نتائج تلاش

  1. کاشفی

    داغ میرے دل کو دیکھ کر، میری وفا کو دیکھ کر - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) میرے دل کو دیکھ کر، میری وفا کو دیکھ کر بندہ پرور منصفی کرنا، خدا کو دیکھ کر ہم اِنہی آنکھوں سے دیکھیں گے ترا حسن و جمال گر یہی آنکھیں رہیں ا پنی ، خدا کو دیکھ کر اب تو دیکھا تم نے اپنے داد خواہوں کا ہجوم اب تو آنکھیں کھُل گئیں...
  2. کاشفی

    امیر مینائی جان تن سے جو تڑپ کر شبِ فرقت نکلی - امیرؔ مینائی

    غزل (امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ) جان تن سے جو تڑپ کر شبِ فرقت نکلی دل نے خوش ہو کے کہا ایک تو حسرت نکلی بہرِ نظارہ جو قرآن میں بھی دیکھی فال لن ترانی کے سوا اور نہ آیت نکلی ہاتھ تک مفتی و قاضی کو لگانے نہ دیا دخترِ رز تو بڑی صاحبِ عصمت نکلی بڑھ گئی حسن پرستی کی مجھے حرص...
  3. کاشفی

    اہل حق پرست ایم کیو ایم کی 26ویں یوم تاسیس کے موقع پر تہنیتی گلدستے قبول فرمائیں

    اہل حق پرست ایم کیو ایم کی 26ویں یوم تاسیس اہل وطن اور اہل حق پرست کو اہلِ کراچی کی طرف سے یوم تاسیس کے موقع پر تہنیتی گلدستے پیش کیئے جاتے ہیں قبول فرمائیں۔
  4. کاشفی

    داغ اے وعدہ فراموش رہی تجھ کو جفا یاد - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) اے وعدہ فراموش رہی تجھ کو جفا یاد یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد ہے کیا یاد وہ سُنتے ہیں کب دل سے مری رام کہانی فرماتے ہیں، کچھ اور بھی ہے اسکے سوا یاد؟ بندے سے ہے کیوں پرسشِ اعمال الٰہی؟ انسان کو رہتی ہے کہاں‌اپنی خطا یاد؟ اُستاد نے اچھا...
  5. کاشفی

    ولی دکنی بیوفائی نہ کر خدا سے ڈر - ولی دکنی

    غزل ( استاد زماں سخنورانِ ہند سالک ازلی جناب مغفرت مآب ولی الدّین احمد آبادی المتخلص بہ ولی ) بیوفائی نہ کر خدا سے ڈر جگ ہنسائی نہ کر خدا سے ڈر ہے جدائی میں زندگی مشکل آ جدائی نہ کر خدا سے ڈر آر سی دیکھ کر نہ ہو مغرور خودنمائی نہ کر خدا سے ڈر اے ولی غیر آستانہء یار جبھ سائی...
  6. کاشفی

    آتش طریقِ عشق میں مارا پڑا ، جو دل بھٹکا - حیدر علی آتش

    غزل (حیدر علی آتش) طریقِ عشق میں مارا پڑا ، جو دل بھٹکا یہی وہ راہ ہے جس میں ہے جان کا کھٹکا نہ بوریا بھی میسّر ہوا بچھانے کو ہمیشہ خواب ہی دیکھا کیے چھپر کھٹ کا شبِ فراق میں اُس غیرتِ مسیح بغیر اُٹھا اُٹھا کے مجھے، دردِ دل نے دے پٹکا پری سے چہرہ کو اپنے وہ نازنیں...
  7. کاشفی

    شباب آیا، کسی بُت پر فدا ہونے کا وقت آیا - ہری چند اختر

    غزل (ہری چند اختر) شباب آیا، کسی بُت پر فدا ہونے کا وقت آیا مری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیا تکلّم کی خموشی کہہ رہی ہے حرفِ مطلب سے کہ اشک آمیز نظروں سے ادا ہونے کا وقت آیا اُسے دیکھا تو زاہد نے کہا، ایمان کی یہ ہے کہ اب انسان کو سجدہ روا ہونے کا وقت آیا خدا جانے یہ ہے...
  8. کاشفی

