نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ذوق وہ کون ہے مُجھ پر جو تاسف نہیں‌ کرتا؟ - ذوق

    غزل (شیخ ابراہیم دہلوی متخلص بہ ذوقؔ) وہ کون ہے مُجھ پر جو تاسف نہیں‌ کرتا؟ پر میرا جگر دیکھ کہ میں‌ اُف نہیں‌ کرتا کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں‌اُن کے اور دم مرا جانے میں توقف نہیں‌ کرتا دل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہے دنیا کے زرو...
  2. کاشفی

    ذوق آنکھیں مری تلوؤں سے وہ مَل جائے تو اچھا - ذوقؔ

    غزل (شیخ ابراہیم دہلوی متخلص بہ ذوقؔ) آنکھیں مری تلوؤں سے وہ مَل جائے تو اچھا ہے حسرتِ پابوس نکل جائے تو اچھا جو چشمِ کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہتر جو دل نہ ہو بے داغ وہ جَل جائے تو اچھا بیمار ِ محبت نے لیا تیرے سنبھالا لیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا...
  3. کاشفی

    ذوق ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے - ذوقؔ

    غزل (شیخ ابراہیم دہلوی متخلص بہ ذوقؔ) ترے کوچے کو وہ بیمارِغم دارلشفا سمجھے اجل کو جو طبیب اور مرگ کو اپنی دوا سمجھے ستم کو ہم کرم سمجھے ، جفا کو ہم وفا سمجھے اور اُس پر بھی نہ سمجھے وہ تو اُس بُت سے خدا سمجھے تجھے اے سنگدل آرامِ جانِ مبتلا سمجھے پڑیں پتھر سمجھ پر...
  4. کاشفی

    داغ پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے؟ ابھی سن ہی کیا ہے؟ جو بیتابیاں ہوں اُنہیں آئیں‌گی شوخیاں آتے آتے نتیجہ نہ نکلا، تھکے سب پیامی وہاں جاتے جاتے یہاں آتے آتے نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی بہت دیر کی مہرباں آتے آتے...
  5. کاشفی

    داغ میں یہ ہزار جگہ حشر میں پُکار آیا - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) میں یہ ہزار جگہ حشر میں پُکار آیا کہ اور بھی کوئی مُجھ سا گناہ گار آیا؟ تمہاری شوخ مزاجی سے چھا گئی حیرت تمہیں قرار نہ آیا، مجھے قرار آیا شکستہ دل ہوئی کس کس طرح مری توبہ پیے ہوئے جو کوئی رندِ بادہ خوار آیا کبھی جو دھوپ کی گرمی سے رند چیخ...
  6. کاشفی

    امیر مینائی نہ کور باطن ہو، اے برہمن، ذرا تو چشمِ تمیز وا کر - امیر مینائی

    غزل (امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ) نہ کور باطن ہو، اے برہمن، ذرا تو چشمِ تمیز وا کر خدا کا بندہ، بتوں کا سجدہ، خدا خدا کر، خدا خدا کر جو اُٹھ کے پہلو سے انجمن میں، وہ دور بیٹھے ہیں مجھ سے جاکر تڑپ نے دردِ جگر کی دل کو پٹک دیا ہے اُٹھا اُٹھا کر قدم کو لغزش، زبان کو لکنت، ہے رعشہ...
  7. کاشفی

    امیر مینائی یہی سوزِ دل ہے تو محشر میں جَل کر - امیر مینائی

    غزل (امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ) یہی سوزِ دل ہے تو محشر میں جَل کر جہنم اُگل دے گا مجھ کو نگل کر جو شامِ شبِ ہجر دیکھی تو سمجھے قضا سر پر آئی ہے صورت بدل کر یہ میری طرف پاؤں محفل میں کیسے؟ ذرا آدمیت سے بیٹھو سنبھل کر بشر کیوں نہ ہو بے وطن ہو کے مضطر تڑپتی ہے، دریا سے...
  8. کاشفی

