اردو غزل

  1. راحیل فاروق

    عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟

    تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟ عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟ خواب ہی خواب ہیں، تعبیر کہاں سے لائیں؟ لائیں، پر خوبئِ تقدیر کہاں سے لائیں؟ مرہمِ خاک غنیمت ہے کہ موجود تو ہے دشت میں بیٹھ کے اکسیر کہاں سے لائیں؟ کوئی زاہد ہے تو اللہ کی مرضی سے ہے ایسی تقصیر پہ تعزیر کہاں سے لائیں؟...
  2. راحیل فاروق

    دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

    میں اپنی پہلی کاوش پر محفلین کے ردِ عمل کے لیے نہایت شکرگزار ہوں۔ مختلف احباب کی آرا و تجاویز کو ذہن میں رکھتے ہوئے دوسری کوشش کے لیے مرزا غالبؔ کی ایک غزل منتخب کی ہے۔ اگر تابش بھائی میں دوبارہ فرمائش کی تاب رہی تو ہمارا بھی اللہ مالک ہے!
  3. عاطف ملک

    برائے اصلاح

    ان اشعار پر اساتذہ اور محفلین کی تنقیدی و اصلاحی رائے درکار ہے۔ وہ جب کاشانہِ دل میں خیال آورد ہوتا ہے تڑپتی ہیں ردیفیں قافیوں میں درد ہوتا ہے سبھی سے مسکرا کر بات کرنا جن کی عادت ہے اگر ہم سے مخاطب ہوں تو لہجہ سرد ہوتا ہے نہ ماتھے پر شکن لائے، جو حق پر ہو کے جھک جائے جسے ہو پاس رشتوں کا، وہ...
  4. راحیل فاروق

    ہمہ تن گوش ہوں، ہمہ تن گوش

    ہمہ تن گوش ہوں ہمہ تن گوش دوست خاموش ہے بہت خاموش کوئے جانانہ تھا کہ ویرانہ تھا مجھے ہوش؟ کیوں نہ تھا مجھے ہوش؟ ہاں ظلوم و جہول ہوں یا رب دوش کس کا ہے؟ بول کس کا ہے دوش؟ کون ہے؟ جی فقیر! ہائے نہیں کیا خور و نوش؟ کیا فقط خور و نوش؟ سینہ میدانِ جنگ ہے کس کا دم زرہ پوش ہے نہ غم زرہ پوش پھر...
  5. غدیر زھرا

    تیرے آنے کا احتمال رہا (میر اثر)

    تیرے آنے کا احتمال رہا مرتے مرتے یہی خیال رہا غم ترا دل سے کوئی نکلے ہے آہ ہر چند میں نکال رہا ہجر کے ہاتھ سے ہیں سب روتے یاں ہمیشہ کسے وصال رہا شمع ساں جلتے بلتے کاٹی عمر جب تلک سر رہا وبال رہا مل گئے خاک میں ہی طفلِ سرشک میں تو آنکھوں میں گرچہ پال رہا سمجھیے اس قدر نہ کیجے غرور کوئی بھی...
  6. فہد اشرف

    بشیر بدر خوشبو کی طرح آیا وہ تیز ہواؤں میں

    خوشبو کی طرح آیا وہ تیز ہواؤں میں مانگا تھا جسے ہم نے دن رات دعاؤں میں تم چھت پہ نہیں آئے میں گھر سے نہیں نکلا یہ چاند بہت بھٹکا ساون کی گھٹاؤں میں اس شہر میں اک لڑکی بالکل ہے غزل جیسی بجلی سی گھٹاؤں میں خوشبو سی ہواؤں میں موسم کا اشارہ ہے خوش رہنے دو بچوں کو معصوم محبت ہے پھولوں کی خطاؤں میں...
  7. فاتح

    ولی دکنی جسے عشق کا تیر کاری لگے

    جسے عشق کا تیر کاری لگے اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے نہ چھوڑے محبت دمِ مرگ تک جسے یار جانی سے یاری لگے نہ ہووے اُسے جگ میں ہر گز قرار جسے عشق کی بے قراری لگے ہر اک وقت مجھ عاشقِ پاک کو پیارے، تری بات پیاری لگے ولیؔ کو کہے تو اگر اک بچن رقیباں کے دل میں کٹاری لگے ولی دکنی نوٹ: جدید اردو املا...
  8. فاتح