    ذوق وقتِ پیری شباب کی باتیں - ذوق

    غزل (شیخ ابراہیم دہلوی متخلص بہ ذوقؔ) وقتِ پیری شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں اُسکے گھر لے چلا مجھے دیکھو دلِ خانہ خراب کی باتیں واعظا چھوڑ ذکرِ نعمت خُلد کر شراب و کباب کی باتیں تجھ کو رسوا کریں گی خوب، اے دل تیری یہ اضطراب کی باتیں سُنتے ہیں اُس کو چھیڑ چھیڑ...
  9. کاشفی

    انیس رنجِ دُنیا سے کبھی چشم اپنی نم رکھتے نہیں - میر ببر علی انیس

    مرثیہ (میر ببر علی انیس) رنجِ دُنیا سے کبھی چشم اپنی نم رکھتے نہیں جُز غمِ آلِ عبا ہم اور غم رکھتے نہیں کربلا پُہنچے زیارت کی ہمیں پروا ہے کیا؟ اب ارم بھی ہاتھ آئے تو قدم رکھتے نہیں در پہ شاہوں کے نہیں جاتے فقیر اللہ کے سر جہاں رکھتے ہیں سب، ہم واں قدم رکھتے نہیں...
  10. کاشفی

    داغ کوئی پھرے نہ قول سے، بس فیصلہ ہوا - داغ دہلوی

    غزل (داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ) کوئی پھرے نہ قول سے، بس فیصلہ ہوا بوسہ ہمار ا آج سے ، دل آپ کا ہوا ماتم ہمارے مرنے کا اُنکی بلا کرے اتنا ہی کہہ کے چھوٹ گئے وہ، بُرا ہوا آباد کس قدر ہے، الٰہی، عدم کی راہ ہر دم مسافروں کا ہے تانتا لگا ہوا اے کاش، میرے تیرے لیئے کل...
  11. کاشفی

    ذوق جُدا ہوں یار سے ہم، اور نہ ہوں رقیب جُدا - ذوقؔ

    غزل (شیخ ابراہیم دہلوی متخلص بہ ذوقؔ) جُدا ہوں یار سے ہم، اور نہ ہوں رقیب جُدا ہے اپنا اپنا مقدر جُدا نصیب جُدا دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بُتِ کافر تو چیخ اُٹھے مؤذن جُدا خطیب جُدا جُدا نہ دردِ جُدائی ہو، گر مرے اعضا حروفِ درد کی صورت ہوں، ہے طبیب جُدا ہے اور علم...
  12. کاشفی

    امیر مینائی جب تلک ہست تھے، دشوار تھا پانا تیرا - امیرؔ مینائی

    غزل (امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ) جب تلک ہست تھے، دشوار تھا پانا تیرا مٹ گئے ہم، تو مِلا ہم کو ٹھکانا تیرا نہ جہت تیرے لیئے ہے نہ کوئی جسم ہے تو چشم ظاہر کو ہے مشکل نظر آنا تیرا شش جہت چھان چُکے ہم تو کھُلا ہم پہ حال رگِ گردن سے ہے نزدیک ٹھکانا تیرا اب تو پیری میں نہیں...
  13. کاشفی

    سودا بولو نہ بول شیخ جی ہم سے کڑے کڑے - سوداؔ

    غزل (مرزا محمد رفیع دہلوی متخلص بہ سوداؔ) بولو نہ بول شیخ جی ہم سے کڑے کڑے یہاں چٹ کیئے ہیں اس سے عمامہ بڑے بڑے کیا میکدے میں آ کے چومے گا محتسب؟ پیوینگے اُس کی ضد سے تو اب ہم گھڑے گھڑے قامت نے تیرے باغ میں جا خطِ بندگی لکھوا لیا ہے سردِ چمن سے کھڑے کھڑے ملجا گلے سے...
  14. کاشفی

    اشعارِ غمگین ؔ میر سید علی دہلوی

    اشعارِ غمگین ؔ میر سید علی دہلوی تعارف شاعر: غمگین ؔ تخلص ، نام میر سید علی خلف سید محمد دہلوی برادر شاہ نظام الدین احمد قادری - ناظم صوبہء دہلی شاگرد سعادت یار خان رنگین کے ہیں۔ ان کے بارے میں اتنی ہی معلومات حاصل ہوئی۔۔ غمگین مت ہوئیے اشعار پڑھیئے مضطرب تھا دل اپنا جون...
  15. کاشفی

