اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے......... از شمیم حنفی

کاشف اختر نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 11, 2018

  1. کاشف اختر

    کاشف اختر لائبریرین

    مراسلے:
    718
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Goofy
    اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے
    دل آٹھ پہر اپنی حدیں ڈھونڈ رہا ہے

    احساس کی وادی میں کوئی صوت نہ صورت
    یہ منزل عرفان تک آنے کا صلہ ہے

    زخموں کے بیاباں میں کوئی پھول نہ پتھر
    یادوں کے جزیرے میں نہ بت ہیں نہ خدا ہے

    اک خاک کے پیکر کا تماشہ ہے سڑک پر
    ہر شخص یہاں قہر کی تصویر بنا ہے

    مٹی کے گھروندے میں ستاروں کے دیے ہیں
    آنگن میں اندھیرا نہ اجالا نہ ہوا ہے

    اب انجمن شوق میں شمعیں نہ پتنگے
    اب مرگ مسلسل کی سزا ہے نہ جزا ہے

    چشموں کو شکایت ہے کہ شعلوں میں گھرے ہیں
    صحرا کو یہ دکھ ہے کہ پڑا سوکھ رہا ہے

    اب نخل رہ شوق نہ سائے نہ منازل
    اب آبروئے عشق نہ سودا نہ وفا ہے

    اب پاؤں مسافر ہیں نفس مرحلۂ زیست
    اب وقت کے ہاتھوں پہ نہ خوں ہے نہ حنا ہے

    خوں رنگ شفق رنگ خزاں رنگ ہیں چہرے
    جسموں پہ کفن ہے نہ کوئی سرخ قبا ہے

    سورج کو ہتھیلی پہ لکیروں کی تمنا
    اب چاند کی تھالی میں کرن ہے نہ دیا ہے

    اب دشت کے سینے پہ فقط آگ بچھی ہے
    اب نقش کف پا ہے نہ اب بانگ درا ہے

    ہر آنکھ چلاتی ہوئی تشکیک کے نیزے
    ہر ذہن تجسس کی ردا اوڑھ چکا ہے

    الفاظ کے چہرے سے عیاں شان خموشی
    ہونٹوں پہ سوالات کا اک جال بچھا ہے

    کیوں شام کو باہوں میں الجھنے کی ہوس ہے
    کیوں صبح کی پلکوں میں کوئی خواب چھپا ہے

    کیوں رات کے ماتھے پہ چمکتے ہیں نگینے
    کیوں دن کے رگ و پے میں کوئی حشر بپا ہے

    مشرق کے دریچوں سے گھٹن جھانک رہی ہے
    مغرب کی فضاؤں میں دھواں پھیل چکا ہے

    آشوب نظر ہو کہ تمناؤں کے نشتر
    ہر طشت میں زخموں کا اک انبار لگا ہے

    مندر کے گجر خاک پر اب چپ سے پڑے ہیں
    مسجد کے مناروں کا سرا ٹوٹ چکا ہے

    دیوار بھی دیوار سے آزاد نہیں ہے
    موہوم خلاؤں میں بھی زندان ہوا ہے

    سقراط تہ خاک یہی سوچ رہا ہے
    اب زہر فقط پیاس بجھانے کی دوا ہے

    اب نجد کے صحرا میں نہ کانٹے نہ صدائیں
    اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے

    یوں رات جب آئی ہے تو رکنا ہی پڑا ہے
    دست تۂ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے

    مجبوری و دعوائے گرفتاریٔ الفت
    ہر عہد میں تہذیب نے یہ ڈھونگ رچا ہے


    شمیم حنفی
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 7, 2018

اس صفحے کی تشہیر