فصلِ گُل کیا کر گئی آشفتہ سامانوں کے ساتھ - سُرُور بارہ بنکوی

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 31, 2018

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (سُرُور بارہ بنکوی)
    فصلِ گُل کیا کر گئی آشفتہ سامانوں کے ساتھ
    ہاتھ ہیں الجھے ہوئے اب تک گریبانوں کے ساتھ


    تیرے مے خانوں کی اک لغزش کا حاصل کچھ نہ پوچھ
    زندگی ہے آج تک گردش میں پیمانوں کے ساتھ


    دیکھنا ہے تا بہ منزل ہم سفر رہتا ہے کون
    یوں تو عالم چل پڑا ہے آج دیوانوں کے ساتھ


    ان حسیں آنکھوں سے اب للہ آنسو پوچھ لو
    تم بھی دیوانے ہوئے جاتے ہو دیوانوں کے ساتھ


    زندگی نذر حرم تو ہو چکی لیکن سرورؔ
    ہر عقیدت قازۂ عالم صنم خانے کے ساتھ
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (سُرُور بارہ بنکوی)
    فصلِ گُل کیا کر گئی آشفتہ سامانوں کے ساتھ
    ہاتھ ہیں الجھے ہوئے اب تک گریبانوں کے ساتھ

     
    • زبردست زبردست × 1
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,204
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    لیجیے ہم تو سُرور بارہ بنکوی کے نام کو صرف خوب صورت فلمی نغموں کے ساتھ جوڑتے تھے۔ اب پتہ چلا کہ وہ ایک خوب صورت غزل گو شاعر بھی تھے۔ اور ترنم تو سونے پر سُہاگہ ہے۔

    اتنی خوب صورت غزل شریک کرنے پر شکریہ قبول فرمائیے کاشفی بھائی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر