیں ہوا کہ لیے، دیے، گئے وغیرہ الفاظ کا املا ہمزہ کے ساتھ مناسب ہے یا بغیر ہمزہ کے۔ اس اعتراض کے جواب میں عزیز جبران انصاری نے ماہر لسانیات ڈاکٹر شوکت سبزواری کی کتاب ’اردو املا‘ کا حوالہ دیا ہے کہ ’’اگر پہلے حرف کے نیچے کسرہ یعنی زیر ہے تو ہمزہ کے بجائے ’’ی‘‘ استعمال ہوگی، جیسے لیے، دیے، کیے، چاہیے، کیجیے، دیجیے وغیرہ…… اور ’ی‘ سے پہلے حرف پر فتح یعنی زبر ہے تو ہمزہ کا استعمال ہوگا جیسے گئے اور نئے وغیرہ۔ یہاں ’گ‘ اور ’ن‘ پر زبر ہے اس لیے ’یے‘ کے بجائے ’’ئے‘‘ یعنی ہمزہ آئے گا۔ کتنا آسان سا فارمولا ہے۔

عزیز جبران لکھتے ہیں کہ اصل میں بات یہ ہے کہ ہمارے اردو کے اکثر اساتذہ جو اسکول یا کالج میں پڑھاتے ہیں، یا ایسے مضمون نگار جنہوں نے پچاس ساٹھ سال پہلے اردو کی تعلیم حاصل کی ہے وہ اپنا املا درست کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ ہمارے قلم کار اپنا املا درست کرنا ہی نہیں چاہتے، اور کہتے ہیں کہ اب اس عمر میں کیا تبدیلی لائیں۔

لیے اور لئے کے حوالے سے ماہنامہ ’چہارسو‘ راولپنڈی کے شمارے (ستمبر اکتوبر 2015ء) میں ’’لسانی مباحث‘‘ کے عنوان سے پروفیسر غازی علم الدین میرپور، آزاد کشمیر نے بھی بحث کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’لیے اور لئے میں لکھتے وقت عام طور پر فرق نہیں کیا جاتا۔ میرے نقطہ نظر کے مطابق مختلف معنوں کے ساتھ یہ دو الگ الگ مستقل لفظ ہیں۔ اردو میں لکھنے والوں میں سے بہت کم نے لیے اور لئے میں فرق سمجھا ہے۔ اس کی شاید یہی وجہ ہے کہ گیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہے‘‘ (پذیر ’ذ‘ سے نہیں ’ز‘ سے ہے)

لیے (یا، کے نقطوں کے ساتھ لیکن ہمزہ کے بغیر) لینا مصدر سے فعلِ ماضی کا صیغہ جمع ہے جس کا واحد ’’لیا‘‘ ہے۔ کرنا مصدر سے کیا، کیے، پینا سے پیا، سینا سے سیا اور جینا سے جیا/جیے۔ مثال ملاحظہ کیجیے ’’احمد نے دس روپے لیے‘‘ اس مثال میں ’لیے‘ بمعنی حاصل کیے۔

امید ہے کہ اب لیے اور لئے میں فرق واضح ہو گیا ہو گا۔ موصوف نے لکھا ہے کہ لوگ کہتے ہیں اب اس عمر میں کیا تبدیلی لائیں۔ چلیے ان کی مجبوری ہے لیکن ہمارے نوجوان ساتھی یہ تبدیلی لانے پر آمادہ نہیں، اور بعض تو یہ کہتے ہیں کہ یہ نئی زبان ایجاد کی جارہی ہے۔ ہمارے ’لئے‘ تو وہی بہتر ہے۔

