1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

ذوق جُدا ہوں یار سے ہم، اور نہ ہوں رقیب جُدا - ذوقؔ

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 15, 2010

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (شیخ ابراہیم دہلوی متخلص بہ ذوقؔ)

    جُدا ہوں یار سے ہم، اور نہ ہوں رقیب جُدا
    ہے اپنا اپنا مقدر جُدا نصیب جُدا

    دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بُتِ کافر
    تو چیخ اُٹھے مؤذن جُدا خطیب جُدا

    جُدا نہ دردِ جُدائی ہو، گر مرے اعضا
    حروفِ درد کی صورت ہوں، ہے طبیب جُدا

    ہے اور علم و ادب، مکتبِ محبت میں
    کہ ہے، وہاں کا مُعلم جُدا، ادیب جُدا

    فراقِ خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک
    الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جُدا

    کیا حبیب کو مُجھ سے جُدا فلک نے اگر
    نہ کر سکا مِرے دل سے غمِ حبیب جُدا

    کریں‌جُدائی کا کس کس کی رنج ہم ؟ اے ذوقؔ
    کہ ہونے والے ہیں سب ہم سے عنقریب جُدا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    واہ بہت خوب غزل ہے۔ شکریہ کاشفی صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ جناب سخنور صاحب۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,901
    بہت خوب جناب کاشفی صاحب عمدہ انتخاب ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,157
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    خوبصورت غزل ہے۔

    شکریہ کاشفی صاحب شیئر کرنے کیلیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ بیحد جناب شاہ حسین صاحب۔۔
     
  7. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ جناب محمد وارث صاحب۔۔
     
  8. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    شکریہ جناب پیاسا صحرا صاحب
     
  9. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    غزل
    (شیخ ابراہیم دہلوی متخلص بہ ذوقؔ)

    جُدا ہوں یار سے ہم، اور نہ ہوں رقیب جُدا
    ہے اپنا اپنا مقدر جُدا نصیب جُدا

    تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا
    رہے ہے کیونکہ گلستاں سے عندلیب جُدا

    دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بُتِ کافر
    تو چیخ اُٹھے مؤذن جُدا خطیب جُدا

    جُدا نہ دردِ جُدائی ہو، گر مرے اعضا
    حروفِ درد کی صورت ہوں، اے طبیب جُدا

    ہے اور علم و ادب، مکتبِ محبت میں
    کہ ہے، وہاں کا مُعلم جُدا، ادیب جُدا

    ہجوم اشک کے ہمراہ کیوں نہ ہو نالہ
    کہ فوج سے نہیں رہتا کبھی نقیب جُدا

    فراقِ خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک
    الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جُدا

    کیا حبیب کو مُجھ سے جُدا فلک نے اگر
    نہ کر سکا مِرے دل سے غمِ حبیب جُدا

    کریں‌جُدائی کا کس کس کی رنج ہم ؟ اے ذوقؔ
    کہ ہونے والے ہیں سب ہم سے عنقریب جُدا
     
  10. ہجـــــر

    ہجـــــر محفلین

    مراسلے:
    12
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Brooding
    بہت خوبصورت انتخاب ہے آپ کا
     

اس صفحے کی تشہیر