ادب

  1. کاشفی

    موازنہ دو شاعروں کا اور دو ڈکٹیٹروں کا

    موازنہ دو شاعروں کا اور دو ڈکٹیٹروں کا اگر دو شاعروں کا موازنۂ انیس و دبیر اور موازنۂ سودا و میر ہو سکتا ہے تو دو ڈکٹیٹروں کا ایسا موازنہ کیوں نہیں ہو سکتا۔ تواشعر رحمن صاحب نے ایسا کر کے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اور ان دو ڈکٹیٹروں یعنی فیلڈ مارشل ایوب خاں اور جرنیل ضیاء الحق کا موازنہ کیوں نہیں...
  2. محمد علم اللہ

    سچی خوشی

    عرصہ گذرا اسی طرح کی ایک کہانی ہندی میں کہیں پڑھی تھی ،کہاں وہ اب یاد نہیں رہا ۔کہانی جب پڑھی تھی تو ہمارے چچا محترم مولانا ابراہیم ندوری نے اسے اپنے لفظوں میں لکھنے کے لئے کہا تھا ۔اس وقت میں چھٹی یا ساتویں کا طالب علم تھا ۔آج اپنی پرانی ڈائری میں مجھے یہ کہانی نظر آئی۔ دیکھا تو ایک عجیب خوشی...
  3. محمد علم اللہ

    رمضان میاں: ایک چھوٹی سی کہانی امید کہ اپنے مشوروں اور تبصروں سے نوازیں گے۔

    کہانی رمضان میاں محمد علم اللہ اصلاحی جیسے جیسے عید کا دن قریب آ رہا تھا رمضان میاں کی الجھن بڑھتی جا رہی تھی۔ سال کے بارہ مہینوں میں ایک رمضان ہی کے مہینےمیں تو اسےکچھ سکون میسر آتا تھا ۔اب وہ بھی ختم ہونے کو تھا ۔کچھ سال پہلے تک حالات اتنے دگرگوں نہ تھے ۔وہ محنت مزدوری کرکے دن میں ستر اسی...
  4. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    میری کتب اور مضامین

    علامہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی کی نعتیہ شاعری مقالہ براے پی ایچ ڈی محقق: ناچیز مشاہدرضوی
  5. محمداحمد

    یار خالد احمد، کیا یہ واقعی تم ہو؟ ---- عطاءالحق قاسمی

    بشکریہ جنگ۔
  6. محمد علم اللہ

    چھوٹا سدھیر (کہانی)

    نوٹ :محمد اسامہ بھائی سر سری کے شکریے کیساتھ جنھوں نے اسکے نوک پلک سنوار کر محفل میں شائع ہونے لائق بنایا ۔ محمد علم اللہ اصلاحی چھوٹا سدھیر جمعدار بے چارہ نو بجے ہی جگا گیا تھا۔ اس نے کمرے میں جھاڑو دی اور پوچھا بھی کیا ، لیکن میں گھوڑے بیچ کرسوتا رہا۔ فجر کی نماز کے ساتھ ہی ناشتا بھی گول کیا۔...
  7. پردیسی

    فیض احمد فیض کی 102ویں سالگرہ کل منائی جائیگی

    لاہور ‘(اردو ویب نیوز) بروز بدھ 13فروری اردو ادب کے ممتاز وعظیم شاعر فیض احمد فیض کی 102ویں سالگرہ بھرپور طریقہ سے منائی جا رہی ہے۔معروف شاعر فیض احمد فیض 13فروری 1911ء کو سیالکوٹ کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔وہ ایک ترقی پسند شاعر اور دانشور صحافی تھے وہبلا شبہ مرزا غالب اور علامہ اقبال کے...
  8. محمد علم اللہ

    بلاگ پر لکھی جانے والی تحریریں ادب کا حصہ ہیں یا نہیں؟

    ساتھیو! پچھلے کچھ دنوں سےہمارے دوستوں کے درمیان بلاگنگ اور ادب کو لے کر بحث ہو رہی ہے۔میرے ایک دوست کا کہنا ہےآج بلاگو ںمیں جو لکھا جا رہا ہے، وہ بیس ۔پچیس سال بعد بھی پڑھا جاتا رہے، تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے کہ وہ ادب کہلانے کے قابل ہے یا نہیں۔جبکہ ایک اور دوست کا کہنا ہے یہ سوال ایسا ہی ہے...
  9. محمد بلال اعظم

    احمد فراز کی آخری غزل یا احمد فراز پر آخری تہمت

    یہ غزل میں کافی عرصے سے پڑھ رہا تھا انٹرنیٹ پہ: غم حیات کا جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی چلے آؤ کہ دنیا سے جا رہا ہے کوئی کوئی ازل سے کہ دے رُک جاؤ دو گھڑی سنا ہے کہ آنے کا وعدہ نبھا رہا ہے کوئی وہ اس ناز سے بیٹھے ہیں لاش کے پاس جیسے رُوٹھ ہوئے کو منا رہا ہے کوئی پلٹ کر نا آ جائے پھر سانس نبضوں میں...
  10. نورالدین

    سہ ماہی " ک۔۔ول۔۔اژ " اردو

    ترک نژاد پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار کہتے ہیں کہ "اردو ایک ایسی میٹھی اور پر تاثیر زبان ہے جیسے ہم جانیں یا خدا جانے ۔ " ادب کے معاملے میں اردو کا دامن کبھی خالی نہيں رہا ۔ جس میں سب سے اہم کردار جرائد و رسائل کا اجرا کرنے والوں کا بھی ہے ۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس میں صرف دلی و جذباتی طور پر ہی حصہ...
  11. محمد خلیل الرحمٰن

    ہوا کے دوش پر۔ سائبر ادب

    ہوا کے دوش پر۔ سائیبر ادب محمد خلیل الرحمٰن میں اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال ہوا کے دوش پر اڑنے کی خواہش نہ صرف زبیدہ خانم کو تھی، بلکہ فی زمانہ ہر شعبہ زندگی کی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے یہ دنیاء ہواؤں میں اڑی جارہی ہے۔ کیا کاروبار، لین دین، کیا دفتری معاملات، کیا علم و فن اور کیا تفریح۔ سب اسی ہوا...
  12. خواجہ طلحہ

    ادبی اقتباس۔

    از صاحبزادہ غلام نظام الدین۔
  13. نبیل

    جرمنی کی مصنفہ کے لیے نوبل انعام کا اعلان

    ماخذ: بی بی سی اردو جرمن مصنفہ ہرٹا ملر نے سنہ 2009 کے لیے ادب کا نوبیل انعام جیت لیا ہے۔ نوبیل انعام دینے والی سویڈش اکیڈمی نے اس بات کا اعلان سویڈن کے شہر سٹاک ہوم میں کیا۔ ہرٹا ملر کو یہ اعزاز رواں برس دسمبر میں ایک تقریب میں دیا جائے گا۔ اس اعزاز کے ساتھ انہیں دس ملین سویڈش کرونا کی...
Top