میر ربطِ دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا

غدیر زھرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 14, 2017

  1. غدیر زھرا

    غدیر زھرا لائبریرین

    مراسلے:
    3,150
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    ربطِ دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا
    اس قدر حال ہمارا نہ پریشاں ہوتا

    ہاتھ دامن میں ترے مارتے جھنجھلا کے نہ ہم
    اپنے جامے میں اگر آج گریباں ہوتا

    میری زنجیر کی جھنکار نہ کوئی سنتا
    شورِ مجنوں نہ اگر سلسلہ جنباں ہوتا

    ہر سَحر آئنہ، رہتا ہے تِرا منھ تکتا
    دل کی تقلید نہ کرتا تو نہ حیراں ہوتا

    وصل کے دن سے بدل کیونکہ شبِ ہجراں ہو
    شاید اس طور میں ایّام کا نقصاں ہوتا

    طور اپنے پہ جو ہم روتے تو پھر عالم میں
    دیکھتے تم کہ وہی نوح کا طوفاں ہوتا

    دل میں کیا کیا تھا ہمارے جو نہ ہو جاتی یاس
    یہ نگر کاہے کو اس طرح سے ویراں ہوتا

    خاکِ پا ہو کے ترے قد کا چمن میں رہتا!
    سرو، اِتنا نہ اکڑتا اگر انساں ہوتا

    میر بھی دیر کے لوگوں ہی کی سی کہنے لگا
    کچھ خدا لگتی بھی کہتا جو مسلماں ہوتا

    (میر تقی میر)​
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 15, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 3
  2. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,665
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    ہر سَحر آئنہ، رہتا ہے تِرا منھ تکتا
    دل کی تقلید نہ کرتا تو نہ حیراں ہوتا

    وصل کے دن سے بدل کیونکہ شبِ ہجراں ہو
    شاید اس طور میں ایّام کا نقصاں ہوتا

    خاکِ پا ہو کے تِرے قد کا چمن میں رہتا !
    سرو، اِتنا نہ اکڑتا اگر انساں ہوتا
    :) :) :)

    بہت خوب انتخاب !
    تشکّر شیئر کرنے پر :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. غدیر زھرا

    غدیر زھرا لائبریرین

    مراسلے:
    3,150
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    شکریہ تو آپ کا سر :) جزاک اللہ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر