غزل
(آتش)
تاصبح نیند آئی نہ دم بھر تمام رات
نوچکیّاں چلیں مرے سر پر تمام رات
اللہ رے صبح عید کی اُس حور کی خوشی
شانہ تھا اور زلفِ معنبر تمام رات
کھولے بغل کہیں لحدِ تیرہ روزگار
سویا نہیں کبھی میں لپٹ کر تمام رات
کنڈی چڑھا کے شام سے وہ شوخ سورہا
پٹکا کیا میں سر...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں
کیا ہی جھنجلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیں
نہ اُٹھا خواب عدم سے ہمیں ہنگامہء حشر
کہ پڑے چین سے ہم زیرِ زمیں اچھے ہیں
کس بھروسے پہ کریں تجھ سے وفا کی اُمید
کون سے ڈھنگ ترے جان حزیں اچھے ہیں
خاک میں آہ ملا کر ہمیں، کیا...
غزل
(امیر مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ
چھوٹے جو بوے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ
اے روح، کیا بدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑ
میلا بہت ہوا ہے، اب اس پیرہن کو چھوڑ
ہے روح کو ہوس کہ نہ چھوڑے بدن کا ساتھ
غربت پکارتی ہے کہ غافل، وطن کو چھوڑ
کہتی ہے بوے گل سے...
اے میری اُردو زباں
(مولانا علی احمد سیوانی، علیگڑھ)
تِرے دامن میں ہیں موتی، لو لو و مَرجان بھی ہے
نِہاں تجھ میں یقیناً نکتہء قرآن بھی
تِرے دم سے جاوداں ہے دین اور ایمان بھی
تجھ میں مُضمر ہیں نبی کے قول اور فرمان بھی
تو وطن کی آبرو ہے اور شانِ گلستاں
اے مِری اُردو زباں، اے مِری اُردو...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
زمانہ ہے خفا مجھ سے کہ تم سے
گلِے پر ہے گلا مجھ سے کہ تم سے
ستم سے باز آؤ ، ورنہ اک دن
یہ پوچھے گا خدا مجھ سے کہ تم سے
مجھے معلوم تھا یا تم کو معلوم
وہ راز افشا ہوا مجھ سے کہ تم سے
نہ کہنا پھر کہ ہم قاتل نہیں ہیں
ہوا خونِ حنا...
غزل
(امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
زلفیں آئی ہیں لٹک کر روئے جاناں کی طرف
پاؤں پھیلائے ہیں اس کافر نے قرآں کی طرف
گھر سے اُٹھے تھے کہ جائیں گے گلستاں کی طرف
وحشتِ دل لے چلی ہم کو بیاباں کی طرف
مِل کے اک اک گور سے ہم دیر تک رویا کیے
لے گئی عبرت جو کل گورغریباں کی طرف...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
اللہ اللہ رے پریشانی مری
زلفِ جاناں بھی ہے دیوانی مری
کیا ٹھکانا مجھ سے نازک طبع کا
ہوچکی جنت سے مہمانی مری
تیز ہے خنجر تو قاتل نازنیں
سخت دشواری ہے آسانی مری
روبرو اُس بدگما ں کے ذکر ِ عشق
میرے آگے آئی نادانی مری
آج کل ہے اُن...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
جب وہ بُت ہمکلام ہوتا ہے
دل و دیں کا پیام ہوتا ہے
اُن سے ہوتا ہے سامنا جس دن
دور ہی سے سلام ہوتا ہے
دل کو روکو کہ چشم گریا ں کو
ایک ہی خوب کام ہوتا ہے
آپ ہیں اور مجمع اغیار
روز دربار ِ عام ہوتا ہے
زیست سے تنگ ہیں نہ چھیڑ...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
دل کو بہلاؤں کہاں تک کہ بہلتا ہی نہیں
یہ تو بیمار سنبھالے سے سنبھلتا ہی نہیں
آپکا زور مرے دل پہ نہ کیونکر چلتا
کیا مرا حب کا عمل تھا کہ جو چلتا ہی نہیں
چمن دہر میں یہ عاشق ناکام ترا
وہ شجر ہے کہ کبھی پھولتا پھلتا ہی نہیں
نالہ نکلا کبھی...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو
خلش کیوں ہو، طپش کیوں ہو، قلق کیوں ہو، فغاں کیوں ہو
مزا آتا نہیں تھم تھم کے ہم کو رنج و راحت کا
خوشی ہو غم ہو جو کچھ ہو الٰہی ناگہاں کیوں ہو
یہ مصرع لکھ دیا ظالم نے میری لوح تربت پر
جو ہو فرقت کی...
غزل
(امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ)
ظاہر میں ہم فریفتہ حُسنِ بُتاں کے ہیں
پر کیا کہیں نگاہ میں جلوے کہاں کے ہیں؟
یارانِ رفتہ سے کبھی جاہی ملیں گے ہم
آخر تو پیچھے پیچھے اسی کارواں کے ہیں
ٹھکرا کے میرے سر کو وہ کہتے ہیں ناز سے
لو ایسے مفت سجدے مرے آستاں کے ہیں
شکوہ شبِ...
دیکھئے ، دیکھئے یوں نہ شرمائیے گا
پاس آکے نہ تڑپائیے گا
پاس آکے نہ تڑپائیے گا
دیکھئے ، دیکھئے یوں نہ شرمائیے گا
ہیں کتنی حسیں، ہیں کتنی جواں یہ انگڑائیاں
یہ خاموشیاں، یہ بیہوشیاں، یہ تنہائیاں
آج تو، آج تو دل میں رہ جائیے گا
پاس آکے نہ تڑپائیے گا
پاس آکے نہ تڑپائیے گا
دیکھئے ،...
وہ پاس رہیں یا دور رہیں
نظروں میں سمائے رہتے ہیں
اتنا تو بتا دے کوئی ہمیں
کیا پیار اسی کو کہتے ہیں
وہ پاس رہیں یا دور رہیں
نظروں میں سمائے رہتے ہیں
اتنا تو بتا دے کوئی ہمیں
کیا پیار اسی کو کہتے ہیں
چھوٹی سی بات محبت کی
چھوٹی سی بات محبت کی
اور وہ بھی کہی نہیں جاتی
کچھ وہ...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
یوں مٹا جیسے کہ دہلی سے گمانِ دہلی
تھا مِرا نام و نشاں، نام و نشانِ دہلی
لے گئے لوٹ کے اب شوکت و شانِ دہلی
پوربی، پہلے اُڑاتے تھے زبانِ دہلی
اس سے بڑھ کر نہیںمحشر میںکوئی طولِ حساب
بس یہی ہوگا کہ ہم اور بیانِ دہلی
نیّرؔ و...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
دل جگر سب آبلوں سے بھر چلے
مر چلے اے سوزِ فرقت ، مر چلے
کہتی ہے رگ رگ ہماری حلق سے
دم میں دم جب تک رہے خنجر چلے
راہ ہے دشوار و منزل دور تر
پاشکستہ کیا کرے؟ کیوں کر چلے؟
جس جگہ ٹھہرا دیا ،ٹھہرے رہے
جس طرف کو لے چلا رہبر،...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
لچکتی ہے بہت بارِ نظر سے
ہمارے ہاتھ لپٹا لو کمر سے
نہ روکا شامِ فرقت کو کسی نے
دوہائی دے رہا تھا میں سحر سے
اُنہیں فرحت کہ اس کا سر اُتارا
ہمیںفرصت کہ چھوٹے درد سر سے
خدا کی دین ہے غم ہو کہ شادی
یہ بندے لائے ہیںکیا اپنے گھر سے؟...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
حالِ دل تجھ سے، دل آزار، کہوں یا نہ کہوں
خوف ہے، مانعِ اظہار کہوں یا نہ کہوں؟
آخر انسان ہوں میں صبرو تحمل کب تک
سینکڑوں سُن کے بھی، دو چار کہوں یا نہ کہوں؟
آپ کا حال جو غیروں نے کہا ہے مجھ سے
ہیں مرے کان گناہ گار، کہوں یا نہ کہوں؟
نہیںچھپتی...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
میں نے چاہا جو تمہیں، اس کا گناہ گار تو ہوں
مگر اتنا تو سمجھ لو کہ وفادار تو ہوں
عمر بھر آپ نے مجھ کو کبھی اچھا نہ کہا
خیر اچھا نہ سہی آپ کا بیمار تو ہوں
یا خدا پرسش ِ اعمال کا دیتا ہوں جواب
بات کا ہوش کسے ہے ابھی...
اشعارِ رند
رند تخلص، سید محمد خان
تعارف:
رند تخلص، سید محمد خان خلف نواب سراج الدولہ غیاث الدین محمد خان نیشاپوری ، باشندہء فیض آباد ، مقیم لکھنؤ، شاگرد خواجہ حیدر علی آتش ۔ شعر صاف و عاشقانہ اچھا کہتے تھے۔ ان کے اشعار اراکینِ محفل کی نظر ہیں۔
ٹوٹے بت ، مسجد بنی، مسمار بُت خانہ ہوا
جب تو...