’’لیے‘‘ اور ’’لئے‘‘ کا آسان نسخہ - وجود
 

بافقیہ

محفلین
خبر لیجے زباں بگڑی

پَل، پِل اور پُل
تحریر: اطہر ہاشمی
گزشتہ دنوں کئی اخبارات میں ’’دل کا وال‘‘ شائع ہوا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ لوگ دلوں میں وال یعنی دیوار اٹھا لیتے ہیں، لیکن دل میں بجائے خود کوئی وال یعنی دیوار نہیں ہوتی۔ اصل میں یہ لفظ والو ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارے صحافی بھائی اس لفظ سے ناآشنا ہیں، اور اگر بتائیں تو اسے ’’والو‘‘ بروزن آلو اور خالو پڑھتے اور حیران ہوتے ہیں۔ اس والو کا ذکر پانی کی پائپ لائن کے حوالے سے بھی آتا ہے جہاں کوئی والو مین بھی ہوتا ہے۔ اسے بھی ہمارے بھائی وال مین ہی لکھتے ہیں۔ انگریزی کے الفاظ بگاڑے جائیں تو خوشی ہوتی ہے کہ صرف اردو ہی مظلوم نہیں۔ بہت پہلے والو کا ترجمہ ’’کھُل مندن‘‘ لکھا تھا، یعنی وہ آلہ جو کھلتا اور بند ہوتا ہو۔ دل کے والو کی صورت یہی ہے کہ یہ خون کی آمدورفت کو کنٹرول کرتا ہے، دیوار یا وال نہیں اٹھاتا۔ ’’مندن‘‘ کا استعمال تو اردو میں عام نہیں، لیکن مندنا یعنی بند ہونا عام ہے۔ دروازے کا بند ہونا، بھیڑا جانا، چھپنا۔ ایک شعر ہے:۔
مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہے ہے
خوب وقت آئے تم اس عاشقِ بیمار کے پاس
مندی مندنا کی صفت ہے اور عام طور پر آنکھ کے ساتھ مستعمل ہے۔
ایک ٹی وی چینل پر مزاحیہ پروگرام آتا ہے۔ اس کی جھلکیاں پیش کرنے والے صاحب بھی اپنے جملوں میں مزاح شامل کردیتے ہیں۔ مثلاً حِظ اٹھانا (’ح‘ بالکسر) اور چَٹکلے ( ’چ‘ پر زبر)۔ شاید اُن کے خیال میں اس طرح پروگرام کا لطف سہ بالا ہوجاتا ہے۔ حَظ اٹھایا جائے یا نہیں، ’ح‘ پر زبر ہے بروزن خَط۔ خدا نہ کرے کوئی خط کو بھی خِط کہتا ہو اور سمجھتا ہو کہ خِطہ میں بھی تو ’خ‘ بالکسر ہے۔ اسی طرح چٹکلے کی ’چ‘ پر پیش لگانے سے اس کے لطف میں کمی نہیں آئے گی۔ اب یہ تو سب کو معلوم ہے کہ چٹکلا کیا ہوتا ہے۔ البتہ اسے ’’چَٹ کلا‘‘ کہنا خود ایک چٹکلا ہے۔ حیرت تو اس پر ہوتی ہے کہ تلفظ کی ایسی غلطیوں کا اعادہ کیا جاتا ہے، ورنہ اگلی بار تصحیح ہوجانی چاہیے۔
ایک مذہبی سیاسی جماعت کے ترجمان نے پریس ریلیز میں بڑے مزے کی اصطلاح استعمال کی ہے ’’جوک در جوک‘‘۔ یقین ہے کہ انہوں نے جوک (JOKE) نہیں کہا ہوگا۔ لگتا ہے کہ وہ جوق در جوق کا جیسا تلفظ کرتے ہیں ویسا ہی لکھ ڈالا۔ ویسے بھی ’جوق‘ ترکی کا لفظ ہے اور مطلب ہے گروہ۔ آدمیوں، پرندوں کے گروہ۔ جوق در جوق کے علاوہ جوق جوق بھی کہا جاتا ہے، لیکن اردو میں ’’در‘‘ کے ساتھ ہی استعمال ہوتا ہے۔ لغت کے مطابق یہ مذکر بھی ہے اور مونث بھی۔
’’جس اور جن‘‘ کے استعمال میں بے احتیاطی نظر آتی ہے، خاص طور پر اخبارات میں۔ یہ وہ ’جن‘ نہیں جس کے بارے میں اعلان ہورہا تھا کہ ’’جن کا بچہ ہے، آکر لے جائے‘‘۔ اور لوگ سمجھے کہ یہ آتشی مخلوق کا بچہ ہے۔ بات یہ ہے کہ کسی خبر یا جملے میں ’’جس‘‘ کا استعمال واحد کے لیے اور ’’جن‘‘ کا استعمال جمع کے لیے ہوتا ہے، مگر گڑبڑ ہوجاتی ہے۔ مثلاً ’’یہ وہ لوگ ہیں جس کے بارے میں ذکر ہورہا تھا‘‘۔ یہاں ’جن‘ آنا چاہیے، لیکن وہ والا نہیں جو کہتے ہیں کہ کسی کے سر پر آجاتا ہے۔ مثلاً یہ شعر:۔