    امیر مینائی بندہ نوازیوں پہ خدائے کریم تھا - امیر مینائی

    غزل (امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ) بندہ نوازیوں پہ خدائے کریم تھا کرتا نہ میں گناہ ، تو گناہِ عظیم تھا کیا کیا نہ آفتوں کے رہے ہم کو سامنے یارب، شباب تھا کہ بلائے عظیم تھا دُنیا میں کچھ قیام نہ سمجھو کرو خیال اس گھر میں تم سے پہلے بھی کوئی مقیم تھا دُنیا کا حال، اہلِ عدم، ہے...
  9. کاشفی

    داغ تم آئینہ ہی نہ ہربار دیکھتے جاؤ - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) تم آئینہ ہی نہ ہربار دیکھتے جاؤ مری طرف بھی تو سرکار دیکھتے جاؤ یہ شامت آئی کہ اُس کی گلی میں دل نے کہا کھُلا ہے روزنِ دیوار دیکھتے جاؤ تمہاری آنکھ مرے دل سے بے سبب بیوجہ ہوئی ہے لڑنے کو تیار دیکھتے جاؤ ادھر تو آہی گئے اب تو حضرتِ زاہد یہیں...
  10. کاشفی

    داغ میرے پہلو سے وہ اُٹھے غیر کی تعظیم کو - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) میرے پہلو سے وہ اُٹھے غیر کی تعظیم کو بندگی کو بندگی، تسلیم ہے تسلیم کو ہے بڑی دولت، جو ہاتھ آجائے کوئی خوبرو اے مہوس ڈھونڈھتا ہے کہ کیا طلاؤ سیم کو آسماں دیتا ہے مجھ کو رنج ، غیروں کو خوشی واہ کیا کہنا ہے، کیا کہتے ہیں اس تقسیم کو اپنے دل کا...
  11. کاشفی

    وارداتِ قلب - محمد صدیق مسلم مالیگانوی

    وارداتِ قلب محمد صدیق مسلم مالیگانوی سب مجھے تکتے ہیں میرا دردِ پنہاں دیکھ کر یعنی آنکھوں میں مری اشکوں کا طوفاں دیکھ کر ہوتے ہوتے ہوگئے ہم اسقدر ایذا طلب تلوے کھجلاتے ہیں اب خارِ مغیلاں دیکھ کر یہ حیاتِ مختصر اور اس پہ اتنا ہے غرور اس لئے روتی ہے شبنم گل کو خنداں‌دیکھ کر المدد...
  12. کاشفی

    خود کردہ را علاجے نیست

    ایک معلم نے شاگرد کو ہدایت کی کہ گفتگو بفصاحت و بلاغت کرنا چاہئے۔ طالبعلموں‌نے تائید کی۔ ایک روز چلم کی چنگاری معلم صاحب کی پگڑی پر جاپڑی۔ شاگر د نے اطلاع کی ۔ " جناب استاد صاحب مولانا و مقتدانا قبلہ و کعبہ ام حضور کی دستار عظمت آثار پر ایک اخگر ناہنجار شرر بار آتشکدہء چلم سے پرواز کر کے شعلہ...
  13. کاشفی

    توبہ - واحد قریشی

    توبہ واحد قریشی کسی کے اندازِ کافری پر نمودِ رنگِ شباب!‌ توبہ ہمارے دل کا خدا ہی حافظ عذاب سا ہے عذاب! توبہ نماز پڑھنے کو پڑھ رہا ہوں خیال دل میں‌یہ آرہا ہے اگر کوئی سامنے سے اُٹھادے رُخ سے نقاب! توبہ تری نگاہوں کی مستیوں نے بتا دیا رازِ مے پرستی جہاں نظر آیا مجھ کو ساغر وہیں ہوئی...
  14. کاشفی

    دلبرِ صد عشوہ زا مطلوب ہے - حکیم آزاد انصاری

    غزل (حکیم آزاد انصاری) دلبرِ صد عشوہ زا مطلوب ہے خوبصورت تر بلا مطلوب ہے اہلِ دل ہوں، دلربا مطلوب ہے بندہ بننا ہے خدا مطلوب ہے بے وفا! کیا کہئیے، کیا مطلوب ہے طاقتِ ترکِ وفا مطلوب ہے اذن ہو تو عرضِ حالِ دل کروں طبع ِ نازک کی رضا مطلوب ہے اے وفا کے خبط! لےکچھ اور سُن اب...
  15. کاشفی

