دست و پا ہیں سب کے شل اک دست قاتل کے سوا - سُرُور بارہ بنکوی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 31, 2018

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (سُرُور بارہ بنکوی)
    دست و پا ہیں سب کے شل اک دست قاتل کے سوا
    رقص کوئی بھی نہ ہوگا رقص بسمل کے سوا


    متفق اس پر سبھی ہیں کیا خدا کیا ناخدا
    یہ سفینہ اب کہیں بھی جائے ساحل کے سوا


    میں جہاں پر تھا وہاں سے لوٹنا ممکن نہ تھا
    اور تم بھی آ گئے تھے پاس کچھ دل کے سوا


    زندگی کے رنگ سارے ایک تیرے دم سے تھے
    تو نہیں تو زندگی کیا ہے مسائل کے سوا


    اس کی محفل آئینہ خانہ تو تھی لیکن سرورؔ
    سارے آئینے سلامت تھے مرے دل کے سوا
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (سُرُور بارہ بنکوی)
    دست و پا ہیں سب کے شل اک دست قاتل کے سوا
    رقص کوئی بھی نہ ہوگا رقص بسمل کے سوا

     
    • زبردست زبردست × 2
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,611
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    مزے دار مزے دار
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,645
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بہت خُوب شیئرنگ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    بیحد شکریہ۔ خوش رہیئے۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    بہت شکریہ طارق شاہ صاحب!
     

اس صفحے کی تشہیر