    اشعارِ عارف ؔ زین العابدین خان دہلوی

    اشعارِ عارف ؔ زین العابدین خان دہلوی تعارف شاعر: عارف ؔ تخلص نواب زین العابدین خان دہلوی خلف نواب غلام حسین خان متخلص بہ خسرو شاگرد نصیر و اسد اللہ خان غالب رحمتہ اللہ علیہ 1268ھ بارہ سو اٹھسٹھ ہجری میں انتقال کیا۔ شعر انکے بہت اچھے ہوتے ہیں ۔ مکمل کلام ان کا ڈھونڈ نہیں پایا اگر کسی کے...
  16. کاشفی

    امیر مینائی مر چلے ہم مر کے اُس پر مر چلے - امیرؔ مینائی

    غزل (امیرؔ مینائی رحمتہ اللہ علیہ) مر چلے ہم مر کے اُس پر مر چلے کام اپنا نام اُس کا کر چلے حشر میں اجلاس کس کا ہے کہ آج لے کے سب اعمال کا دفتر چلے خونِ ناحق کر کے اک بے جُرم کا ہاتھ ناحق خون میں تم بھر چلے یہ ملی کس جرم پر دم کو سزا؟ حکم ہے دن بھر چلے شب بھر چلے...
  17. کاشفی

    سودا یہ میں بھی سمجھوں ہوں یارو، وہ یار یار نہیں - سوداؔ

    غزل (مرزا محمد رفیع دہلوی متخلص بہ سوداؔ) یہ میں بھی سمجھوں ہوں یارو، وہ یار یار نہیں کروں میں کیا کہ مرا دل پہ اختیار نہیں عبث تو سر کی مرے ہر گھڑی قسم مت کھا قسم خدا کی ترے دل میں اب وہ پیار نہیں میں ہوں وہ نخل کہ جس نخل کو قیامت تک بہار کیسی ہی آوے تو برگ و...
  18. کاشفی

    غم نہیں یہ کہ انتظار کیا - حیرت

    غزل (عبدالمجید حیرت) غم نہیں یہ کہ انتظار کیا بلکہ یہ ہے کہ اعتبار کیا بے تعلق ہی ہم تو اچھے تھے اس تعلق نے اور خوار کیا سچ تو یہ ہے کہ دیدہ و دل کو مفت ہی میں گناہ گار کیا ہو گیا اک سکون سا حاصل جب گریباں کو تار تار کیا ہو سکا جب نہ اور کچھ ہم سے شیوہء صبر، اختیار کیا...
  19. کاشفی

    آج پھر اُن کو گلستان میں خراماں دیکھا، عابد لاہوری

    غزل (عابد لاہوری) آج پھر اُن کو گلستاں میں خراماں دیکھا رنگ کو رقص میں، نکہت کو پرافشاں دیکھا گوشہء باغ میں اک ماہِ منّور چمکا اُفقِ ناز سے اک مہرِ درخشاں دیکھا پھر ہوئے روح میں اصنامِ تمنّا بیدار پھر وہی قاعدہ ء جلوہء جاناں دیکھا پھر درِ دل پہ جنوں آکے پکارا، ہشیار! پھر...
  20. کاشفی

    فانی اس کشمکشِ ہستی میں کوئی راحت نہ ملی جو غم نہ ہوئی - فانی بدایونی

    ٍغزل (فانی بدایونی) اس کشمکشِ ہستی میں کوئی راحت نہ ملی جو غم نہ ہوئی تدبیر کا حاصل کیا کہیئے تقدیر کی گردش کم نہ ہوئی اللہ رے سکونِ قلب اس کا، دل جس نے لاکھوں توڑ دئیے جس زلف نے دنیا برہم کی وہ آپ کبھی برہم نہ ہوئی غم راز ہے اُن کی تجلی کا جو عالم بن کر عام ہُوا دل نام ہے اُن کی...
Top