جب سے سایہ ان کو جن کا ہو گیا
بی پری خانم کو سودا ہو گیا
مزے کی بات یہ ہے کہ جنت کا مادہ بھی جن ہے۔ عربی میں اس کے معانی پوشیدہ کے ہیں۔ جنت بھی انسان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ اسی طرح ’’جنین‘‘ وہ لڑکا جو ابھی ماں کے پیٹ میں چھپا ہو۔ جنون کا مادہ بھی جن ہے جس کا مطلب ہے دیوانگی، جس سے عقلِ انسانی پر پردہ حائل ہوجاتا ہے۔ ماہرینِ لغات کہتے ہیں ’ج‘ اور ’ن‘ جہاں بھی ایک ساتھ آئے، پوشیدگی کے معنی دیتا ہے۔ اردو میں تعظیم یا جمع کے لیے جس کی جگہ جن مستعمل ہے۔ مثلاً:۔

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
ہندی میں جَن (’ج‘ پر زبر) شخص، متنفس، آدمی، بشر کو کہتے ہیں۔ جَن سے جنا بنالیا گیا ہے۔ مثلاً ’’ایک جنا آئے‘‘۔ جنی اس کی تانیث ہے۔ انسان کا جنا، نٹ کا جنا، شیطان کا جنا۔ اور مونث کے لیے ’جنی‘ کا استعمال ہوتا ہے۔
ایک خاتون وزیر ہدیہ تبرک (تب۔ رک) پیش کررہی تھیں۔ اگر وہ تبرّک ہی کہہ دیتیں تو لفظ تو صحیح ہوتا۔ تبریک (تب۔ ریک) کہنا انہیں نہ آیا۔ ایسے میں مشکل الفاظ استعمال کرنا کیا ضروری ہے؟ بھرم تو رہ جاتا۔ لیکن بیشتر وزرا کا تلفظ غلط ہوتا ہے۔ ایک ٹی وی چینل کے نیوز کاسٹر بُحران کو بحران بروزن حیران کہہ کر حیران کررہے تھے۔ یار، خبر پڑھنے سے پہلے کسی سے پوچھ ہی لیا ہوتا۔ بحران میں ’ب‘ پر پیش ہے۔ ویسے تو ہر طرف اس کا چرچا ہے لیکن اس کی اصل یونانی ہے۔ طب کی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے ’’بیماری کے زور کا دن‘‘۔ یہاں تو جو بیماریاں درپیش ہیں ہر دن ان کا زور رہتا ہے اور اگلے دن مزید زور بلکہ منہ زور۔
ایک ٹی وی چینل پر ’’خطرہ‘‘ کے عنوان سے ایک دلچسپ پروگرام آتا ہے جس میں مختلف خطرات کی نشاندہی کے ساتھ رواں تبصرہ بھی کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی پروگرام میں ایک خچر انسان پر حملہ کردیتا ہے۔ تبصرہ کرنے والے صاحب بتا رہے تھے ’’دیکھیے خچر ایک شخص پر پَل پڑا ہے‘‘۔ انہوں نے پل کی ’پ‘ پر زبر لگا کر اردو زبان کو ایک نئے خطرے کی نشاندہی کردی۔ ’پ‘ اور ’ل‘ کے ساتھ یہ لفظ تینوں حالتوں میں دستیاب ہے یعنی زبر، زیر اور پیش کے ساتھ (پَل، پِل، پُل) لیکن معانی الگ الگ ہیں۔ خچر ہو یا کوئی انسان، کسی پر حملہ آور ہو تو وہ پِل پڑتا ہے (’پ‘ کے نیچے زیر)۔ اور پَل (’پ‘ بالفتح) پلک کا مخفف ہے اور مونث ہے۔ مطلب ہے دم، لحظہ، منٹ کا ساٹھواں حصہ۔ پل بھر میں یعنی آناً فاناً، لمحہ بھر میں۔ محاورہ ہے ’’پَل کا بھروسا نہیں‘‘۔ مشہور مصرع ہے ’’سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں‘‘۔ ایک حاکم پر پُل سے گزرتے ہوئے حملہ ہوا تو انور مقصود نے کہا تھا ’’سامان سو برس کا ہے پُل کی خبر نہیں‘‘۔ یہاں پَل کو پُل سے بدل کر لطف پیدا کیا گیا۔ پَل کٹنا یعنی وقت گزرنا۔ داغؔ کا شعر ہے:۔

کوئی پل ایسا نہیں کٹتا کہ جس میں چین ہو
دل لگاتے ہی یہ ہم پر کیا قیامت آ گئی
اور پُل کا مطلب سب کو معلوم ہے، وضاحت کیا کرنی۔ فارسی کا لفظ ہے تاہم اردو میں افراد یاکثرت کے مبالغے کی جگہ بولتے ہیں۔ پل باندھا بھی جاتا ہے اور یہ تعریفوں کا پُل بھی ہوسکتا ہے۔ مثلاً داغؔ ہی کا شعر ہے:۔

میرے پیغامبر سے اس نے کہا
جھوٹ کا خوب تُو نے پل باندھا
پلِ صراط سے سبھی مسلمان واقف ہیں۔ استاد قلقؔ کا شعر ہے:۔

قلقؔ دعا ہے یہ اللہ سے قدم نہ ڈگیں
پلِ صراط پہ محشر میں جب کہ راہ چلے
اب ’’ڈگیں‘‘ کا مطلب ڈھونڈتے پھریے۔ ڈگ بھرنا تو مستعمل ہے لیکن یہ ’’قدم نہ ڈگیں‘‘ کیا ہے؟ لغت میں ڈگ تو ہے جس کا مطلب ہے قدم، دو قدم کے بیچ کا فاصلہ جو چلنے میں ہوتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے ’’لمبے لمبے ڈگ بھرنا‘‘۔ اب اگر یہ ڈگمگانا سے ہے یعنی ضعف و ناتوانی سے کھڑے رہنے اور قدم جمانے کی طاقت نہ رہنا، یا پھر یہ ڈگنا یعنی گرنا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں۔ قلقؔ ہی وضاحت کرسکتے تھے مگر اب قلق رہے گا۔

بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل

خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ پَل، پِل اور پُل۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی - Bhatkallys.com
 

