کبھی اس مکاں سے گزر گیا کبھی اس مکاں سے گزر گیا ۔ عرش ملیسانی

فاتح نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 1, 2018

  1. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    کبھی اِس مکاں سے گزر گیا، کبھی اُس مکاں سے گزر گیا
    ترے آستاں کی تلاش میں، میں ہر آستاں سے گزر گیا

    ابھی آدمی ہے فضاؤں میں، ابھی آدمی ہے خلاؤں میں
    یہ نجانے پہنچے گا کس جگہ اگر آسماں سے گزر گیا

    کبھی تیرا در، کبھی دربدر، کبھی عرش پر، کبھی فرش پر
    غمِ عاشقی ترا شکریہ، میں کہاں کہاں سے گزر گیا

    یہ مرا کمالِ گنہ سہی، مگر اس کو دیکھ، مرے خدا
    مجھے تُو نے روکا جہاں جہاں میں وہاں وہاں سے گزر گیا

    جسے لوگ کہتے ہیں زندگی وہ تو حادثوں کا ہجوم ہے
    وہ تو کہیے میرا ہی کام تھا کہ میں درمیاں سے گزر گیا

    چلو عرشؔ محفلِ دوست میں کہ پیامِ دوست بھی ہے یہی
    وہ جو حادثہ تھا فراق کا سرِ دشمناں سے گزر گیا
    عرش ملسیانی​

    آج ایک دوست نعمان بھائی نے مجھے نہ صرف یہ بتایا کہ عرش ملسیانی کی یہ خوبصورت غزل ڈاکٹر فطرت ناشناس نے گائی ہے بلکہ اس ریکارڈنگ کی وڈیو کا یو ٹیوب لنک بھی عطا فرما دیا۔ حج کا ثواب ان کی نذر
     
    آخری تدوین: ‏مئی 18, 2019 1:11 صبح
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 5
  2. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    6,545
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    واہ کیا کمال کا کلام ہے اور کی ہی کمال سے کلام کیا ہے فطرت صاحب نے۔ ایک مصرع ذرا مختلف بھی پڑھا ہے۔
    یہ تو میرا ذوق کمال ہے مگر اس کو دیکھ، مرے خدا
    یہ مرا کمالِ گنہ سہی، مگر اس کو دیکھ، مرے خدا
    میرا خیال ہے گنہ سہی والا انداز زیادہ پیوستہ تخیل سے ہے۔
    شاد رہیں ہمارے فاتح بھائی ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    پسند کرنے پر آپ کا شکریہ۔
    میں نے غور ہی نہیں کیا کہ ناشناس نے اس مصرع کو تبدیل کر دیا ہے۔
    آپ سے متفق ہوں کہ مضمون کے اعتبار سے یہاں گنہ ہی درست ہے جبکہ ذوق کمال کا محل ہی نہیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. انیس جان

    انیس جان محفلین

    مراسلے:
    344
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ شعر عرش کا نہیں
    بلکہ یہ شعر امیر اعظم کی ایک غزل کا مطلع ہے جس کا مقطع یہ ہے

    مرا جسم کیا مری روح کیا نہیں کوئی زخموں کی انتہا

    اے امیر تیرِ نگاہ حسن کہاں کہاں سے گزر گیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. مریم افتخار

    مریم افتخار مدیر

    مراسلے:
    4,345
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    بہت خوبصورت شراکت!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    شکریہ۔ تدوین کر دی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    پسند کرنے پر شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    6,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    خوبصورت شراکت۔

    ناشناس کی آواز نے تو قیامت ڈھادی!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. نور سعدیہ شیخ

    نور سعدیہ شیخ مدیر

    مراسلے:
    5,201
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    واہ، بہت عمدہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    شکریہ خلیل بھائی۔۔۔ بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    شکریہ
     

اس صفحے کی تشہیر