    ہر حرف ہے سرمستی، ہر بات ہے رندانہ ۔ امیر خسرو

    ہر حرف ہے سرمستی، ہر بات ہے رندانہ چھائی ہے مرے دل پر وہ نرگسِ مستانہ وہ اشک بہے غم میں یہ جاں ہوئی غرقِ خوں لبریز ہوا آخر یوں عمر کا پیمانہ آ ڈال مرے دل میں زلفوں کے یہ پیچ و خم آشفتہ سروں کا ہے آباد سیہ خانہ واللہ کشش کیا تھی مستی بھری آنکھوں کی یہ راہ چلا خسرو رندانہ و مستانہ امیر خسرو...
  9. کاشفی

    ولی دکنی عاشِقاں پر ہمیشہ رَوشن ہے - ولی دکنی

    غزل (شمس ولی اللہ ولی دکنی) عاشِقاں پر ہمیشہ رَوشن ہے کہ فنِ عاشِقی، عجب فن ہے دُشمنِ دیں کا، دین دُشمن ہے راہ زن کا چِراغ رہزن ہے سفرِ عِشق کیوں نہ ہو مُشکِل؟ غمزہء چشمِ یار رہزن ہے مُجھ کوں رَوشن دِلاں نے دی ہے خبر کہ سُخن کا چِراغ رَوشن ہے عِشق میں شمع رو کے جلتا ہوں حال میرا سبھوں پہ...
  10. غدیر زھرا

    خرقہ رہنِ شراب کرتا ہوں (میر محمدی بیدار)

    خرقہ رہنِ شراب کرتا ہوں دلِ زاہد کباب کرتا ہوں نالۂ آتشیں سے یک دم میں دلِ فولاد آب کرتا ہوں آہِ سوزاں و اشکِ گلگوں سے کارِ برق و سحاب کرتا ہوں داغِ سوزانِ عشق سے دل کو چشمۂ آفتاب کرتا ہوں برق کو بھی سکوں ہوا آخر میں ہنوز اضطراب کرتا ہوں تا کہ بیدار اس سے ہو آباد خانۂ دل خراب کرتا ہوں (میر...
  11. غدیر زھرا

    میر ربطِ دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا

    ربطِ دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا اس قدر حال ہمارا نہ پریشاں ہوتا ہاتھ دامن میں ترے مارتے جھنجھلا کے نہ ہم اپنے جامے میں اگر آج گریباں ہوتا میری زنجیر کی جھنکار نہ کوئی سنتا شورِ مجنوں نہ اگر سلسلہ جنباں ہوتا ہر سَحر آئنہ، رہتا ہے تِرا منھ تکتا دل کی تقلید نہ کرتا تو نہ حیراں ہوتا وصل کے...
  12. کاشفی

    نہ رہبر نے نہ اس کی رہبری نے - شو رتن لال برق پونچھوی

    غزل (شو رتن لال برق پونچھوی) نہ رہبر نے نہ اس کی رہبری نے مجھے منزل عطا کی گمرہی نے بنا ڈالا زمانے بھر کو دشمن فقط اک اجنبی کی دوستی نے وہ کیوں محتاج ہو شمس و قمر کا جلا بخشی ہو جس کو تیرگی نے بدن کانٹوں سے کر ڈالا ہے چھلنی ہمارا گُل رُخوں کی دوستی نے بدل ڈالا مذاق گُل پرستی چمن میں ادھ کھلی...
  13. کاشفی

    مصحفی یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گی - مصحفی غلام ہمدانی امروہوی

    غزل (مصحفی غلام ہمدانی امروہوی) یہ آنکھیں ہیں تو سر کٹا کر رہیں گی کسو سے ہمیں یاں لڑا کر رہیں گی اگر یہ نگاہیں ہیں کم بخت اپنی تو کچھ ہم کو تہمت لگا کر رہیں گی یہ سفاکیاں ہیں تو جوں مرغ بسمل ہمیں خاک و خوں میں ملا کر رہیں گی کیا ہم نے معلوم نظروں سے تیری کہ نظریں تری ہم کو کھا کر رہیں گی...
  14. راحیل فاروق

    کلامِ محمد احمد در آوازِ حسن محمود جماعتی

    غزل ہو احمد بھائی کی اور آواز جماعتی بھائی کی تو کون کافر ہے جس پہ وجد طاری نہ ہو۔ ایک محبوب کے دلِ معصوم کی آواز دوسرے کے دہنِ مبارک سے نکلتی نظر آئے تو سمجھ لیجیے کہ آپ دنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہیں (ویسے اس خوش طالعی کے لیے آپ کے پاس کم از کم دو محبوبوں کا ذخیرہ ہونا ضروری ہے)۔ خیر، اب غزل...
  15. کاشفی

    زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں - گوپال متل

    غزل (گوپال متل) زبان رقص میں ہے اور جھومتا ہوں میں کہ داستانِ محبت سنا رہا ہوں میں نہ پوچھ مجھ سے مری بے خودی کا افسانہ کسی کی مست نگاہی کا ماجرا ہوں میں کہاں کا ضبطِ محبت، کہاں کی تاثیریں تسلیاں دلِ مضطر کو دے رہا ہوں میں پھر ایک شعلہء پر پیچ و تاب بھڑکے گا کہ چند تنکوں کو ترتیب دے رہا ہوں...
  16. کاشفی

    مجاز اپنے دل کو دونوں عالم سے اُٹھا سکتا ہوں میں - اسرار الحق مجاز

    نذرِ دل (اسرار الحق مجاز) اپنے دل کو دونوں عالم سے اُٹھا سکتا ہوں میں کیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میں کون تم سے چھین سکتا ہے مجھے، کیا وہم ہے خود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میں دل میں تم پیدا کرو پہلے مری سی جرائتیں اور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا سکتا ہوں میں دفن کر سکتا...
  17. راحیل فاروق

    مرنا تو کسی کو بھی گوارا نہیں ہوتا

    مرنا تو کسی کو بھی گوارا نہیں ہوتا کمبخت محبت میں مگر کیا نہیں ہوتا محسوس تو ہوتا ہے، ہویدا نہیں ہوتا اک حشر ہے سینے میں کہ برپا نہیں ہوتا کب سامنے آنکھوں کے مسیحا نہیں ہوتا گویا نہیں ہوتا تو مداوا نہیں ہوتا آئینے کی صورت کا بھروسا نہیں ہوتا تجھ سا کوئی ہوتا ہے وہ مجھ سا نہیں ہوتا ہم تیرے...
  18. کاشفی

    قتیل شفائی جب اپنے اعتقاد کے محور سے ہٹ گیا - قتیل شفائی

    غزل (قتیل شفائی) جب اپنے اعتقاد کے محور سے ہٹ گیا میں ریزہ ریزہ ہو کے حریفوں میں بٹ گیا دشمن کے تن پہ گاڑ دیا میں نے اپنا سر میدانِ کارزار کا پانسہ پلٹ گیا تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا درپیش اب نہیں ترا غم کیسے مان لوں کیسا تھا وہ پہاڑ جو رستے سے ہٹ گیا...
  19. کاشفی

    قتیل شفائی اب تو بیداد پہ بیداد کرے گی دنیا - قتیل شفائی

    غزل (قتیل شفائی) اب تو بیداد پہ بیداد کرے گی دنیا ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرے گی دنیا زندگی بھاگ چلی موت کے دروازے سے اب قفس کون سا ایجاد کرے گی دنیا ہم تو حاضر ہیں پر اے سلسلہء جورِ قدیم ختم کب ورثہء اجداد کرے گی دنیا سامنے آئیں گے اپنی ہی وفا کے پہلو جب کسی اور کو برباد کرے گی دنیا کیا...
  20. کاشفی

    کی مے سے ہزار بار توبہ - سردار گنڈا سنگھ مشرقی

    غزل (سردار گنڈا سنگھ مشرقی) کی مے سے ہزار بار توبہ رہتی نہیں برقرار توبہ تم مے کرو ہزار بار توبہ تم سے یہ نبھے قرار توبہ بندوں کو گنہ تباہ کرتے ہوتی نہ جو غم گسار توبہ ہوتی ہے بہار میں معطل کرتے ہیں جو میگسار توبہ مقبول ہو کیوں نہ گر کریں ہم با دیدہء اشک بار توبہ ہوگی کبھی مشرقی نہ قبول...
Top