بافقیہ

محفلین
خبر لیجے زباں بگڑی

سیاق و سباق سے ہٹ کر
تحریر: اطہر ہاشمی

’’سیاق و سباق سے ہٹ کر‘‘۔ یہ جملہ ہمارے جملہ سیاست دانوں اور مقتدر شخصیات کا پسندیدہ بیانیہ ہے۔ ویسے ’بیانیہ‘ کا لفظ بھی اردو میں نیا نیا ہے لیکن خوب رچ بس گیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ جو سیاست دان بیان دینے کے بعد ’’سیاق و سباق سے ہٹ کر‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں اُن میں سے اکثر کو اس کا مطلب معلوم نہیں ہوگا کہ ’سیاق‘ کیا ہے اور ’سباق‘ کا مطلب کیا ہے۔ چاہیں تو پوچھ دیکھیں۔ اور سچی بات یہ ہے کہ ہمیں بھی کب معلوم تھا۔ ہر کس و ناکس کے منہ سے سن سن کر ہمیں بھی جستجو ہوئی۔​
سیاق اور سباق (پہلا حرف بالکسر) عربی کے الفاظ ہیں اور معانی بڑے دلچسپ ہیں۔ ’سیاق‘ کا مطلب ہے رواں کرنا، چلانا، وہ ڈوری جو باز کے پائوں میں باندھتے ہیں۔ ہمارے شکروں اور بازوں کے پیروں میں بھی ڈوریاں بندھی ہوئی ہیں۔ ’سیاق‘ کا ایک مطلب ہے علم حساب میں زبان و قلم دونوں کو زیادہ مرتبہ اور سرعت کے ساتھ حرکت ہوتی ہے۔ حساب کی یادداشت باز کی ڈوری کی طرح حساب کو بھولنے سے روک دیتی ہے، چنانچہ حساب لکھنے کے قواعد کو سیاق کہنے لگے۔ ایک مصرع ہے ’’سب سے الگ سیاق ہے اپنے حساب کا‘‘۔
لغت کی یہ وضاحت خاصی مشکل ہے۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو مطلب ہے مضمون کا ربط، طرز، ڈھنگ، قرینہ۔ جیسے ’’سیاق عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ کو دوسری طرف رجحان ہے‘‘۔ کچھ ایسا ہی مطلب ’سباق‘ کا ہے جو سیاق کا مترادف ہے، یعنی دوڑنے میں سبقت لے جانا، علم حساب کی مہارت۔ علاوہ ازیں اس کا مطلب ہے رسّی یا وہ چیز جو رسّی سے پیوستہ ہو، وسیلہ، وہ چیز جس سے دوسری چیز کا وجود حاصل ہو۔ آسان اردو میں کہہ سکتے ہیں باعث، وجہ۔ سباق کے مطابق دوڑنے میں سبقت لے جانا، چنانچہ جب کوئی سبقت لے جانے کے لیے زبان کے گھوڑے کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے تو ٹھوکر کھاتا ہے اور بات نشر ہوتی ہے تو کہہ دیتا ہے کہ اس کے فرمان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ اب خواہ ٹی وی چینلز اس کے اپنے الفاظ نشر کرتے رہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے حکمران، وزرا اور سیاست دان لکھ کر خطاب فرمایا کریں، ورنہ ترجمانوں کو مجبوراً کہنا پڑتا ہے کہ زبان پھسل گئی یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی۔
