گھر میں بھی وحشت ہے اور ویسی ہے بزم آرائی بھی ::: صفدر صدیق رضی

فرقان احمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 14, 2018

  1. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    گھر میں بھی وحشت ہے اور ویسی ہے بزم آرائی بھی
    پہلے ہمیں وہ چھوڑ گیا، پھر چھوڑ گئی تنہائی بھی ۔۔۔!

    ہم نے اُصولوں کی حُرمت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا
    گویائی کو روتے روتے جاتی رہی بینائی بھی ۔۔۔!

    اندر کے دُکھ سیپ میں جیسے موتی پلتے رہتے ہیں
    ساحل کا رستہ تکتی ہے ساگر کی گہرائی بھی ۔۔۔!

    تنگ مکانوں میں کثرت سے رہنے والے جانتے ہیں
    جتنے کشادہ گھر ہوتے ہیں اُتنی بڑی تنہائی بھی ۔۔۔!

    اتنی ہم سفری کے بعد اب لوٹ کے جانا مشکل ہے
    جتنی دُور نکل آئے ہیں، ویسی ہے پسپائی بھی ۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر