1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن

ظہیراحمدظہیر نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 2, 2017

  1. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن
    اک عالمِ نشاط میں بولے ہوئے سخن

    جیسے اتر رہے ہوں دلِ تشنہ کام پر
    تسنیم و زنجبیل میں گھولے ہوئے سخن

    جیسے پروئیں تارِ شنیدن میں درِّ ناب
    لب ہائے لعل گوں سے وہ رولے ہوئے سخن

    آؤ سناؤں محفلِ شیریں سخن کی بات
    برہم ہوئے مزاج تو شعلے ہوئے سخن

    ہوتے نہیں ظہیرؔ کبھی ترجمانِ دل
    میزانِ احتیاط میں تولے ہوئے سخن

    ظہیر احمد ۔۔۔۔۔ ۲۰۱۲ ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9
    • زبردست زبردست × 6
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,152
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    خوب غزل ہے جناب، اور مقطع تو بس کیا کہنے!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    13,614
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    بہت خوبصورت۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. ا۔س۔د

    ا۔س۔د محفلین

    مراسلے:
    29
    جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    نوازش وارث بھائی! ذرہ نوازی ہے !
    ممنون ہوں شاہ صاحب! کرم نوازی ہے!
    بہت بہت شکریہ !
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,140
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن
    اک عالمِ نشاط میں بولے ہوئے سخن
    واہ واہ واہ
    آؤ سناؤں محفلِ شیریں سخن کی بات
    برہم ہوئے مزاج تو شعلے ہوئے سخن
    بہت خوب واہ واہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    واہ واہ واہ ڈاکٹر صاحب۔ کیا خوب غزل ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت شکریہ فرحان بھائی ! مجھے خوشی ہے کہ آپ کو اشعار پسند آئے ۔ بہت نوازش!
     
  9. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب آپ کا بھی ! :):):)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,442
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    واہ، پرانی غزل ہے لیکن استادانہ۔

    تسنیم و زنجبیل میں گھولے ہوئے سخن
    ادرک کا جوشاندہ؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  11. عبدالحق ہندل

    عبدالحق ہندل محفلین

    مراسلے:
    2
    جھنڈا:
    Pakistan
    آؤ سناؤں محفلِ شیریں سخن کی بات
    برہم ہوئے مزاج تو شعلے ہوئے
    واہ بہت ہی عمدہ کلام ہے پڑھ کر تازہ دم ہوگئے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ہا ہا ہاہا! بہت خوب!
    اعجاز بھائی ،تسنیم کے ساتھ زنجبیل آئے گا تو پھر سونٹھ کے نہیں بلکہ مشروب کے معنی ہی دے گا ۔ تسنیم ، کوثر ، زنجبیل اور سلسبیل سب جنت کے مشروبات ہی کے نام ہیں ۔ اگر آپ کو زنجبیل پسند نہیں تو یہاں سلسبیل پڑھ لیجئے ۔ :):):)

    ویسے ادرک کا جوشاندہ بھی کیا چیز ہے ! میرا خیال ہے کہ چھوٹے موٹے جراثیم تو اس کی مہک سے ہی مرجاتے ہوں گے اس کا ذائقہ تو بعد کی بات ہے ۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت شکریہ بھائی ! نوازش!
     
  14. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    14,939
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    بہت خوبصورت۔بہت ہی خوبصورت ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت بہت شکریہ خالد بھائی ! اللہ آپ کو خوش رکھے!
     
  16. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,785
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    واہ۔ بہت عمدگی سے نبھائی منفرد ردیف
    صوتی قافیہ؟
    اگر آخر میں الف اور عین صوتی قوافی نہیں ہو سکتے تو درمیان میں کیوں؟
    مبتدیانہ سوال

    مقطع کی تو کیا ہی بات ہے۔ بہت اعلیٰ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. بلال اعظمؔ ڈھڈی

    بلال اعظمؔ ڈھڈی محفلین

    مراسلے:
    2
    جھنڈا:
    Pakistan
  18. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت نوازش تابش بھائی ! اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے ۔ بہت شکریہ!