    عجب نہیں جو محبت مری سرشت میں ہے - عابد لاہوری

    غزل (عابد لاہوری) عجب نہیں جو محبت مری سرشت میں ہے یہی شرار نہاں روحِ سنگ و خشت میں‌ہے ابھی نگاہ پہ ہیں رسم و وہم کے پردے ابھی نگاہ طلسماتِ خوب و زشت میں ہے یہ رنگ و نور کے جلوے، یہ دلکشا نغمے صنم کدے ہیں کہ ذوق نظر بہشت میں ہے نہ بجلیوں کو خبر ہے نہ خوشہ چیں‌کو پتہ کہ اک...
  16. کاشفی

    ماہر القادری وہ اگر بے نقاب ہوجائے - ماہر ا لقادری

    غزل (ماہر ا لقادری) وہ اگر بے نقاب ہوجائے ہر نظر آفتاب ہوجائے دیکھ اس طرح مست آنکھوں سے پھول جامِ شراب ہوجائے اک نگاہِ کرم مِری جانب ذرہ پھر آفتاب ہوجائے تم اگر وقتِ نزع آجاؤ زندگی کامیاب ہوجائے کم سے کم اتنی میکشی تو ہو! روح غرقِ شراب ہوجائے منتشر کر نظام دُنیا کا ہر...
  17. کاشفی

    حفیظ جالندھری اب وہ نوید ہی نہیں، صوتِ ہزار کیا کرے - ابوالاثر حفیظ جالندھری

    غزل ابوالاثر حفیظ جالندھری اب وہ نوید ہی نہیں، صوتِ ہزار کیا کرے نخلِ امید ہی نہیں، ابرِ بہار کیا کرے دن ہو تو مہر جلوہ گر، شب ہو تو انجم و قمر پردے ہی جب ہوں پردہ درِ روئے نگار کیا کرے عشق نہ ہوتو دل لگی، موت نہ ہو تو خود کشی یہ نہ کرے تو آدمی، آخر ِ کار کیا کرے اہلِ ہوس بھی...
  18. کاشفی

    ساغر نظامی مکالمہء ساقی و سَاغر - ساغر نظامی

    مکالمہء ساقی و سَاغر (دربابِ رحلتِ علامہء اقبال رحمتہ اللہ علیہ) (از: ساغر نظامی) ساغر: کیا ہوا رندِ بلانوش تمام اے ساقی کیوں کھنکتے نہیں اب ساغر و جام اے ساقی عرق آگیں ہے یہ کیوں وقت سحر کا مکھڑا خاک آلود ہیں کیوں گیسوئے شام اے ساقی نہ ہے پیمانے میں پرتَو نہ مرے ساغر میں کیا ہوا...
  19. کاشفی

    ماتمِ اقبال - تلوک چند محرُوم

    ماتمِ اقبال تلوک چند محرُوم اقبال کی موت پر بپا ماتم ہے اے اہلِ سخن! بہت بڑا ماتم ہے نغموں سے کہو کہ آج نالے بن جائیں رضوانِ ریاضِ شعر کا ماتم ہے! ------------------- چمن را گلفشاں کردی و رفتی وطن را گلستاں کردی ورفتی! زطبعِ خود کہ بودا بربقا بار سخن را جاوداں کردی ورفتی...
  20. کاشفی

    حفیظ ہوشیارپوری آہ ! اقبال - از: حفیظ ہوشیار پوری

    آہ ! اقبال از: حفیظ ہوشیار پوری سرورِ رفتہ باز آید کہ ناید نسیمے از حجاز آید کہ ناید سرآمدروزگارِ ایں فقیر ے دگر دانائے راز آید کہ ناید (اقبال) کوئی اقبال کا ثانی جہاں میں پس از عُمرِ دراز آئے نہ آئے حقیقت آشنائے عشق و مستی پھر اے بزمِ مجاز! آئے نہ آئے شکستہ تار ہیں سازِ خودی کے وہ...
Top