موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن

موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن
اک عالمِ نشاط میں بولے ہوئے سخن

جیسے اتر رہے ہوں دلِ تشنہ کام پر
تسنیم و زنجبیل میں گھولے ہوئے سخن

جیسے پروئیں تارِ شنیدن میں درِّ ناب
لب ہائے لعل گوں سے وہ رولے ہوئے سخن

آؤ سناؤں محفلِ شیریں سخن کی بات
برہم ہوئے مزاج تو شعلے ہوئے سخن

ہوتے نہیں ظہیرؔ کبھی ترجمانِ دل
میزانِ احتیاط میں تولے ہوئے سخن

ظہیر احمد ۔۔۔۔۔ ۲۰۱۲​
 
خوب غزل ہے جناب، اور مقطع تو بس کیا کہنے!
نوازش وارث بھائی! ذرہ نوازی ہے !
ممنون ہوں شاہ صاحب! کرم نوازی ہے!
جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔۔
بہت بہت شکریہ !
 
موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن
اک عالمِ نشاط میں بولے ہوئے سخن
واہ واہ واہ
آؤ سناؤں محفلِ شیریں سخن کی بات
برہم ہوئے مزاج تو شعلے ہوئے سخن
بہت خوب واہ واہ
 
موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن
اک عالمِ نشاط میں بولے ہوئے سخن
واہ واہ واہ
آؤ سناؤں محفلِ شیریں سخن کی بات
برہم ہوئے مزاج تو شعلے ہوئے سخن
بہت خوب واہ واہ

بہت شکریہ فرحان بھائی ! مجھے خوشی ہے کہ آپ کو اشعار پسند آئے ۔ بہت نوازش!
 
واہ، پرانی غزل ہے لیکن استادانہ۔

تسنیم و زنجبیل میں گھولے ہوئے سخن
ادرک کا جوشاندہ؟
ہا ہا ہاہا! بہت خوب!
اعجاز بھائی ،تسنیم کے ساتھ زنجبیل آئے گا تو پھر سونٹھ کے نہیں بلکہ مشروب کے معنی ہی دے گا ۔ تسنیم ، کوثر ، زنجبیل اور سلسبیل سب جنت کے مشروبات ہی کے نام ہیں ۔ اگر آپ کو زنجبیل پسند نہیں تو یہاں سلسبیل پڑھ لیجئے ۔ :):):)

ویسے ادرک کا جوشاندہ بھی کیا چیز ہے ! میرا خیال ہے کہ چھوٹے موٹے جراثیم تو اس کی مہک سے ہی مرجاتے ہوں گے اس کا ذائقہ تو بعد کی بات ہے ۔ :)
 
واہ۔ بہت عمدگی سے نبھائی منفرد ردیف
جیسے اتر رہے ہوں دلِ تشنہ کام پر
تسنیم و زنجبیل میں گھولے ہوئے سخن

جیسے پروئیں تارِ شنیدن میں درِّ ناب
لب ہائے لعل گوں سے وہ رولے ہوئے سخن

آؤ سناؤں محفلِ شیریں سخن کی بات
برہم ہوئے مزاج تو شعلے ہوئے سخن
صوتی قافیہ؟
اگر آخر میں الف اور عین صوتی قوافی نہیں ہو سکتے تو درمیان میں کیوں؟
مبتدیانہ سوال

ہوتے نہیں ظہیرؔ کبھی ترجمانِ دل
میزانِ احتیاط میں تولے ہوئے سخن
مقطع کی تو کیا ہی بات ہے۔ بہت اعلیٰ
 
برہم ہوئے مزاج تو شعلے ہوئے سخن
صوتی قافیہ؟
اگر آخر میں الف اور عین صوتی قوافی نہیں ہو سکتے تو درمیان میں کیوں؟
مبتدیانہ سوال

بہت نوازش تابش بھائی ! اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے ۔ بہت شکریہ!

میں قافیے میں ممکنہ حد تک کشادگی کا قائل ہوں اور صوتی قافیے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ۔ میری کچھ غزلوں میں چند صوتی قوافی یقیناً آپ کی نظر سے گزرے ہوں گے ۔ ایک طویل مضمون قافیے پر عرصہ دراز سے نامکمل پڑا ہے ۔ شاید کبھی جم کر کام کرنے کا وقت ملے تو اسے مکمل کرکے شائع کردوں ۔
آپ کی یہ بات درست ہے کہ قافیے کے آخر میں (حرفِ روی) الف ہو تو عین کو اس کا صوتی قافیہ نہیں بنایا جاسکتا اور نہیں بنایا جاتا ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عین صرف عربی الفاظ کے ساتھ مخصوص ہے ( اور وہیں سے فارسی اور اردو میں بھی آیا ہے) ۔ اب اردو میں جن الفاظ کے آخر میں عین آتا ہے عموماً متحرک ہوتا ہے جبکہ لفظ کے آخر میں آنے والا الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے ۔ چنانچہ ہوا ، صبا اور دعا کا قافیہ شمع ، طمع ، جمع وغیرہ کو نہیں بنایا جاسکتا ۔ اور اگر بالفرض ان الفاظ میں ع کو ساکن کرکے بھی پڑھا جائے ( جیسا کہ اب بعض لوگوں نے کرنا شروع کردیا ہے) تو بھی صبا کا قافیہ طمع ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ الف کی حرکت طویل ہے اور عین کی حرکت نسبتاً مختصر ۔ یہ دونوں الفاظ ہم صوت نہیں ۔ اسی طرح صبا کا قافیہ دفاع اور رفاع بھی ممکن نہیں کہ یہاں عین کا اسقاط کرنا پڑے گا جو ناجائز ہے ۔

جہاں تک رہی بات مذکورہ مصرع میں شعلے کو بولے ، تولے وغیرہ کا قافیہ بنانے کی ۔ تو میں نے یہاں عین کو واؤ کی جگہ استعمال نہیں کیا بلکہ شین پر موجود پیش کا فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ پیش (یا ضمہ) واؤ کی آواز کو ظاہر کرتا ہے ۔ چونکہ ہم اردو والے عین کو عربی کی طرح حلق سے ادا نہیں کرتے اس لئے شعلے اور بولے ہم صوت ہیں ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اساتذہ کے ہاں صوتی قوافی کی کچھ مثالیں ملتی ہیں ۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اساتذہ صوتی قافیے کے امکان سے بخوبی واقف تھے ۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت کے لسانی اور ادبی رویوں اور رجحانات نے اس رسم کی حوصلہ افزائی نہ کی ہو اور اسے آگے بڑھنے سے روک دیا ہو ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اردو عروض کو ارتقا کی ضرورت ہے ۔ غالب کا ایک شعر دیکھئے۔ کہتے ہیں :

کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ ’’وو آئے‘‘

غالب جانتے ہیں کہ لفظ وہ کے آخر میں اگرچہ ہائے مختفی آتا ہے لیکن اسے ہ کے بجائے واؤ کی آواز ہی سے بولا جاتا ہے یعنی وو ۔ اس ہم صوتیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ قافیہ ممکن ہوا ۔ لیکن غالب نے حیلہ یہ استعمال کیا کہ بجائے ’’وہ‘‘ لکھنے کے ’’وو‘‘ لکھا تاکہ حرفِ روی کی پابندی ہوسکے ۔ لیکن میری ناقص رائے میں آج کے دور میں یہ حیلہ استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ وہ لکھنا کافی ہوگا ۔

فردوسی کا یہ شعر دیکھئے:
چہ گفت آن خداوند تنزیل و وحی
خداوند امر و خداوند نہی

یہاں وحی اور نہی صوتی قوافی ہیں ۔

اسی طرح سعدی کا یہ شعر دیکھئے:

چہ مصر و چہ شام و چہ بر و چہ بحر
ہمہ روستانید و شیراز شہر

یہاں بحر اور شہر کے قوافی ہیں ۔

جدید اردو شاعری مین صوتی قافیے کا استعمال عام ہوتا جارہاہے اور اب اسےجائز سمجھنا چاہئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افتخار عارف نے بھی اپنی ایک غزل میں شعلے اور تولے کے قوافی استعمال کئے ہیں ۔ کہتے ہیں :
قلم جب درہم و دینار میں تولے گئے تھے
کہاں تک دل کی چنگاری ترے شعلے گئے تھے

تابش بھائی طوالت کے لئے معذرت ۔ امید ہے برداشت کریں گے ۔
 
بہت نوازش تابش بھائی ! اللہ آپ کو شاد و آباد رکھے ۔ بہت شکریہ!