    میں قافیے میں ممکنہ حد تک کشادگی کا قائل ہوں اور صوتی قافیے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ۔ میری کچھ غزلوں میں چند صوتی قوافی یقیناً آپ کی نظر سے گزرے ہوں گے ۔ ایک طویل مضمون قافیے پر عرصہ دراز سے نامکمل پڑا ہے ۔ شاید کبھی جم کر کام کرنے کا وقت ملے تو اسے مکمل کرکے شائع کردوں ۔
    آپ کی یہ بات درست ہے کہ قافیے کے آخر میں (حرفِ روی) الف ہو تو عین کو اس کا صوتی قافیہ نہیں بنایا جاسکتا اور نہیں بنایا جاتا ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عین صرف عربی الفاظ کے ساتھ مخصوص ہے ( اور وہیں سے فارسی اور اردو میں بھی آیا ہے) ۔ اب اردو میں جن الفاظ کے آخر میں عین آتا ہے عموماً متحرک ہوتا ہے جبکہ لفظ کے آخر میں آنے والا الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے ۔ چنانچہ ہوا ، صبا اور دعا کا قافیہ شمع ، طمع ، جمع وغیرہ کو نہیں بنایا جاسکتا ۔ اور اگر بالفرض ان الفاظ میں ع کو ساکن کرکے بھی پڑھا جائے ( جیسا کہ اب بعض لوگوں نے کرنا شروع کردیا ہے) تو بھی صبا کا قافیہ طمع ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ الف کی حرکت طویل ہے اور عین کی حرکت نسبتاً مختصر ۔ یہ دونوں الفاظ ہم صوت نہیں ۔ اسی طرح صبا کا قافیہ دفاع اور رفاع بھی ممکن نہیں کہ یہاں عین کا اسقاط کرنا پڑے گا جو ناجائز ہے ۔

    جہاں تک رہی بات مذکورہ مصرع میں شعلے کو بولے ، تولے وغیرہ کا قافیہ بنانے کی ۔ تو میں نے یہاں عین کو واؤ کی جگہ استعمال نہیں کیا بلکہ شین پر موجود پیش کا فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ پیش (یا ضمہ) واؤ کی آواز کو ظاہر کرتا ہے ۔ چونکہ ہم اردو والے عین کو عربی کی طرح حلق سے ادا نہیں کرتے اس لئے شعلے اور بولے ہم صوت ہیں ۔

    مزے کی بات یہ ہے کہ اساتذہ کے ہاں صوتی قوافی کی کچھ مثالیں ملتی ہیں ۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اساتذہ صوتی قافیے کے امکان سے بخوبی واقف تھے ۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت کے لسانی اور ادبی رویوں اور رجحانات نے اس رسم کی حوصلہ افزائی نہ کی ہو اور اسے آگے بڑھنے سے روک دیا ہو ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اردو عروض کو ارتقا کی ضرورت ہے ۔ غالب کا ایک شعر دیکھئے۔ کہتے ہیں :

    کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
    یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ ’’وو آئے‘‘

    غالب جانتے ہیں کہ لفظ وہ کے آخر میں اگرچہ ہائے مختفی آتا ہے لیکن اسے ہ کے بجائے واؤ کی آواز ہی سے بولا جاتا ہے یعنی وو ۔ اس ہم صوتیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ قافیہ ممکن ہوا ۔ لیکن غالب نے حیلہ یہ استعمال کیا کہ بجائے ’’وہ‘‘ لکھنے کے ’’وو‘‘ لکھا تاکہ حرفِ روی کی پابندی ہوسکے ۔ لیکن میری ناقص رائے میں آج کے دور میں یہ حیلہ استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ وہ لکھنا کافی ہوگا ۔

    فردوسی کا یہ شعر دیکھئے:
    چہ گفت آن خداوند تنزیل و وحی
    خداوند امر و خداوند نہی

    یہاں وحی اور نہی صوتی قوافی ہیں ۔

    اسی طرح سعدی کا یہ شعر دیکھئے:

    چہ مصر و چہ شام و چہ بر و چہ بحر
    ہمہ روستانید و شیراز شہر

    یہاں بحر اور شہر کے قوافی ہیں ۔

    جدید اردو شاعری مین صوتی قافیے کا استعمال عام ہوتا جارہاہے اور اب اسےجائز سمجھنا چاہئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افتخار عارف نے بھی اپنی ایک غزل میں شعلے اور تولے کے قوافی استعمال کئے ہیں ۔ کہتے ہیں :
    قلم جب درہم و دینار میں تولے گئے تھے
    کہاں تک دل کی چنگاری ترے شعلے گئے تھے

    تابش بھائی طوالت کے لئے معذرت ۔ امید ہے برداشت کریں گے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  19. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,785
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جزاک اللہ
    سیکھنے کے لیے پوچھا اور سیکھنے کو ملا بھی۔ :)
     

اس صفحے کی تشہیر