ہمارے ایک وفاقی وزیر عموماً شکوہ کرتے ہیں کہ ان کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ گزشتہ اتوار کے اخبار میں ان کا شاہکار جملہ ہے کہ ’’حلوہ مارچ کی بدبو سے تعفن پھیل چکا ہے‘‘۔ ان سے کوئی پوچھے کہ بدبو اور تعفن میں کیا فرق ہے؟ یقین ہے کہ انہوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے تعفن کا ٹوٹا جوڑ دیا ہے۔ مطلب انہیں معلوم نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں ’’حلوہ مارچ کی بدبو‘‘۔ ظاہر ہے کہ یہ موصوف نے طنزیہ کہا ہے، ورنہ حلوے میں بدبو نہیں خوشبو ہوتی ہے۔ بدبو دار حلوہ شاید ان کے علاقے میں بنتا ہو۔ لیکن ایک وزیر تو کہہ رہے تھے کہ مارچ کے شرکاء کو حلوہ بھی پیش کریں گے۔
لغت میں سیاق کا مطلب دیکھتے ہوئے اگلے لفظ پر نظر پڑی۔ یہ لفظ ہے ’’سیان‘‘۔ ہندی کا لفظ ہے اور مطلب ہے دانائی، ہوشیاری، چالاکی۔ اردو میں سیان اکیلا استعمال نہیں ہوتا، تاہم اس سے بننے والی ترکیب ’’سیان پت‘‘ ضرور استعمال ہوتی ہے، خاص طور پر پنجابی میں۔ اسی سے سیان پن ہے، اور سیانا تو بہت عام ہے۔ ایک محاورہ ہے ’’سیانا کوّا ہمیشہ گندگی کھاتا ہے‘‘۔ کہتے ہیں کہ کوا بڑا سیانا ہوتا ہے، چنانچہ وہ کھانے والی چیز کی بڑی چھان پھٹک کرتا ہے اور ذرا سے شک پر چھوڑ دیتا ہے۔ نتیجتاً گندگی کھاتا ہے۔ ’سیانا‘ کی مونث ’سیانی‘ ہے یعنی ہوشیار، چالاک، عیار عورت۔ بھوت پریت اتارنے والے، تعویذ گنڈے کرنے والے کو بھی سیانا کہتے ہیں۔ خواہ وہ نرا دھوکے باز ہو مگر اپنے سیان پن سے لوگوں کو بے وقوف بنا کر رقم تو اینٹھ ہی لیتا ہے۔ اس کی کامیابی میں بے وقوفوں اور کمزور عقیدہ رکھنے والوں کا زیادہ دخل ہے۔ کہتے ہیں کہ بے وقوفوں ہی کی وجہ سے ہوشیاروں کا دھندا چل رہا ہے۔ ویسے بے وقوف بھی خوب لفظ ہے۔ وقوف عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے آگہی، ٹھیرنے کی جگہ، جیسے وقوفِ عرفات۔ مادہ اس کا ’’قف‘‘ ہے۔ اردو میں ’’موقف‘‘ نقطہ نظر کو کہتے ہیں جیسے فلاں صاحب کا اس معاملے میں یہ موقف ہے۔ (کسرسوم)۔ عربی میں اس کا مطلب ہے کھڑے ہونے کی جگہ، مقام۔ عرب میں ٹیکسی اسٹینڈ یا بس اسٹینڈ کو بھی موقف کہتے ہیں۔ جیسے جدہ میں موقف مکہ ہے جہاں سے مکہ کے لیے ٹیکسیاں چلتی ہیں۔ بعض بھولے بھالے پاکستانی ائرپورٹ سے ٹیکسی لیتے ہیں اور ٹیکسی ڈرائیور موقف مکہ تک پہنچانے کی بات کرتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھا مکہ لے جائے گا۔ ایسے کئی واقعات جدہ میں رہ کر نظر سے گزرے کہ ٹیکسی ڈرائیور اور پاکستانی میں جھگڑا ہورہا ہے۔ ہمارے سرکاری ادارے پیسے تو لے لیتے ہیں لیکن یہ معمولی باتیں سمجھانے کا وقت نہیں ہے۔
یہ بات تو برسبیل تذکرہ آگئی۔ وقف ہی سے ایک لفظ موقوف ہے یعنی ٹھیرایا گیا۔ مجازاً اس کا مطلب ہے برخاست کیا گیا، ترک کیا گیا۔ وقف کا ایک مطلب ہے خدا کے نام پر چھوڑ دیا گیا۔ چنانچہ وقف کے نام پر جائدادیں ہیں، اب تک کوئی شعر نہیں آیا چنانچہ موقوف پر شعر سن لیجیے، مصحفیؔ کا ہے:۔

وصل منظور نہیں پاس بلاتے کیا ہو
کہیں موقوف بھی یہ پیار کرو تم اپنا
موقوف رکھنا، کسی پر منحصر کرنا، ملتوی کرنا۔ اور موقوف علیہ کہتے ہیں اُس شخص کو جس پر کسی کام کا فیصلہ منحصر کیا گیا ہو یعنی ثالث، پنچ، منصف وغیرہ۔
چلیے، یہ سلسلہ موقوف کرتے ہیں۔ ہمارے کچھ نامور سیاست دان جو بظاہر پڑھے لکھے بھی لگتے ہیں، سینیٹ تک پہنچے ہوئے ہیں، ٹی وی چینلز پر بڑے دھڑلے سے اوسط کو اوسط بروزن دوست، گوشت، پوست بولتے ہیں۔ یہ تو سوچ لیا کریں کہ ہمارا نوجوان طبقہ پہلے ہی اردو کو گھر کی لونڈی سمجھتا ہے، وہ ٹی وی پر سن کر اپنی زبان مزید خراب کرے گا۔ ارے بھائی اوسط (او۔سط) میں پہلے اور تیسرے حرف پر زبر ہے اور وزن اس کا ’’اظہر، مظہر، گوہر سبقت وغیرہ ہے۔ یاد رہے کہ وزن اور قافیے میں فرق ہے۔
27 اکتوبر تا 2 نومبر کے جسارت کے سنڈے میگزین میں ایک دلچسپ مضمون نظر سے گزرا۔ یہ واضح نہیں کہ مضمون ظہیر خان کا ہے، جن کی تصویر لگائی گئی ہے یا نگہت ظہیر کا ہے۔ بہرحال کسی کا بھی ہو، مصنف نے مرزا غالب کے شعر میں بھی اصلاح کردی ہے، وہ زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے۔ ان کے ایک مصرع کے دو ٹکڑے کرکے اسے شعر بنادیا۔ یہ شاید کمپوزنگ کا مسئلہ ہو کہ مصرع لمبا ہو تو بے قابو ہوجاتا ہے۔ مضمون میں غالب کا یہ مصرع شعر کی شکل میں چھپا ہے ’’وہ اپنی خونہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں بدلیں‘‘۔
مرزا غالب نے دونوں جگہ ’’چھوڑیں‘‘ استعمال کیا ہے، یعنی ’’وہ اپنی خونہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں‘‘۔ یہ صحیح ہے کہ چھوڑیں کی تکرار اچھی نہیں لگتی لیکن کیا مرزا اس کی جگہ ’’بدلیں‘‘ نہیں لکھ سکتے تھے جو سامنے کا لفظ ہے اور مضمون نگار نے استعمال کر ڈالا ہے۔ بہرحال مرزا غالب کی اصلاح پر مبارک باد۔ مرزا غالب نے تو اور بھی کئی غلطیاں کی ہیں۔ امید ہے ان کی بھی اصلاح کی جائے گی۔
ہم نے کئی بار عرض کیا ہے کہ بچوں سے متعلق کہانیوں، مضامین میں زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے ورنہ ان میں غلطیاں پختہ ہوجائیں گی۔ 3 تا 9 نومبر کے سنڈے میگزین میں ’’لالچ بھی ایک عطا ہے‘‘ کے عنوان سے ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس میں مصنفہ نے لالچ کو مونث لکھا ہے یعنی ’’ایسی لالچ‘‘۔ ارے بی بی! لالچ مونث نہیں مذکر ہے۔ اس کے جواب میں ’’لالچ بری بلا ہے‘‘ کی مثل پیش کردی جاتی ہے، لیکن اس میں بلا کو مونث کہا گیا ہے، لالچ کو نہیں۔ بی بی رضوانہ وسیم کو ایک مشورہ کہ تہجد کی نماز کے لیے تھوڑی سی نیند لینا ضروری ہے۔ جب کہ ان کے مضمون یا کہانی میں ہے کہ ’’نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی چنانچہ تہجد کی نماز کے لیے نیت باندھ لی‘‘۔ بچوں کے صفحے کا کوئی نگران ہے تو اسے توجہ دینی چاہیے۔ چلتے چلتے ایک دلچسپ جملہ ’’اسلام آباد میں کنٹینرز تعینات کردیے گئے‘‘۔
فرائیڈے اسپیشل ۔ کراچی

- خبر لیجے زباں بگڑی۔۔۔ سیاق و سباق سے ہٹ کر۔۔۔ تحریر: اطہر ہاشمی - Bhatkallys.com
 
ایک ٹی وی چینل پر مزاحیہ پروگرام آتا ہے۔ اس کی جھلکیاں پیش کرنے والے صاحب بھی اپنے جملوں میں مزاح شامل کردیتے ہیں۔ مثلاً حِظ اٹھانا (’ح‘ بالکسر) اور چَٹکلے ( ’چ‘ پر زبر)۔ شاید اُن کے خیال میں اس طرح پروگرام کا لطف سہ بالا ہوجاتا ہے۔ حَظ اٹھایا جائے یا نہیں، ’ح‘ پر زبر ہے بروزن خَط۔ خدا نہ کرے کوئی خط کو بھی خِط کہتا ہو اور سمجھتا ہو کہ خِطہ میں بھی تو ’خ‘ بالکسر ہے۔ اسی طرح چٹکلے کی ’چ‘ پر پیش لگانے سے اس کے لطف میں کمی نہیں آئے گی۔ اب یہ تو سب کو معلوم ہے کہ چٹکلا کیا ہوتا ہے۔ البتہ اسے ’’چَٹ کلا‘‘ کہنا خود ایک چٹکلا ہے۔ حیرت تو اس پر ہوتی ہے کہ تلفظ کی ایسی غلطیوں کا اعادہ کیا جاتا ہے، ورنہ اگلی بار تصحیح ہوجانی چاہیے۔
جیو نیوز کے چٹکلے والا مضمون تو بہت ہی پسند ایا ۔
 

بافقیہ

محفلین
وفي تفسير القرطبي: والتهجد التيقظ بعد رقدة، فصار اسمًا للصلاة؛ لأنه ينتبه لها، فالتهجد القيام إلى الصلاة من النوم، قال: معناه الأسود، وعلقمة، وعبد الرحمن بن الأسود، وغيرهم، وروى إسماعيل بن إسحاق القاضي من حديث الحجاج بن عمر صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: أيحسب أحدكم إذا قام من الليل كله أنه قد تهجد! إنما التهجد الصلاة بعد رقدة ثم الصلاة بعد رقدة ثم الصلاة بعد رقدة. كذلك كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم. انتهى

وقال أيضًا : وقالت عائشة، وابن عباس أيضًا، ومجاهد: إنما الناشئة القيام بالليل بعد النوم. ومن قام أول الليل قبل النوم فما قام ناشئة. انتهى

آپ نے فرمادیا تو یقینا بات صحیح ہی ہوگی۔ اصل میں تھجد کہتے ہی ہیں رات میں سوکر اٹھنے کو یا اٹھ کر نماز پڑھنے کو۔
 
املا کے اس مسئلے کو املا کمیٹی اپنے " املا نامہ" میں کب کا حل کرچکی ہے ۔ اب ضرورت صرف ان سفارشات پر عمل کرنے اور درست املا کی ترویج کی ہے ۔ مجھ سمیت اکثر لوگ اب بھی بہت سارے الفاظ پرانی طرز پر لکھتے ہیں ۔ ساری عمر کی عادت جاتے جاتے ہی جائے گی ۔ کوشش بہرحال کرتے رہنا چاہئے ۔
 
Top