میں قافیے میں ممکنہ حد تک کشادگی کا قائل ہوں اور صوتی قافیے کے استعمال میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ۔ میری کچھ غزلوں میں چند صوتی قوافی یقیناً آپ کی نظر سے گزرے ہوں گے ۔ ایک طویل مضمون قافیے پر عرصہ دراز سے نامکمل پڑا ہے ۔ شاید کبھی جم کر کام کرنے کا وقت ملے تو اسے مکمل کرکے شائع کردوں ۔
آپ کی یہ بات درست ہے کہ قافیے کے آخر میں (حرفِ روی) الف ہو تو عین کو اس کا صوتی قافیہ نہیں بنایا جاسکتا اور نہیں بنایا جاتا ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عین صرف عربی الفاظ کے ساتھ مخصوص ہے ( اور وہیں سے فارسی اور اردو میں بھی آیا ہے) ۔ اب اردو میں جن الفاظ کے آخر میں عین آتا ہے عموماً متحرک ہوتا ہے جبکہ لفظ کے آخر میں آنے والا الف ہمیشہ ساکن ہوتا ہے ۔ چنانچہ ہوا ، صبا اور دعا کا قافیہ شمع ، طمع ، جمع وغیرہ کو نہیں بنایا جاسکتا ۔ اور اگر بالفرض ان الفاظ میں ع کو ساکن کرکے بھی پڑھا جائے ( جیسا کہ اب بعض لوگوں نے کرنا شروع کردیا ہے) تو بھی صبا کا قافیہ طمع ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ الف کی حرکت طویل ہے اور عین کی حرکت نسبتاً مختصر ۔ یہ دونوں الفاظ ہم صوت نہیں ۔ اسی طرح صبا کا قافیہ دفاع اور رفاع بھی ممکن نہیں کہ یہاں عین کا اسقاط کرنا پڑے گا جو ناجائز ہے ۔

جہاں تک رہی بات مذکورہ مصرع میں شعلے کو بولے ، تولے وغیرہ کا قافیہ بنانے کی ۔ تو میں نے یہاں عین کو واؤ کی جگہ استعمال نہیں کیا بلکہ شین پر موجود پیش کا فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ پیش (یا ضمہ) واؤ کی آواز کو ظاہر کرتا ہے ۔ چونکہ ہم اردو والے عین کو عربی کی طرح حلق سے ادا نہیں کرتے اس لئے شعلے اور بولے ہم صوت ہیں ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اساتذہ کے ہاں صوتی قوافی کی کچھ مثالیں ملتی ہیں ۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اساتذہ صوتی قافیے کے امکان سے بخوبی واقف تھے ۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت کے لسانی اور ادبی رویوں اور رجحانات نے اس رسم کی حوصلہ افزائی نہ کی ہو اور اسے آگے بڑھنے سے روک دیا ہو ۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اردو عروض کو ارتقا کی ضرورت ہے ۔ غالب کا ایک شعر دیکھئے۔ کہتے ہیں :

کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ ’’وو آئے‘‘

غالب جانتے ہیں کہ لفظ وہ کے آخر میں اگرچہ ہائے مختفی آتا ہے لیکن اسے ہ کے بجائے واؤ کی آواز ہی سے بولا جاتا ہے یعنی وو ۔ اس ہم صوتیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ قافیہ ممکن ہوا ۔ لیکن غالب نے حیلہ یہ استعمال کیا کہ بجائے ’’وہ‘‘ لکھنے کے ’’وو‘‘ لکھا تاکہ حرفِ روی کی پابندی ہوسکے ۔ لیکن میری ناقص رائے میں آج کے دور میں یہ حیلہ استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ وہ لکھنا کافی ہوگا ۔

فردوسی کا یہ شعر دیکھئے:
چہ گفت آن خداوند تنزیل و وحی
خداوند امر و خداوند نہی

یہاں وحی اور نہی صوتی قوافی ہیں ۔

اسی طرح سعدی کا یہ شعر دیکھئے:

چہ مصر و چہ شام و چہ بر و چہ بحر
ہمہ روستانید و شیراز شہر

یہاں بحر اور شہر کے قوافی ہیں ۔

جدید اردو شاعری مین صوتی قافیے کا استعمال عام ہوتا جارہاہے اور اب اسےجائز سمجھنا چاہئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افتخار عارف نے بھی اپنی ایک غزل میں شعلے اور تولے کے قوافی استعمال کئے ہیں ۔ کہتے ہیں :
قلم جب درہم و دینار میں تولے گئے تھے
کہاں تک دل کی چنگاری ترے شعلے گئے تھے

تابش بھائی طوالت کے لئے معذرت ۔ امید ہے برداشت کریں گے ۔
جزاک اللہ
سیکھنے کے لیے پوچھا اور سیکھنے کو ملا بھی۔ :)
 
Top