افتخار عارف امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں

فرقان احمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 12, 2018

  1. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,184
    امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
    ذرا سی دیر کو دُنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں

    بکھر چکے ہیں بہت باغ و دشت و دریا میں
    اب اپنے حجرہ جاں میں سمٹ کے دیکھتے ہیں

    تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
    سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

    پھر اس کے بعد جو ہونا ہے ہو رہے سر ِدست
    بساطِ عافیت ِجاں اُلٹ کے دیکھتے ہیں ۔۔۔!

    وہی ہے خواب جسے مل کے سب نے دیکھا تھا
    اب اپنے اپنے قبیلوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں

    سنا یہ ہے کہ سبک ہو چلی ہے قیمت ِحرف ۔۔۔!
    سو ہم بھی اب قد و قامت سے گھٹ کے دیکھتے ہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3

اس صفحے کی تشہیر