اک جہانِ رنگ و بو اعزاز میں رکھا گیا


اک جہانِ رنگ و بو اعزاز میں رکھا گیا
خاک تھا میں ، پھول کے انداز میں رکھا گیا

حیثیت اُس خاک کی مت پوچھئے جس کے لئے
خاکدانِ سیم و زر آغاز میں رکھا گیا

-ق-

اک صلائے عام تھی دنیا مگر میرے لئے
کیا تکلف دعوتِ شیراز میں رکھا گیا

ایک خوابِ آسماں دے کر میانِ آب و گِل
بال و پر بستہ مجھے پرواز میں رکھا گیا

بربطِ منظر پہ رکھ کر شرطِ مضرابِ نظر
نغمہائے بے صدا کو ساز میں رکھا گیا

ایک خوئے جستجو دی ، ایک دستِ ممکنات !
زندگی کو آدمی سے راز میں رکھا گیا

-

کھا رہا ہے تیرگی سے بس لڑائی کا فریب
وہ دیا جو حجرۂ درباز میں رکھا گیا

اک جہانِ حرف کتنی بار ٹوٹا اور بنا
تب کہیں احساس کو الفاظ میں رکھا گیا

بن گئی میرا تشخص میری خاموشی ظہیرؔ
درد کچھ ایسا مری آواز میں رکھا گیا

ظہیرؔ احمد ۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۷
 
آخری تدوین:

نمرہ

محفلین
بہت اچھی غزل ہے۔
ایک خوابِ آسماں دے کر میانِ آب و گِل
بال و پر بستہ مجھے پرواز میں رکھا گیا

اس سے مجھے اپنے ایک شعر کا خیال آ گیا:

قوت گویائی رکھ دی پہلے میری خاک میں
پھر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا
 
واہ - اور مقطع بھی تس پر قاطع ہے ۔
شاد رہیں ہمارے ظہیر بھائی۔
یہ سب آپ کی محبت ہے عاطف بھائی ۔ ورنہ من آنم کہ من دانم ۔ آپ کی داد میرے لئے سند ہے ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔ قدر افزائی کے لئے ممنو ن ہوں ۔
 
بہت اچھی غزل ہے۔
ایک خوابِ آسماں دے کر میانِ آب و گِل
بال و پر بستہ مجھے پرواز میں رکھا گیا

اس سے مجھے اپنے ایک شعر کا خیال آ گیا:

قوت گویائی رکھ دی پہلے میری خاک میں
پھر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا
بہت بہت شکریہ نمرہ صاحبہ! مجھے خوشی ہے کہ شعر آپ کو پسند آیا ۔ بہت نوازش!

قوت گویائی رکھ دی پہلے میری خاک میں
پھر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا

واہ! اچھا شعر ہے !! میری نظر سے پہلے نہیں گزری یہ غزل ۔ براہِ کرم پوری غزل عطا کیجے ۔
 

نمرہ

محفلین
بہت بہت شکریہ نمرہ صاحبہ! مجھے خوشی ہے کہ شعر آپ کو پسند آیا ۔ بہت نوازش!

قوت گویائی رکھ دی پہلے میری خاک میں
پھر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا

واہ! اچھا شعر ہے !! میری نظر سے پہلے نہیں گزری یہ غزل ۔ براہِ کرم پوری غزل عطا کیجے ۔
شکریہ! اصلاح سخن میں پوسٹ کروں گی، اگر مسودات میں کہیں مل جائے تو :)
 

نمرہ

محفلین
بہت بہت شکریہ نمرہ صاحبہ! مجھے خوشی ہے کہ شعر آپ کو پسند آیا ۔ بہت نوازش!

قوت گویائی رکھ دی پہلے میری خاک میں
پھر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا

واہ! اچھا شعر ہے !! میری نظر سے پہلے نہیں گزری یہ غزل ۔ براہِ کرم پوری غزل عطا کیجے ۔
ویسے 'کبھی بے سکون ٹھہر گیا ، کبھی بے قرار چلا گیا' کا مرکزی خیال چرا کر ایک غزل کہی ہے میں نے، وہ ایک آدھ دن میں پوسٹ کر دوں گی تبصرے کے لیے۔
 
ویسے 'کبھی بے سکون ٹھہر گیا ، کبھی بے قرار چلا گیا' کا مرکزی خیال چرا کر ایک غزل کہی ہے میں نے، وہ ایک آدھ دن میں پوسٹ کر دوں گی تبصرے کے لیے۔
بالضرور ۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ آپ کے قلم کوتحریک ہوئی ۔ براہِ کرم مجھے ٹیگ کردیجئے گا تاکہ پڑھنے سے رہ نہ جائے ۔
 
Top